اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

وزیر اعظم کی کوئی بھی مخالفت ان کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
وزیر اعظم کی کوئی بھی مخالفت ان کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہے
61
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:| اپوروانند

‘خدا کا شکر ہے کہ وزیر اعظم محفوظ ہیں۔‘ٹیلی گراف نے طنزیہ سرخی لگائی۔’وزیراعظم نے پاکستان، خالصتان کے حامیوں اور کانگریس کی سازش کو ناکام بنایا۔‘ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک ویڈیو جاری کرکےدعویٰ کیا۔وہ سچ بتلانے کے لیےلوٹ آئے۔ ڈرامائی انداز میں ویڈیو پوچھتا ہے کہ اگر وزیراعظم اس راستے پر آگے بڑھتے تو کیا ہوتا؟ دنگا؟ حملہ؟ تشدد، خون خرابہ؟ وزیراعظم کے قتل کی سازش؟کیا وزیراعظم پر کوئی حملہ ہوا؟ کیا کہیں کوئی محاصرہ تھا؟ کیا وہ کسی پرتشدد ہجوم کے بیچ سے بچ کر نکل آئے؟انہوں نےآخر پاکستان اور خالصتان کے حامیوں اور کانگریس کی سازش کو کیسے ناکام بنایا؟‘

یہ سوال آج کے ہندوستان میں بیکار ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اپنی پارٹی کے سیاسی اجلاس میں جو سیاستدان جارہا تھا، اس کی مخالفت کا حق پنجاب کے کسانوں کو کیوں نہیں ہے۔ جمہوریت میں عوام کو وزیراعظم کے خلاف احتجاج کا حق نہیں ہے، یہ کس آئین میں لکھا ہے؟

وزیر اعظم کی ہر مخالفت ان کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہے؟ دنیا کی ہر جمہوریت میں سربراہ مملکت کے سامنے اس کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ امریکہ میں، آپ وہائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کر سکتے ہیں۔ کیااس سے امریکی صدر کی جان کو خطرہ ہونے کا شورآپ نے کبھی سنا ہے؟

اتنا ہنگامہ کیوں برپاہے؟ ہوا توبس یہی تھا نہ کہ نریندر مودی اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرنے سڑک کے راستے جا رہے تھے اور کسان راستہ گھیر کر بیٹھے تھے۔ یہ احتجاج وہ کسانوں کی تحریک کے دوران ہونے والی اموات اور وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے کے ہاتھوں کسانوں کی ہلاکت کا حساب لینے کےمطالبہ کے ساتھ کر رہے تھے۔ احتجاج اس لیے بھی ہوا کہ کسانوں کی موت پر وزیر اعظم نے اپنے ایک گورنر سے کہا کہ کیا وہ ان کے لیےمرے تھے کہ وہ کچھ کریں!

کیا ہندوستان کے خودمختار ووٹر کو اپنی حکومت کے سربراہ کو پابند کرنے کا حق نہیں ہے؟ یہ کون سا جمہوری قانون ہے کہ اگر عوام وزیراعظم کے سامنے آجائے گی تو ان کی جان کو خطرہ ہوجائے گا؟

لیکن نریندر مودی اور ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عوام کے اوپر ہے۔ جب وہ گزرے توسڑک عوام سے صاف دکھائی پڑنی چاہیے۔ اسےصرف جئے کارسننی ہے، احتجاجی نعرے گستاخی ہیں۔چوں کہ کسان راستہ روک کر بیٹھے تھے، وزیر اعظم کے قافلے کو ایک کیلومیٹر پہلے ہی روک دیا گیا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان سے کچھ وقت مانگا گیاکہ کسانوں کو ہٹایا جا سکے، انہیں متبادل راستہ بتایا گیالیکن وزیر اعظم نے گاڑی واپس گھمالی۔اسے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچ کر آگئے، کچھ بھی ہو سکتا تھا، کہ انہوں نے پاکستان کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ جیسے آپ کی مخالفت کررہی عوام سےمنھ چراکر بھاگ آنامورچہ فتح کرنے کی بہادری ہو۔اس پورےمعاملے میں سکیورٹی میں کوتاہی کہاں ہے؟ اس میں سازش کہاں ہے؟ کیوں سارا میڈیاایک سُر میں اس کووزیر اعظم کی سکیورٹی کےساتھ کھلواڑ بتا رہا ہے؟ کیوں سپریم کورٹ اس معاملے کو فوری سماعت کے لیے ترجیح دے رہی ہے؟

