نئی دہلی :(پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے حزب مخالف کی تمام پارٹیوں کے سربراہان اور راجیہ سبھا کے معزز ممبران کو خط لکھ کر استد عا کی کہ اگر یونیفارم سول کوڈ بل2020 راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے تو اس کو سب مل کر مسترد کر دیں۔ویلفیئر پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے خط میں راجیہ سبھا کے معزز ممبران سے کہا کہ ہمیں ملک کے تنوع اور تکثیریت کو برقرار رکھنا ہے ،اس لئے کہ یونیفارم سول کوڈ بل دراصل ملک کی تہذیبی وفاقیت پر ایک حملہ ہے۔
خط میں کہا گیا یقینا ملک کے دستور کے بابIV کے رہنما اصولوں میں یونیفارم سول کوڈ کا ذکر ضرور آیا ہے تاہم رہنما اصولوں میں ان بہت سارے باتوں اور خوابوں کا تذکرہ ہے جنھیں ریاست کو پالیسی وضع کر تے وقت پیش نظر رکھنا چاہیے، ان کی حیثیت بنیادی اصولوں کی نہیں ہے۔ جب کہ اس کے بر عکس دستور کی کئی بنیادی حیثیت کی حامل دفعات میں اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ شہریوں کی مذہبی و تہذیبی شناخت کو ہر حال میں تحفظ ملنا چاہیے۔ جیسے دستور کی دفعہ 371 شمال مشرقی ریاستوں کی قبائلی طبقات کو یہ ضمانت دیتی ہے کہ ان کے رواجی قوانین اور رسومات کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور کو ئی ایسی قانون سازی نہیں کی جائے گی جوان کو متاثر کرے۔ اسی طرح دستور کی دفعہ25 مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تلقین و اشاعت کی آزادی فراہم کر تی ہے۔ یہ دستوری حمایتیں پامال ہو جائیں گی اگر یونیفارم سول کوڈ پورے ملک میں نافذ کیا گیا۔
خط میں آگے کہا گیا یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ نو آبادیاتی نظام میں بھی اٹھا تھا، جب بر طانوی حکومت نے 1835 میں ملک میں جرائم، شہادت اور معاہدات وغیرہ کے تعلق سے ملک میں یکساں قانون کی وکالت کی تھی تاہم اس وقت بھی بطور خاص ہندوئوں اور مسلمانوں کے فیملی لاز (پرسنل لاز) کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ۔
بی جے پی یونیفارم سول کوڈ کے اس متنازعہ مسئلہ کو چھیڑ کر دراصل شہریوں کے الگ الگ پرسنل لاز کو ختم کر کے ھندتوا کے اپنے ایجنڈے کو بروئے کار لانا چاہتی ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ھندوئوں کو پولارائز کر کے انتخابی فائدے حاصل کر سکے۔ خط میںحزب مخالف کے ممبران سے استدعا کی گئی اگر یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تو متحدہ طور پر اس کی پر زور مخالفت کریں۔ حزب مخالف کی متحدہ مخالفت دراصل حکومت کے اس منصوبے کو ناکام بنا دے گی جس کے تحت وہ پورے ملک کی اقلیتوں اور مذہبی اکائیوں کی مذہبی آزادی کو سلب کر نا چاہتی ہے۔










