تحریر : مسعود جاوید
عقل کہتی ہے خاموش رہو یہ سب یو پی الیکشن میں ہندو مسلم لام بندی پولرائزیشن کے لئے کیا جا رہا ہے۔ دل روتا ہے کہ یہ ’’دھرم وشیس‘‘ کے لوگ ہی لقمہ تر کیوں؟ لعنت ہے ایسی سیاست پر جس میں نام نہاد سیکولر پارٹیاں لبرلز اور انسانی حقوق کے علمبردار دلت اور آدی واسی پر اتیاچار کے خلاف تو آواز اٹھاتے ہیں لیکن لاچار مسلمانوں پر ہجومی تشدد پر کچھ بولنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ 2013سے ملک کا مزاج اس طرح کا بنایا جا رہا تھا کہ’’ سیکولرازم‘‘ کا مفہوم ’’اقلیت بالخصوص مسلم خوشنودی حاصل کرنا‘‘ سمجھا جانے لگا۔ اس مفہوم کو میڈیا اور جلسے جلوسوں میں اتنی شدت سے پھیلایا گیا کہ اکثریتی فرقہ کی ایک بڑی تعداد بالخصوص کم پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی سیکورٹی اور روزگار کے مواقع کے کم ہونے کے خدشات سرایت کرتے گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کے بہت سے انصاف پسند غیر مسلم بھی ایسے ہجومی تشدد کے خلاف اٹھنے ، آواز اٹھانے اور مذمت کرنے سے بچتے ہیں۔ احتراز کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کو متشدد ہندو فرقہ پرست عناصر کی طرف سے مسلم دوست ہونے کا طعن و تشنیع کا ڈر ہوتا ہے ۔
ہندوستان میں تقریباً ہر سال کوئی نہ کوئی الیکشن ہوتا ہے کبھی مرکزی حکومت کے لئے جنرل الیکشن ، کبھی ریاستی حکومتوں کے لئے اسمبلی الیکشن تو کیا ہر بار ’ الیکشن کے مد نظر‘ تشدد کہہ کر مسلمانوں کو شکار ہونے دیا جائے؟ اس تناظر میں میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ملی تنظیموں کے سربراہان اس سنگین مسئلہ پر متحدہ موقف کیوں نہیں اختیار کرتے، نمائندہ وفد وزیراعظم سے ملاقات کیوں نہیں کرتا میمورنڈم کیوں نہیں پیش کرتا، پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتا۔ وزیراعظم نے دلتوں کے بارے میں کہا تھا کہ میرے دلت بھائیوں کو مت مارو…انہیں مسلمانوں کی اہمیت اور مسئلہ کی سنگینی کی طرف باضابطہ توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔ انہیں اور ملک کے انسان دوست بڑی اکثریت کو یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ ’’ مسلمانوں کی جانیں بھی معنی رکھتی ہی۔‘‘










