اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
186
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:شعیب رضا فاطمی

ایک مشہور اردو شعر کو استعمال کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ڈھونڈوگے کہاں ملکوں ملکوں ملنے کا نہیں نایاب تھا وہ جی ہاں بات اسی کمال خان کی ہو رہی ہے جسے 14 جنوری کی صبح نے مہلت نہیں دی کہ وہ اپنی سچی صحافت کا الکھ ابھی اور جگائے۔ وہ داستان سیاست سناتے سناتے سو گیا۔ ایک ایسی نیند جسے صور قیامت جگائے گی اور اس وقت جب وہ اٹھے گا تو بحیثیت صحافی نہیں بلکہ اللہ کے ایک نیک بندے کی حیثیت سے۔ اور اعلان ہوگا کہ اس خدا کے بندے کی جگہ جنت ہے کیونکہ اس نے دنیاوی زندگی میں حق گوئی کو ہی اپنا مذہب و مسلک سمجھا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسے ایک روز اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔

کمال خان کا یہی کمال تھا جس نے اسے مرنے کے بعد بھی سرفراز کر دیا۔ کمال خان اس ملک کا ایک صحافی ہی تو تھا۔ وہ بھی اس زبان کا صحافی جس زبان کی کوئی بین الاقوامی حیثیت نہیں۔ اس ملک کا صحافی جس ملک میں صحافی ہونے اور سرکاری دلال ہونے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس دور کا صحافی جب صحافت کے اقدار کی کوئی قیمت نہیں۔ اس اسلوب کا صحافی جو اس کا اپنا تھا۔

اس نے اپنی زندگی کو صحافت کے لئے وقف کر دیا تھا یا یوں کہیں کہ وہ صحافت کے ہاتھوں خود کو فروخت کر چکا تھا۔

لکھنؤی تہذیب کا پروردہ، رفتار و گفتار میں تناسب رکھ کر جب وہ اپنی رپورٹنگ کے پورے پیکیج کا مطلع ریکارڈ کراتا تھا تو اس کا عمیق مطالعہ اسے ایک ادیب بنا دیتا تھا۔ ایک ایک جملے میں تاریخ اور تہذیب کے سات در کھل جاتے تھے۔ منظر نگاری ایسی کی پوری رپورٹ کا ویزوول آنکھوں کے سامنے سلائیڈ کی طرح چلنے لگتے تھا۔ اور اس کا ٹھہرا ہوا لہجہ سامع کو اپنے حصار میں قید کر لیتا تھا۔

کمال کی سمجھ تھی اور بے پناہ مطالعہ نے اسے زباندانی کا ساحر بنا دیا تھا۔ وہ اپنی خبروں کے متن سے حظ اٹھاتا تھا۔ ایک ایک جملے سے شاعری کی شیرینی ٹپکتی تھی اور اس سے بھی جب اس کا دل نہیں بھرتا تو قدیم و جدید شعرا کے برمحل شعر کی پچی کاری کر دیا کرتا تھا۔

کمال خان کی ایسی تمام رپورٹ کو جرنلزم کا نصاب بنایا جا سکتا ہے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسل یہ سمجھ سکے کہ صحافت کو ادب پارہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ لفظوں کو برتنے کا فن کیا ہوتا ہے۔ اختصار کیا ہوتا ہے اور مختر نویسی صحافت کی شان کیوں ہے۔

کمال خان نہایت معتدل انسان تھے۔ میانہ روی ان کی خصلت تھی اور وہ انسانی اقدار کا پاس رکھنا جانتے تھے۔ یوں کہا جائے کہ وہ گنگا جمنی تہذیب جسے ملواں تہذیب کہنا زیادہ مناسب ہے کے نمائندہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ اجودھیا کے حوالے سے ان کی رپورٹنگ نے پورے ملک کے لوگوں کو متاثر کیا اور ان کی نمائندہ رپورٹنک میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

