لکھنؤ:
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویو میں کہہ دیا کہ یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو ٹھونکنا آتا ہے ۔ اکھلیش بھی بچ کر رہیں۔ ایک ویڈیو میں 2022 کے یوپی انتخابات کے بارےمیں ساکشی مہاراج کہتے نظر آرہے ہیں کہ ’’ ہم سے کہا، یوگی کو کمپیوٹر چالانا نہیں آتا ہے، انہیں تو ٹھونکنا آتا ہے ، تو ہم نے صحافیوں سے کہا اکھلیش کو سمجھا دو ٹھونکنا آتا ہے تو تھوڑا بچ کے رہیں، کہیں تمہارا نمبر نہ آجائے۔‘ وہ قبول کررہے ہیں کہ ٹھونکنا آتا ہے ، بدمعاشوں کو ٹھونکا نہیں جائے گا؟ دہشت گردوں کو ٹھونکا نہیں جائے گا؟ جن لوگوں نے ناجائز زمین پر قبضہ کر لیا انہیں ٹھونکا نہیں جائے گا ؟
بتادیں کہ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ پر کہا تاکہ انہیں کمپیوٹر چالانا بھی نہیں آتا ہے ۔ اس پر ساکشی مہاراج نےکہا کہ تو آپ کو اتنا اچھا وزیر اعلیٰ ملا ہے ،اتنا اچھا وزیر اعظم ملا ہے اور اتنا اچھا ایم ایل اے ملا ہے اور ہم تو شنکھ ہے، ساگر کے شنکھ۔ شنکھ سمجھ رہے ہو نا، ساگرکے شنگھ بجے توبجا لونہیں تو سبزی بناکے کھا لو۔ ہم کام آنے والےہیں آپ کے لئے ۔ مجھے ابھی لوک سبھا جانا ہے ،وہاں حاضری لگانی ہوتی ہے ، ووٹ پڑتا ہے ووٹ دینا ہوتا ہے ۔
بتادیں کہ سوامی سچیدانند ہری ساکشی مہاراج (پیدائش 12 جنوری 1956)، جنہیں ساکشی مہاراج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی اور دھارمک لیڈر ہیں۔ انہوں نے 2014 کا انتخاب اناؤ ،اترپردیش سے جیتا، انہوں نے 1991 میں متھرا، 1996 اور 1998 میں فرخ آباد سے انتخاب جیتا۔ وہ بدعنوانی کے الزام میں معطل ہونے سے پہلے 2000 سے 2006 تک راجیہ سبھا کے رکن بھی تھے۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ساکشی مہاراج گروپ کے بینرتلے بھارت بھر میں مختلف تعلیمی ادارے اور آشرم چلاتے ہیں۔ جس کے لیے وہ اس کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کررہے ہیں۔
وہ اپنے اسلاموفوبک خیالات کی وجہ سے تنازعات کا مرکز رہے ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مہم چلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ملک کا آخری الیکشن ہے۔











