لکھنؤ :
یوپی اسمارک گھوٹالے معاملے میں بہوجن سماج پارٹی کے دو سابق وزراء پر ویجیلنس ڈپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے ، سابق وزیر نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا کو ویجیلنس سے نوٹس دیا گیا ہے ۔ نوٹس لکھنؤ اور نوئیڈا میں مایاوتی سرکار کے دوران اسمارکوں کی تعمیر میں 4200کروڑ کے گھوٹالے معاملے میں بھیجے گئے ہیں۔
ابھی تک اس معاملے میں 20 لوگ گرفتار ہو چکے ہیں ۔ اس گھوٹالے کی جانچ 2013 سے چل رہی ہے ۔
ایک لوک آیکت جانچ میں نسیم الدین صدیقی و کشواہا اور 12 بی ایس پی ایم ایل اے سمیت 199 لوگوں پر الزام لگنے کے بعد باضابطہ انکوائری شروع کی گئی تھی ۔ اب نسیم الدین صدیقی کانگریس میں ہے ۔
ٹائمز آف انڈیا نے محکمہ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ میں ایک ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا کے علاوہ 40 سرکاری عہدیداروں کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے ، جو مایاوتی سرکار میںسروس میں تھے ۔
واضح رہے کہ 2007 سے لے کر 2012 کے درمیان لکھنؤ اور نوئیڈا میں پارک اور اسمارکیں تعمیرکی گئی تھیں، رپورٹس کے مطابق اسمارکوں میں لگے گلابی پتھروں کی سپلائی مرزا پور سے ہوئی تھی ، لیکن انہیں راجستھان کے راستے لایا گیا۔ اس سے سرکاری خزانہ کو کافی نقصان ہوا تھا۔

اس معاملے میں ویجیلنس ڈپارٹمنٹ نے یکم جنوری 2014 کو گومتی نگر تھانے میں کیس درج کیا تھا۔ ملزمین کے خلاف آئی پی سی سیکشن 120 بی اور 409 کے تحت معاملہ درج ہوا تھا۔
ویجیلنسحکام کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ منیجروں نے گلابی پتھر کو بہت زیادہ قیمتوں پر خریدا تھا۔ معاملے میں پہلی چارج شٹ اکتوبر 2020 کو داخل کی گئی تھی ۔









