نئی دہلی :
سینئر صحافی اجیت انجم اور ہند ی نیوز چینل ’زی نیوز‘ کے اینکر سدھیر چودھری کے درمیان کے درمیان ایک ویڈیو انٹرویو کو لے کر ٹوئٹر پر وار دیکھنے کو ملا۔ ایک یوزر کے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے سدھیر چودھری نے اجیت انجم کے ’بے روزگار صحافی‘ بتا دیا ، جس پر سینئر صحافی نے کرارا جواب دیتے ہوئے زی نیوز کے ایڈیٹر کی بولتی بند کردی۔ وہیں اب چودھری سوشل میڈیا یوزر کے نشانے پر بھی آگئے۔ لوگ انہیں ٹرول کرتے ہوئے جم کر ان کی تنقید کررہے ہیں ۔”
دراصل اجیت انجم نے حال ہی میں اپنے یوب ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کیا تھا۔ جس میں وہ یوپی کے ایک بزرگ گرامین سے سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں ۔ انٹرویو کے دوران بزرگ نے پی ایم مودی ، سی ایم یوگی اور بی جے پی سرکار کی جم کر تعریف کی۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کو پہلے پاکستان اپنا حصہ مانتا تھا، لیکن آرٹیکل 370-کےہٹنے کے بعد وہ پوری طرح بھارت کا حصہ ہوگیا ہے۔”
وہیں روزگار کےسوال پر بزرگ گرامین نے واضح کیا ہے کہ لوگوں کو روزگار مل رہاہے اور کھیتی میں بھی روزگار بڑھا رہا۔اس دوران بزرگ نے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’ زی نیوز‘ اور سدھیر چودھری کا شو دیکھتے ہیں اور انہیں یہ سب وہیں سے معلوم ہواہے ۔
اپنے انٹرویو کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اجیت انجم نے ہندی میں ٹویٹ کیا، ’370ہٹنےسے کشمیر بھارت میں آ گیا، پہلے تو پاکستان میں تھا‘ مودی کے کٹر حامی اور ’زی نیوز‘ کے کٹر ناظرین سے حکمت کی باتیں سن لیجئے۔ مہنگائی کا ان کے لیے کوئی مطلب نہیں، چاہے ڈیزل 200 روپے ہو جائے ۔ مودی جی کے لئے سب قبول ہے۔‘
ویڈیو پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سدھیر چودھری نے لکھا ،’صحافی کی زبان میں یہ جو بھی آدمی ہے، اس نے ایک بزرگ آدمی کے منھ میں اپنے الفاظ ڈالنے کی پوری کوشش کی۔ جب نہیں ہوا تو اس کا مذاق اڑایا ۔ آخر میں وہ پریشان ہوگیا۔ یہ لوگ گاؤں والوں کو لاعلم اور بے قوف سمجھتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ہے ۔ یہ بے روزگار صحافی حسد کی آگ میں جل رہے ہیں ۔
اجیت انجم کے اس ٹویٹ پر ، تمام سوشل میڈیا صارفین بشمول سینئر صحافی بھی اس پر اپنے رد عمل دے رہے ہیں۔ اے بی پی نیوز کے سابق اینکر اور سینئر صحافی ابھیسار شرما نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ،کرارا جواب ۔ یہ آدمی کلنک ہے صحافت کے نام پر ۔ ایک ٹیچر کو بدنام کرکے اس نے اسے بھیڑ سے نوچوا دیا تھا۔ اس تہاڑ کے چینل کو ایک مہینے بند رہنا پڑا تھا، بیہودہ صحافی ہی نہیں انسان بھی ہے ۔
سدھیر چودھری کے ٹویٹ پر ونود کاپڑی نے اپنے لکھا ’’ اعداد وشمار جانتے ہوئے بھی نہیں بتاؤں گا،سدھیر ، پر جس سے تم بے روزگار کہہ رہے ہو، وہ صرف سچ اور ایمانداری کے سہارے صحافت کرکے ہر مہینے سرکار کی دہاڑی پر رکھے گئے تہاڑی فرقہ پرستوں سے دوگنا کما رہاہے ، اتنا کہ تم اپنے آپ کو بول کر آئی ٹی رائڈ کرا سکتے ہو۔