معاملہ بہت صاف ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اصل بات یہ تھی کہ وزیراعظم کو خبر مل گئی تھی کہ لوگ جلسے میں نہیں آرہے ہیں۔ وہاں جا کر خالی گراؤنڈ سے پتہ چل جاتا کہ پنجاب میں ان کا خیرمقدم نہیں ہے۔اس ذلت سے بچنے کا ایک شاطرانہ طریقہ یہ تھا کہ پورے معاملے کو ڈرامائی موڑ دیا جائے۔میڈیا تیار بیٹھا ہے۔ ہر اخبار کا اداریہ یہ رہا ہے کہ وزیر اعظم آخر وزیر اعظم ہوتا ہے۔ وہ سیاست سےاوپر ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔نریندر مودی لیکن کبھی وزیر اعظم رہے نہیں۔ وہ ریاست اور ٹیکس دہندگان کے پیسے پر گزشتہ 7 سالوں سے اپنی پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پرچار کا ہی کام کر رہے ہیں۔ انہیں کبھی کسی نے نہیں کہا کہ وہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے انہی کے خلاف مہم نہیں چلا سکتے۔

اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی گئی کہ یہ بی جے پی اور اس وزیر اعظم ک خوبی ہے کہ جب بھی وہ کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرتے ہیں تو ان کی جان کو کسی نہ کسی طرح خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔جب سے وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ ہوئے تب سے اب تک کچھ وقت کےان کے قتل کی سازش کی کہانی کہی جانے لگتی ہے۔ لوگ گرفتار ہوتے ہیں، کچھ ثابت نہیں ہوتا، نئے خطرے کی سازش کی کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ابھی دھرم سنسد، مسلم خواتین کی نیلامی جیسے معاملوں میں حکومت کی خاموشی کی وجہ سے پوری دنیا میں نریندر مودی حکومت کی سخت تنقید کی جارہی تھی۔ پنجاب کے کسان ان سے ناراض ہیں ہی۔ اس ماحول کو بدلنے کا ایک ہی راستہ تھا: وزیراعظم کی جان کو خطرے کا ڈرامہ!

لیکن ایک واقعہ اور ہے۔ وہ یہی پنجاب، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کا انتخاب۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے ہندو ووٹر کو خالصتانی خطرے کا بھوت دکھانے پر وہ شایدڈر کے مارے بی جے پی کے سینےسے چمٹ جائے، کوشش یہی ہے۔ کسانوں کی تحریک کے دوران بی جے پی نے خالصتانی پریت کو اپنے ووٹروں میں زندہ کر دیا ہے۔ وہ اس کا استعمال کرکے ملک کوبچانے کے نام پر ووٹ حاصل کرناچاہتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ معاملے کو اتنابھیانک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پنجاب کو کسی طرح وفاقی کنٹرول میں لے لیا جائے۔ تمام وفاقی ریاستی ادارے متحرک ہو چکے ہیں۔ ایسے دکھایا جا رہا ہے جیسے ریاست ان کے کنٹرول میں ہے۔ بی جے پی کے اتحادی کیپٹن امریندر سنگھ نے صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کر ہی ڈالا ہے۔

جیسا کہ پریتم سنگھ نے دی وائر میں لکھا ہے کہ بی جے پی کی سیاست کے لیے پنجاب پر قبضہ بہت ضروری ہے۔ پنجاب کی وجہ سے اسے زرعی قوانین واپس لینے پڑے ہیں۔ یہ قوانین اس کارپوریٹ سرمائے کی توسیع کے لیے ضروری ہیں جس نے ہندوستان کو تقسیم کرنے والی بی جے پی کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔

اگر ان کو واپس لانا ہے تو پنجاب کو کنٹرول کرنا، اس کی کسان تنظیموں کو توڑنا ضروری ہے۔ وہ پنجاب کو کنٹرول کرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ کیایہ پورا ڈرامہ اس کی ایک سازش ہے؟ وزیراعظم کی سکیورٹی کے بہانے پورا میڈیا، بیوروکریسی، پولیس اور عدلیہ بھی اس کا راستہ ہمورار کرے گی؟اس کا فائدہ جیسا کہ ہم نے کہا، باقی ریاستوں بالخصوص اتر پردیش میں، خالصتان اور پاکستان کا خوف پیدا کرکے محب وطن عوام میں سکھ دشمنی کو ہوا دے کر اٹھایا جائے گا۔ بی جے پی پہلے بھی ایسا کر چکی ہے۔

وہ شمالی ہندوستان میں کیرالہ، تمل ناڈو، بنگال کے خلاف مہم چلاتی رہی ہے۔ سکھوں کے خلاف ایک تعصب 40 سالوں سے ہندوؤں کے ذہن میں ہے۔ اس ڈرامے سے اس تعصب کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ڈرامہ مضحکہ خیز ہے۔ہنسا جا سکتا تھا اگر اس کے پیچھے جمہوریت کے اغوا کا شیطانی ذہن نہ ہوتا ۔

(بشکریہ: دی وائر: یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN