اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بغاوت کے نوآبادیاتی قانون کی ضرورت کیا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
قومی بحران میں ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے:سپریم کورٹ
51
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

صلاح الدین زین (نئی دہلی)

سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بنچ کا کہنا ہے کہ آزادی سے قبل بغاوت کا جو قانون انگریز ہندوستانیوں کو دبانے کے لیے استعمال کرتے تھے اب شاید اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں آئے دن معمولی سی باتوں پر لوگوں کو حکومت سے بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اسی لیے اس قانون کی جوازیت کو چیلنج کیا گيا ہے۔

اس سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے کہا کہ یہ قانون برطانوی نو آبادیاتی دور کا ہے ۔ بنچ کا مزید کہنا تھا، ’’کیا آزادی کے 75 برس بعد بھی ہمارے ملک میں اس کی ضرورت ہے؟ ‘‘ عدالت نے کہا کہ یہ ’’ قانون حکومتی اداروں کے کام کرنے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘

عدالت نے کہا، ’’ اس قانون میں غلط طور پر استعمال ہونے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے جبکہ اس کا استعمال کرنے والی انتظامیہ بغیر کسی احتساب کے پوری طرح سے آزاد بھی ہے‘‘۔ عدالت نے اس کا موازنہ ایک بڑھئی سے کیا۔ عدالت عظمٰی نے کہا،’’اس کا بہت زیادہ غلط استعمال ہو رہا ہے۔ بغاوت کے قانون کا استعمال بالکل ایسے ہی جیسے بڑھئی کو لکڑی کا ایک ٹکڑا کاٹنے کے لیے آری دی گئی ہو اور وہ اسے خود پورا جنگل کاٹنے کے لیے استعمال کرتا ہو۔ سماج میں اس قانون کا یہی اثر ہے۔

اگر کسی بھی پولیس افسر کو گاؤں کے کسی بھی شخص کو کسی چیز کے لیے ستانا ہو تو وہ بس دفعہ 112 اے کا استعمال کر لے اور بس ۔۔۔۔۔۔ لوگ اس سے بہت خوف زدہ ہیں۔

ایک سبکدوش فوجی افسر نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور اسی کی عرضی پر عدالت نے مرکزی حکومت سے یہ سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی جوازیت کا جائزہ لے گی اور حکومت اس پر اپنی حتمی رائے پیش کرے۔ اس قانون کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ قانون بولنے کی آزادی پر برے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار پر غیر معقول پابندیوں کا سبب بنتا ہے۔

عدالت نے کہا،’’ اختلاف اس بات پر ہے کہ یا کلونیل دور کا قانون ہے ۔۔۔ برطانوی حکمرانوں نے جد وجہد آزادی کو دبانے کے لیے یہی قانون مہتما گاندھی کے خلاف بھی استعمال کیا تھا۔ کیا آزادی کے 75 برس بعد بھی ہمارے قانون کی کتاب میں ایسے قانون کے موجود رہنے کی ضرورت ہے؟ ‘‘

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس قانون کے غلط استعمال پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ ہم کسی ریاستی حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے لیکن ذرا دیکھو تو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قانون کا کس طرح بےجا استعمال کیا جا رہا ہے اور کتنے لوگ اس کی وجہ سے مصائب سے دوچار ہیں اور کوئی بھی اس کے لیے جوابدہ نہیں ہے۔‘‘

عدالت کا کہنا تھا کہ اس قانون کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے اسی لیے ایسے اکثر کیسز میں لوگ بری بھی ہو جاتے ہیں۔ کورٹ نے اس سے قبل بھی کئی مقدمات کی سماعت کے اس قانون کے استعمال پر اعتراض کیا ہے تاہم حکومتیں اس کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے پولیس اس کا استعمال کرتی ہے۔

بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مہم چلانے والے سینکڑوں کارکنان اور کسانوں کی احتجاجی مہم چلانے والے درجنوں رہنما اس وقت اسی ‘112 اے بغاوت کے قانون کے تحت جیلوں میں ہیں۔ بھارت نے جب کشمیر کی دفعہ 370 کو ختم کیا تھا تو اس وقت بھی اس نے سینکڑوں کارکنوں کو اسی قانون کے تحت گرفتار کیا تھا جس میں سے اب بھی بہت سے جیلوں میں ہیں۔

بہت سے صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور مذہبی شخصیات بھی اسی کیس کے تحت جیلوں میں قید ہیں کیونکہ اس کے تحت ضمانت پر رہا ہونا مشکل ہے۔

(بشکریہ ڈی ڈبلیو )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN