نئی دہلی :
گزشتہ 7 ماہ سے بھی زیادہ عرصہ سے ملک بھر سے آئے کسان دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ کسان مرکز ی حکومت کے ذریعہ منظور کئے گئے تین زرعی قوانین کو رد کرنے کی مانگ کررہے ہیں، اسی درمیان اتوار کو سنیکت کسان مورچہ نے کہا ہے کہ مانسون سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے باہر ہر روز 200 کسانوں کا ایک گروپ احتجاج کرے گا۔ وہیں ہریانہ کے جند میں مہیلا کسانوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ، کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا کہ ملک میں ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے اور اس ملک کے عوام کو بیدار ہونا چاہئے۔
اتوار کے روزسنیکت کسان مورچہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مانسون اجلاس شروع ہونے سے دو دن پہلے پارلیمنٹ کے اندر قوانین کی مخالفت کرنے کے لیے تمام اپوزیشن ممبر ان پارلیمنٹ کو ایک ’ چیلنج لیٹر‘ دیا جائےگا۔ کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ ہم اپوزیشن ممبر ان پارلیمنٹ سے بھی 17 جولائی کو پارلیمنٹ کے اندر ہر دن اس مدعے کو اٹھانے کے لیے کہیں گے اور کسان پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے گا۔ ہم اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ سے کہیں گے کہ پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرکے مرکز کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ جب تک سرکار اس مدعے کا حل نہیں کرتی تب تک سیشن کو نہیں چلنے دیں۔
بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ جب تک ہماری مانگیں نہیں سنیں گے ہم پارلیمنٹ کے باہر مسلسل احتجاج ومظاہرہ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہر کسان تنظیم کے پانچ لوگوں کو احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے کیلئے لے جایا جا ئے گا۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 19 جولائی سے شروع ہونے جار ہا ہے ۔ اس کے علاوہ کسان تنظیموں نے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سلنڈر کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف آٹھ جولائی کو ملک گیر احتجاج کی اپیل کی ہے۔ کسان تنظیموں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 8 جولائی کو اپنی گاڑیوں کو سڑک پر کھڑی کریں۔ اس کے علاوہ خواتین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ گیس سلنڈرکو سڑکوں پر لائیں اور احتجاج کا حصہ بنیں۔
وہیں اتور کے روز جند کے اوچانا میں مہیلا کسانوں کے دھرنے کو خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے اور اس ملک کے عوام کو بیدار ہونا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر زرعی قوانین کو لاگو کیا جا تا ہے کہ تو کسانوں کو چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے کے لیے مجبور کیا جائے گا ،کیونکہ ان کی زمین بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے ذریعہ چھین لی جائے گی۔
کسان رہنما راکیش ٹکیت نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کارپوریٹ کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھلے ہی مرکز کسانوں سے بات کرلیں، لیکن انھیں کارپوریٹ چلا رہے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ جب بھی حکومت تیار ہوگی ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں،لیکن وزیر زراعت یہ کہہ کر اسے مشروط کیوں بنا رہے ہیں کہ وہ زرعی قوانین واپس نہیں لیں گے؟
راکیش ٹکیت کے علاوہ کسان رہنما بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ کسان مشروط بات نہیں کریں گے۔ راجیوال نے کہا کہ لیڈر شرائط کے ساتھ زرعی قوانین کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، ہم ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن تبھی جب وہ قوانین کو رد کرنے کے لیے رضامند ہوں۔وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یکم جولائی کو زور دے کر کہا تھا کہ سرکار ان قوانین کو رد کرنے کی مانگ کو چھوڑ کر احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔









