اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر حماس نے غیر مسلح ہونے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تو غزہ شہر کو تباہ کر دیا جائے گا۔
اسرائیل کاٹز کا یہ بیان اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر بڑے پیمانے پر حملے کے منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔پیر کے روز حماس نے قطر ی اور مصری ثالثوں کی جانب سے 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر رضامندی ظاہر کی تھی جس میں قطر کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ غزہ میں باقی اسرائیلی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کیا جائے گا۔لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بظاہر اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ’اسرائیل کے لیے قابل قبول‘ شرائط پر مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ 50 یرغمالیوں میں سے صرف 20 افراد 22 ماہ سے جاری جنگ کے بعد بھی زندہ ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں کو نئے سرے سے مذاکرات کے لیے بھیجا جائے گاجمعرات کی رات اسرائیل میں غزہ ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے ’اپنے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لئے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’میں غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کے منصوبوں کی منظوری دینے آیا ہوں۔‘نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’حماس کو شکست دینے اور ہمارے تمام یرغمالیوں کی رہائی جیسے دو معاملات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔‘
نیتن یاہو کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جلد ہی غزہ میں حماس کے قاتلوں اور شدت پسندوں کے سروں پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، جب تک کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لئے اسرائیل کی شرائط پر اتفاق نہیں کرتے، بنیادی طور پر تمام یرغمالیوں کی رہائی اور ان کی تخفیف اسلحہ اس وقت سب سے اہم بات ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ راضی نہیں ہوئے تو حماس کا دارالحکومت غزہ، رفح اور بیت حنون بن جائے گا۔‘
واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد سے رفع اور بیت حنون دونوں ہی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چُکے ہیں۔








