کوہیما : (ایجنسی)
ناگا لینڈ میں فوج کی فائرنگ میں 14 شہریوں کی ہلاکت کےبعد غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔یہی نہیں سیکورٹی فورسز کو اضافی اختیارات دینے والے افسپا قانون کو واپس لینے کا مطالبہ بھی ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ ایک طرف ناگالینڈ کے سی ایم نیفیو ریو نے افسپا کو ہٹائے جانے کی مانگ کی ہے تو وہیں پڑوسی ریاست میگھالیہ کے سی ایم کونراڈ سنگما نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ سنگما نے پیر کو کہا کہ شمال مشرقی ریاست سے افسپا قانون واپس لیا جانا چاہئے۔ ناگا لینڈ کے ایک گاؤں میں عام شہریوں کو باغی سمجھ کر فوجیوں نے غلطی سے فائرنگ کردی تھی۔ ہفتہ کے اس واقعہ میں 14 شہریوں کی موت ہو گئی تھی اور اس پر غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
پیر کو ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اتنا ہی نہیں اس واقعہ سے پورے ناگالینڈ میں غم وغصہ ہے۔ چھوٹے ہوٹلوں سے لے کر دیگر تمام اداروں تک لوگوں نے پوسٹر لگا رکھے ہیں، جن میں شہریوں کے قتل کو دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ناگالینڈ میں بھی مختلف تنظیموں کی جانب سے 12 گھنٹے کے بند کی کال دی گئی ہے۔ بند کو بڑے پیمانے پر حمایت ملی ہے اور ناگالینڈ کی سڑکوں پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بازار بند ہیں اور گاڑیاں بھی کم چلتی نظر آرہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر جگہ افسپا کی مخالفت میں پوسٹر نظر آ رہے ہیں۔
اس معاملے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے اور فوجیوں پر اس میں جان بوجھ کر گولیاں چلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نیفیو ریو نے کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔ یہی نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ قانون ہندوستان کی شبیہ پر داغ کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ہر خاندان کو 11 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔










