نئی دہلی:
اگلے سال ہونے والے پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلےبھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے سکھ لیڈروں اور کارکنان کے ایک طبقہ میں اس بات کو لے کر ناراضگی ہے کہ اقلیتی محاذ کے عہدیداروں کی نئی فہرست میں ان کی برادری کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق اسی ہفتے بی جے پی نے اپنی قومی اکائی کے طور پر مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے چھ نائب صدور، تین جنرل سکریٹریوں، سات سکریٹریوں ، ایک خزانچی اور ایک میڈیا و سوشل میڈیا انچارج کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔
بی جے پی کے ایک سکھلیڈرنےجو اپنانام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فہرست زیادہ تر مسلم لیڈروں اور کارکنان اور کچھ مٹھی بھر عیسائیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب پارٹی کو صحیح لگتا ہے ، تو ہمارےساتھ اقلیتوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے اور جب نہیں لگتا ، تو ہم توسیع پسند ہندو- پنتھ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کئی لوگ اس جانب توجہ مبذول کر رہے ہیں کہ پہلے بھی سکھ کمیٹیوں کا حصہ نہیں تھے۔ اگر ایسا ہے تو پارٹی کو بدلاؤ کرنے سے کون روک رہا ہے ۔
جہاں بی جے پی نے اس معاملےپر تبصرے کرنے سے انکار کیا ، وہیں ایک پارٹی عہدیدار نے جو فہرست تیار کرنے کے عمل میں شامل تھے ، اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ ’ پارٹی سکھوں کو توسیع پسند ہندوؤں کے طور پر دیکھتی ہے لہٰذا ہم انہیں اقلیت نہیں سمجھتے ہیں۔لیڈر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہاکہ اس لئے انہیں اقلیتی فہرست میں شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔










