نئی دہلی :
حکومت نے آج پھر سے وہاٹس ایپ سے کہاہے کہ وہ نئی پرائیویسی پالیسی اور شرائط کو ہٹا دے۔ وزارت نے کہاکہ 15 مئی 2021 کے بعد پرائیویسی پالیسی کو مؤخر کرنے سے وہاٹس ایپ کو یہ چھوٹ نہیں مل گئی کہ وہ ہندوستانی صارفین کے لئے صارف کی پسند، ڈیٹا سیکورٹی اور اطلاع کی رازداری کے اقدار کااحترام نہ کرے۔
حکومت نے کہا ہے کہ پرائیویسی پالیسی 2021 میں تبدیلی اور ان تبدیلیوں کو شروع کرنے کے طور طریقے ہندوستانی صارفین کی ڈیٹا سیکورٹی اور ہندوستانی شہریوں کے حقوق اور مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
حکومت کے اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا وہاٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی اور شرائط کے اپ ڈیٹ سے کیا آپ کے ڈیٹا کی حفاظت کو خطر ہ لاحق ہے؟
وہاٹس ایپ اس وقت لوگوں کو میسیج بھیج رہا ہے کہ وہ اس کی نئی شرائط کو قبول کرلیں۔ جنہوں نے نئی شرائط قبول کی ہیں ان کو ان دنوں وہاٹس ایپ چیٹ کھولتے ہی ایک پاپ- اپ آ رہاہے جس میں کچھ شرائط بتائی جار ہی ہیں اور انہیں ماننے کے لیے کہا جا رہاہے، ایسے ہی میسیج فروری مہینے میں بھی آرہے تھے کہ اگر آپ نہیں مانتے ہیں تو آپ کی خدمات 8 فروری سے ختم ، لیکن بعد میں اس کی ٹائمنگ کو بڑھا دی گئی ۔ اب جو اس کے لئے 15 مئی کی تاریخ طے تھی اسے بھی فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے ۔
تاہم وہاٹس ایپ کی جو یہ نئی پرائیویسی پالیسی ہے وہ یورپ کے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ اس کو لے کر بھی سرکار نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اس نے یورپ میں صارفین کے مقابلے ہندوستانی صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک کا معاملہ اٹھایا ہے ۔
وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ جیسا کہ آپ واضح طور پر واقف ہیں ، کئی ہندوستانی شہری روزمرہ کی زندگی میں مواصلات کے لئے وہاٹس ایپ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہندوستانی صارفین پر غیر منصفانہ شرائط اور ضوابط پر عمل درآمد نہ صرف غلط ، بلکہ وہاٹس ایپ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے ، خاص طور پر وہ لوگ جو یورپ میں صارفین اور ہندوستانی صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ ‘
ان وجوہات سے الزامات تو یہی بھی لگایا جار ہا ہے کہ وہاٹس ایپ پر بھی آپ کو طرح طرح کے اشتہارات فیس بک کے ذریعہ دیکھنے کو ملیں گے جو آٹوفیشیل انٹلیجنس کے ذریعہ دکھائے جائیں گے اور آپ کی پسند کے مطابق ہی ہوں گے جیسے گوگل میں ہو رہا ہے۔ یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ وہاٹس ایپ کا پوری طرح سے کمرشیلائز کیا جائے گا اور آپ کی رازداری کی کوئی قیمت نہیں ہوگی۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا آپ سے متعلق ڈیٹا کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اور کمپنی اسے اپنے کسی بھی وابستہ اتحادی کمپنی سے شیئر کرسکتی ہے؟ کم از کم ماہرین توپالیسی اپ ڈیٹ ہونے کے بعد یہی الزامات عائد کررہے ہیں۔