اس رپورٹنگ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو سننے کے بعد رام مندر بابری مسجد تحریک کے تمام ابعاد روشن ہوجاتے ہیں اور سامعین کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ رام چندر جی جیسی عظیم شخصیت کا جس طرح سیاسی استعمال ہوا ہے وہ ناقابل فراموش ہے اور آنے والی نسلوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ رام سیاست کے لئے نہیں بلکہ عقیدت کے لئے ہیں۔ ان کے عمل و کردار کو اپنائے بغیر ان کی بھکتی کا سارا دعویٰ فضول ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اپنی ایک رپورٹنگ میں کمال خان نے کیفی اعظمی کی نظم ’’دوسرا بن باس‘‘ کی قرات کی تھی تو نہ جانے کتنے ہندوستانیوں کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔ ان کا ٹھہرا ہوا لہجہ، اور اس میں گھلا ہوا درد و کرب وحشت و دہشت کے دیوثوں کو بے نقاب کر رہا تھا۔

اور ساتھ ہی رام چرتر مانس کی چنندہ چوپائیوں کو جب انہوں نے اس رپورٹ میں نگینے کی طرح جڑا تو ایسا لگتا تھا جیسے سیکڑوں صدیاں آنکھوں کے سامنے آ گئی ہوں۔

صحافت کو آسان سمجھنے والوں کو کمال خان کی محنت سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کمال خان نے یہ سارا کچھ بہت آسانی سے نہیں کیا۔ ہندی، اردو، انگریزی کے ساتھ ساتھ ساتھ ساتھ وہ روسی اور فارسی و سنسکرت زبان سے بھی واقف تھے۔ اودھی زبان کے چیدہ چیدہ لفظ جب وہ اپنی رپورٹنگ میں شامل کرتے تھے تو عام لوگ بھی اس رپورٹ کی حرف حرف سچائی کے قائل ہو جاتے تھے۔

ٹیلی ویژن رپورٹنگ کی بڑی خوبی یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس میں رپورٹر سامعین کے سامنے ہوتا ہے۔ اخباری رپورٹر کی طرح پردہ غیاب میں نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس سے اس کے مداح اسے شکل سے بھی پہچانتے ہیں لیکن یہ خوبی اس وقت بہت مہلک ثابت ہوتی ہے جب رپورٹر حق گو ہو اور اس کی حق گوئی حکومت وقت سے لے کر قانون شکنی کرنے والوں تک کو بے لباس کر دے۔ ایسے میں اس رپورٹر کی جان پر بن آتی ہے جبکہ اسے عوامی ہجوم کے درمیان اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔

کمال خان ایسے تمام جوکھم کو سمجھتے ہوئے رپورٹنگ کرتے تھے اور ان کی حتی الامکان کوشش یہی ہوتی تھی کہ وہ کسی کی دلازاری نہ کریں اور اس کے لئے ان کے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ اپنی رپورٹ میں ایسے الفاظ کا استعمال کریں جو ہتھیار کی طرح کاٹے نہیں بلکہ خوشبو کی طرح اندر تک اتر جائے اور سننے والا اس کے مفہوم کو سمجھنے کے باوجود اس کے سحر سے آزاد نہ ہو۔ اور اس کے لئے جس عمیق مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے کمال وہ کرتے تھے۔

آج جب ان کا انتقال ہو گیا ہے تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کی صحافتی فضا سوگوار ہے اور کاشی میں گنگا آرتی کے دوران پہلی بار کسی صحافی کے نام پر گنگا آرتی کی گئی ہو وہ بھی اس دور میں جب چند ہفتہ پہلے یہ اعلان کیا جا چکا ہو کہ اب اس آرتی میں مخصوص مذہب کے لوگوں کے سوا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔

مذہبی نفرت کےاس دور میں جھلملاتے دیپک کے درمیان کمال خان کی مسکراتی تصویر اور پس منظر سے ابھرتی آرتی کے مخصوص اشلوک اور گھنٹی کی آواز نے کروڑوں ہندوستانیوں کے دل پر جو اثر چھوڑا ہے اور ملواں تہذیب کو مجسم کیا ہے وہ بھی کمال خان کی شخصیت کا ایک نادر پہلو ہے۔ اور اس کو باقی رہنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ہمارے ملک کی اصل شناخت ہے۔ ہماری تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ جسے کمال خان کی موت نے ہمارے سامنے لا کر پیش کردیا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN