اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بھارت کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بھارت کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟
78
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: سروج سنگھ

طالبان نے جس رفتار سے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کیا ہے شاید اس کی توقع ديگر ممالک کیا بلکہ خود افغانستان کی حکومت نے بھی نہیں کی تھی۔

اگر انھیں کوئی ایسی توقع ہوتی تو افغانستان کے صدر اشرف غنی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں سے خطاب کے اگلے ہی دن ملک چھوڑ کر نہ جاتےاور نہ ہی امریکہ ہنگامی حالت میں اپنا سفارتخانہ بند کرتا اور اپنے شہریوں کو اتنی جلدی افغانستان سے نکالنے کا آپریشن کرتا۔

اشرف غنی کی حکومت اور امریکہ کے علاوہ آج بھارت بھی عجیب پوزیشن میں ہے۔ ایک طرف جہاں چین اور پاکستان طالبان سے ’بہتر تعلقات‘ کی وجہ سے کابل میں ہونے والی نئی پیش رفت کے بارے میں پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں، دوسری طرف بھارت اس وقت اپنے شہریوں کو جلد از جلد کابل سے نکالنے میں مصروف ہے۔ بھارت نے آج (منگل) کابل سے اپنا سفارتی عملہ نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

بھارت نے کبھی بھی باضابطہ طور پر طالبان کو تسلیم نہیں کیا، لیکن رواں برس جون میں طالبان اور بھارت کے درمیان ’بیک چینل بات چیت‘ کی اطلاعات ہندوستانی میڈیا میں نمایاں رہیں۔ حکومت ہند نے ’مختلف سٹیک ہولڈرز‘ سے بات چیت کرنے سے متعلق بیان بھی جاری کیا۔

لیکن کس کو معلوم تھا کہ دو مہینوں میں صورتحال یکسر بدل جائے گی۔ تو اب بھارت کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

بھارت اور افغان طالبان کا تعلق

بھارت کی جانب سے اب تک طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بھارت- افغانستان میں اپنے مشنز پر ماضی میں ہونے والی حملوں کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

بھارتمیں1999 میں آئی سی 814 طیارے کی ہائی جیکنگ اور اس کے بدلے میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر، احمد زرگر اور شیخ احمد عمر سعید کی رہائی کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔

اس کے علاوہ اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے بھارت کے صدر غنی کی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے تھے جو تاریخی طور پر کافی خوشگوار رہے ہیں، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں حکومت ہند نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں میں تقریباً تین ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پارلیمان کی عمارت سے لے کر سڑکیں اور ڈیم بنانے تک کے کئی منصوبوں میں سیکڑوں بھارتیہ ملازمین کام کر رہے ہیں۔

افغانستان میں تقریباً 1700 ہندوستانی شہری رہتے ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں میں بہت سے لوگوں کے افغانستان چھوڑنے کی اطلاعات آئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایئر انڈیا کا ایک طیارہ تقریباً 130 مسافروں کے ساتھ اتوار کو دلی واپس آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب کابل ایئرپورٹ سے تمام کمرشل پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

طالبان سے متعلق بھارت کا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟

شانتی میریٹ ڈی سوزا بھارت کی کوٹلیہ اسکول آف پبلک پالیسی میں پروفیسر ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں بھی کام کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ اب طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے اور جلد ہی وہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے ہیں۔‘

’ایسی صورتحال میں بھارت کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو بھارت افغانستان میں رہے یا پھر سب کچھ بند کر کے 90 کی دہائی کے کردار میں واپس آ جائے۔ اگر بھارت نے دوسرا راستہ اختیار کیا تو اس نے گزشتہ دو دہائیوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔‘ ’میں سمجھتی ہوں کہ پہلے قدم کے طور پر بھارت کو درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ بھارت افغانستان کی ترقی کے لیے جو کچھ کر رہا ہے وہ یہ کردار (علامتی یا کم سطح پر ہی صحیح) جاری رکھ سکے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندوستانی شہریوں کو وہاں سے نکالنا بھارت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند بات نہیں ہو گی اور جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ اچھا نہیں ہو گا۔

وہ اپنے اس مؤقف کے حوالے سے دلیل بھی دیتی ہے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ 15 اگست سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایک عبوری حکومت افغانستان میں اقتدار حاصل کرسکتی ہے لیکن اتوار کے بعد وہاں کے حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ طالبان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

’1990 میں جب افغانستان میں طالبان کا راج تھا تو بھارت نے کابل میں اپنے سفارتخانے کو بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھارت نے قندھار میں طیارہ ہائی جیکنگ کا واقعہ دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ انڈین مخالف دھڑوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔‘

’2011 میں بھارت نے افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنرشپ سے متعلق معاہدہ کیا جس میں بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ ہر طرح سے افغانستان کی حمایت کرے گا۔‘

بھارت سے متعلق طالبان کے رویے میں تبدیل

حالیہ دنوں میں طالبان کی طرف سے کوئی بھی ہندوستان مخالف بیان سامنے نہیں آیا۔ طالبان نے کبھی بھی افغانستان کی ترقی میں بھارت کے کردار کو غلط نہیں ٹھہرایا۔ طالبان میں ایک گروہ وہ بھی ہے جو بھارت کے ساتھ تعاون کا حامی ہے۔ جب آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا تو طالبان نے کہا تھا کہ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ بھارت کشمیر میں کیا کرتا ہے۔

