نوٹ:یہ مضمون ایک نقطۂ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ادارہ کا اس سے اتفاق ضروری نہیں ،قارئین کی رائے کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
تحریر : مسعود جاوید
چند مہینے قبل سنا تھا کہ مولانا ارشد مدنی صاحب نے امیر الہند کا منصب یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکارکردیا تھا کہ ان کی عمر ستر سے زائد ہو چکی ہے، امیر الہند کے منصب کے لئے کوئی فعال و متحرک شخص کو منتخب کیا جائے، لیکن برا ہو ایسی عقیدت کا کہ لوگوں نے ان کی ایک نہیں سنی اور امیر الہند کا عہدہ سونپ دیا۔ اگر میں نے جیسا سنا وہ صحیح ہے تو واقعی مولانا کی رائے بہت مناسب، عملی اور عہدہ کے مطابق تھی۔
مارگ درشک بہت باوقار عہدہ ہونے کے باوجود ان دنوں اڈوانی کی وجہ سے بدنام ہے ،تاہم 65-70 کے بعد والے بزرگوں کو مارگ درشک ( رہنما) بنانا اداروں کے لئے مفید ہوگا۔
عقیدت مندی میں غلو کی دوسری مثال امارت شرعیہ کے امیر شریعت کے انتخاب کے تناظر میں ہے مولانا اشتیاق صاحب خلیفہ حضرت شیخ نے امیر شریعت کے منصب پر فائز ہونے یا امیدوار بننے کے لئے راضی نہیں ہیں اور عذر میں اپنی پیرانہ سالی اور سلسلہ تصوف میں مشغولیت کا ذکر کیا ہے لیکن عقیدتمندوں کا اصرار ہے کہ وہ یہ منصب قبول کریں۔ امیر شریعت ہوں یا امیر الہند ، منصب کا تقاضا ہے کہ کام کرنے والا سرگرم شخص ہو۔
مذکورہ بالا دونوں شخصیتوں نے معقول عذر پیش کیا تھا اور ہے لیکن ’ بھکتوں‘کی عقیدتمندی غالب آ جاتی ہے۔
ہمارے زیادہ تر ملی اداروں میں صدر محترم، امیر شریعت محترم یا امیر الہند حضرت جب تک بقید حیات ہیں اپنے عہدے پر رہیں گے ریٹائرمنٹ کی عمر یا خدمات انجام دینے کی متعین عمر سال کی تحدید نہیں ہوتی!
اس میں شک نہیں کہ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ دینی و دنیوی امور سے بخوبی واقف تھے امارت میں کام کا طویل تجربہ تھا ،قوم و ملت بالخصوص مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور امارت کے ہمہ جہتی سرگرمیوں کو بخوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتے تھے اور دور اندیش تھے ، لیکن دوسرے ملی اداروں کے سربراہوں کی طرح انہوں نے بھی اپنے ادارے میں سکنڈ لائن تیار نہیں کیا، حالانکہ ان کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی اور کئی طرح کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ڈاکٹر کی زیرنگرانی دوا اور پرہیز ان کی زندگی کا لازمی جزو تھے ۔ بالفاظ دیگر ان کی صحت اور مرض کا تقاضا تھا کہ اپنے ایک نائب نامزد کرتے تاکہ وہ اس عرصہ میں اتنی تربیت اور تجربہ حاصل کر لیتے کہ عبوری دور میں ہی سہی بحیثیت قائم مقام امیر ادارے کا کام بغیر رکاوٹ کرتے رہتے۔ اگر مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے سکنڈ لائن کے لئے چند با صلاحیت لوگوں کی افراد سازی کیا ہوتا تو آج امارت شرعیہ جس انتشار کا شکار ہے، نہیں ہوتا۔
ایسی ہی کچھ صورت حال یا قدرے تفاوت کے ساتھ غالباًجمعیۃ کی ہو گی، اگر مولانا ارشد مدنی مدظلہ نے کسی معتمد کی تربیت یا سکنڈ لائن تیار نہیں کریں گے، لیکن ممکن ہے امارت میں جس طرح وراثت کی بنیاد پر امیر شریعت کے عہدے کی منتقلی کی مخالفت کی جا رہی ہے ، جمعیہ میں مخالفت کرنے والے نہ ہوں، وہاں خاندان میں سے کسی نام پر لوگ بیعت کر لیں۔
امارت شرعیہ کے ارکان شوری اور ارکان حل و عقد کی اکثریت نے بہر حال وراثت کی بنیاد پر منتقلی کی مخالفت کر کے جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے اور مخالفت برائے مخالفت کی بجائے دستورالعمل کے مطابق امیر منتخب کرنے پر اصرار کیا ہے یہ خوش آئند ہے۔
وارث اگر اہل ہو تو اس کی امیدواری فقط وراثت کی بنیاد پر رد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم امارت شرعیہ کا طرہ امتیاز دارالقضاء ہے اور دارالقضاء کا دارومدار فقہ پر ہے۔ ماضی میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نوراللہ مرقدہ نے اسے چار چاند لگایا تھا اس کا اعتراف امارت سے نسبت رکھنے والے ہر شخص کو ہے۔
معتبر ذرائع نے ، نام کے اظہار نہ کرنے کی شرط پر، بتایا ہے کہ امارت شرعیہ کے اسی طرہ امتیاز کے پیش نظر اکثریت کی رائے فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے حق میں ہے۔










