نئی دہلی:
ملک ودنیا میں یونانی نظام طب کی مقبولیت کے باوجود محکمہ آیوش مسلسل اس کو نظر انداز کرتا آرہاہے ۔ حالیہ معاملہ نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن ( این سی آئی ایس ایم ) ایکٹ -2020میں یونانی کو صحیح مقام نہیں دئے جانے کا ہے۔ طب یونانی کے ملک کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا یونانی طبی کانگریس نے آیوش وزیر سربانند سونیوال سمیت کئی مرکزی وزراء اور رکن پارلیمنٹ کو بھیجے گئے لیٹر میں ان کا دھیان اس جانب متوجہ کرایا ہے ۔
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے قومی صدر اورکیپ ٹاؤن یونیورسٹی جنوبی افریقہ کے سابق سربراہ پروفیسر مشتاق احمد نے محکمہ آیوش پر یونانی پیتھی کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اپنانے کاالزام عائد کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ آیوش نے یونانی پیتھی کو نقصان پہنچا کر آیوش وزرات کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے ۔ پروفیسر مشتاق کاکہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق مرکزی وزیر صحت راج نارائن کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے دیسی طبی نظام کی مکمل ترقی کے لیے ایک الگ وزارت آیوش تشکیل دی ۔
نومبر 2014 میں وزارت کی تشکیل کے ساتھ آیوروید سمیت بھارت میں تسلیم شدہ یونانی ، یوگ اور سدھا کو ملک میں یکساں طور پر تیار کیا جانا تھا،لیکن محکمہ آیوش نے یونانی نظام طب کا گلا گھونٹ دیا۔ این سی آئی ایس ایم کی تشکیل میں یونانی پیتھی کو سرسے نظر انداز کردیا جبکہ سی سی آئی ایم میں یونانی پیتھی اورآروید ساتھ – ساتھ تھے ۔
پروفیسر مشتاق نے کہا کہ این سی آئی ایس ایم کے تحت کمیشن میں چار ہیلتھ بورڈ کااعلان کیا گیا ہے ۔ اس میں آروید کے لیے الگ بورڈ کا التزام ہے جبکہ یونانی کا ملک میں کم مقبول سدھا اور سووا – رگپا بورڈ کے ساتھ انضمام کردیا گیا ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ آروید کی طرح یونانی ملک بھر میں مشہور روایتی طب ہے ۔ یونانی کے60 معیاری کالجز، 100 اسپتال اور 1500 ڈسپنسری ہونے کے باجود اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔
پروفیسر مشتاق نے مانگ کی ہے کہ این سی آر ایس ایم کی اس سنگین خرابی کو دور کرنے کے لیے ترمیمی بل دوبارہ پارلیمنٹ میں لایاجائے۔ انہوںنے کہاکہ وہ وزیر اعظم سمیت ملک کے انصاف پسند پارلیمنٹرینز کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں اس کا حل نکالا جائے اور یونانی کو این سی آئی ایس ایم میں اس کا صحیح مقام مل سکے ۔