کابل پر قبضے کے بعد سے اب تک کسی بھی طرح کے تشدد کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی زندگی بد سے بدتر ہو سکتی ہے۔ لیکن بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے واضح طور پر کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ طالبان ماضی سے قدرے مختلف ہوں۔ تو کیا طالبان نے چہرہ بدلا ہے یا آئینہ، اس پر ماہرین کی رائے منقسم ہے۔

’بھارت جلد بازی نہیں کرے گا‘

پروفیسر ہرش وی پنت دہلی میں واقع آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں اسٹریٹیجک سٹڈیز پروگرام کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال بھارت کی ترجیح اپنے شہریوں کو باحفاظت افغانستان سے نکالنا ہے۔ ’اس کے بعد بھارت دیکھے گا کہ آنے والے دنوں میں طالبان کا رویہ کیسا ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کب اور کیسے طالبان کو تسلیم کرتے ہیں اور طالبان بین الاقوامی سطح پر اپنی کیا ساکھ بناتے ہیں۔‘

پروفیسر پنت مزید کہتے ہیں کہ میڈیا میں طالبان سے بات کرنے کی بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ طالبان کو اب بھی عالمی سطح پر قبولیت کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ہرش وی پنت کہتے ہیں کہ بھارت طالبان سے بات چیت اسی وقت شروع کر سکتا ہے جب طالبان بھی مذاکرات پر راضی ہوں۔

’میڈیا میں طالبان کے بیان اور زمین پر ان کی کارروائی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ طالبان بھلے ہی کہہ رہے ہوں کہ وہ کسی سے انتقام نہیں لیں گے، کوئی خون ریزی نہیں کریں گے لیکن کئی صوبوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو پکڑا ہے، ان کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے۔‘

’طالبان کے نمائندے ماضی میں چین گئے تھے۔ وہاں انھیں یہ مشورہ ضرور ملا ہو گا کہ بین الاقوامی سطح پر اپنا امیج صحیح کریں لیکن برطانیہ امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے جس طرح کے ابتدائی اشارے ملے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ مغربی ممالک طالبان کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہے ہیں۔

’جس طرح امریکہ کے صدر کو افغانستان کے حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، اس سے یہ واضح ہے کہ مغربی ممالک طالبان کو اتنی جلد تسلیم کرنے والے نہیں۔‘

’جہاں تک بھارت کا سوال ہے جب بھی پڑوسی ملک میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو بھارت ان سے بات کرتا ہے۔ افغانستان میں بھی وہ ایسا ہی کرے گا لیکن تب جب صحیح وقت آئے گا۔ وہ صحیح وقت تب آئے گا جب بھارت کے ہم فکر ممالک بھی کوئی پیش رفت کریں اور طالبان کو تسلیم کریں۔‘

پروفیسر پنت مزید کہتے ہیں کہ ’بھارت طالبان سے مذاکرات کے لیے روس کی مدد لے سکتا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ بھارت کی نظریں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر بھی ہیں کہ مستقبل میں ان کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ 1990 میں پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے سب سے پہلے طالبان کو تسلیم کیا تھا۔‘

بھارت کے لیے چیلنجز

طالبان کا عروج 90 کی دہائی میں ہوا جب سوویت یونین کے فوجی افغانستان سے نکل رہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان کی تحریک پہلے دینی مدارس میں شروع ہوئی تھی۔ اس تحریک میں سنی اسلام کے بنیاد پرست عقائد کی تشہیر کی گئی۔ بعد میں انھوں نے پشتون علاقے میں امن و سلامتی کے قیام کے ساتھ ساتھ شریعت کے بنیادی اصولوں کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا۔

پروفیسر پنت کا خیال ہے کہ افغانستان میں حکمرانی کے لیے طالبان کے لیے کوئی ماڈل نہیں۔ ’ان کا اپنا ایک بنیاد پرست نظریہ ہے جسے وہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اب تک ان کا ایجنڈا امریکہ کو افغانستان سے نکالنا تھا جس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی ان کے تمام دھڑوں میں اتحاد رہے گا، ابھی یہ کہنا مشکل ہے۔‘

’جب تک افغانستان میں کسی نئے سیاسی عمل کا آغاز نہیں ہوتا اس وقت تک کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ طالبان کی ترجیح وہاں شرعی قانون نافذ کرنا ہو گی نہ کہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا۔ ایسی صورتحال میں بھارت اور طالبان کے درمیان نظریاتی اختلاف ہوں گے۔‘

ڈاکٹر ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے ساتھ بھارت کو تین سطحوں پر اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

’پہلا سیکورٹی سے متعلق، طالبان سے وابستگی رکھنے والے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کی شبیہ بھارت مخالف گروہوں کی ہے۔

’دوسرا بڑا چیلنج تجارت ہے، بھارت کو وسطی ایشیا میں تجارتی رابطے اور اقتصادی ترقی کے معاملات میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کی لوکیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے اسے افغانستان کا ساتھ ضروری ہے۔‘

’تیسرا مسئلہ چین اور پاکستان سے متعلق ہو گا جن کے طالبان سے تو اچھے تعلقات ہیں لیکن بھارت سے ان کے رشتے تاریخی طور پر تلخ ہیں۔‘

(بشکریہ: بی سی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN