اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ آج کی ملاقات نہ صرف غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن بات بات چیت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔
نتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کا کہ ’میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہو‘اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل کو دوبارہ حماس کی طرف سے خطرہ نہیں ہے۔‘انھوں نے اسرائیل کے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے بقول ’بربریت‘ کے خلاف ’شیروں کی طرح‘ لڑتے ہیں۔نتن یاہو کا کہنا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو زندہ اور مردہ 72 گھنٹوں کے اندر واپس کر دیا جانا چاہیے۔
امریکی اور اسرائیلی سربراہان کی نیوز کانفرنس کے اہم نکات
•’امن کے لیے ایک تاریخی دن‘
صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے اس منصوبے میں حصہ لیا ہے۔
•یرغمالیوں کی رہائی
امریکی صدر نے کہا کہ منصوبے کے حصے کے طور پر تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ غزہ کو ’غیر عسکری‘ بنایا جائے گا اور اسرائیل سکیورٹی کا دائرہ برقرار رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں ایک پرامن سویلین انتظامیہ ہوگی۔
•حماس کا خاتمہ
ٹرمپ نے کہا کہ حماس کا خطرہ ختم ہو جائے گا، عرب اور مسلم ممالک حماس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
امن بورڈ کا قیام
انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کی سربراہی میں امن بورڈ اس منصوبے کی نگرانی کرے گا، انھوں نے مزید کہا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بورڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
•حماس ابھی راضی نہیں
حماس ابھی تک اس معاہدے پر راضی نہیں ہوئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس ’انتہائی منصفانہ‘ تجویز کو قبول کرے۔ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینیوں نے حماس کے ساتھ ’مشکل زندگی‘ گزاری ہے ، لیکن اگر وہ ان کے منصوبے سے راضی نہیں ہوتے ہیں تو پھر انہی کو ہی قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔
•منصوبے سے اسرائیلی مقاصد کا حصول
اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے اسرائیل کے جنگی مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حماس کے غزہ میں رہنے کے لیے یہ ’خوفناک‘ جنگ نہیں لڑی گئی








