اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

امریکہ میں 9/11 حملے: ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز زمین بوس کیوں ہوئے، سائنس کیا کہتی ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
امریکہ میں 9/11 حملے: ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز زمین بوس کیوں ہوئے، سائنس کیا کہتی ہے؟
30
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کارلوس سیرانو

11 ستمبر 2001 کی صبح دو بوئنگ767 طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکراتے ہیں۔ 110 منزلوں کے ساتھ یہ نیو یارک کی سب سے اونچی عمارت تھی۔ پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے آٹھ بج کر 45 منٹ پر ٹکرایا۔ عمارت میں 102 منٹ تک آتشزدگی رہی اور پھر 10 بج کر 28 منٹ پر یہ صرف 11 سیکنڈ میں گِر گئی۔

پہلے طیارے کی ٹکر کے 18 منٹ بعد ایک دوسرا طیارہ جنوبی ٹاور سے ٹکرایا۔ اس میں 56 منٹ تک آتشزدگی ہوئی اور پھر نو بج کر 59 منٹ پر یہ نو سیکنڈ میں گِر گیا۔

برونو ڈیلنجر شمالی ٹاور کی 47ویں منزل پر کام کرتے تھے اور اس حادثے میں وہ بچ گئے تھے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ ’عمارت کے گِرنے کی خوفناک آواز کے بعد کچھ دیر میں رات سا اندھیرا ہو گیا۔ کوئی آواز تھی نہ سانس۔‘

نیویارک کے میوزم میں 11 ستمبر کے حوالے سے ان کے بیان میں درج ہے کہ ’مجھے یقین تھا کہ میں مر گیا ہوں کیونکہ دماغ ایسی کسی چیز کو برداشت نہیں کر سکتا۔‘ ان حملوں میں 2606 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ایم آئی ٹی کے سول اینڈ انوائرمنٹل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ سے وابستہ سول انجینئر ایڈورڈو کوسیل کہتے ہیں کہ ’تمام سنجیدہ افراد کی جانب سے تسلیم شدہ جواب یہی ہے کہ یہ ٹاور دہشت گرد حملے کے نتیجے میں گِرے۔‘

9/11 حملوں کے بعد کوسیل نے کئی تحقیقات کی سربراہی کی جن میں ایم آئی ٹی کے ماہرین نے انجینئرنگ اور فن تعمیر کے اعتبار سے لینڈ سلائیڈ کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ کوسیل کے جواب میں اس تباہی کے ان فزیکل اور کیمیکل زاویوں سے پردہ اٹھایا گیا جو اس وقت تصور میں بھی نہیں تھے۔

سنہ 2002 میں شائع ہونے والی ایم آئی ٹی کی تحقیق امریکی حکومت کے ان جائزوں سے ملتی جلتی ہے جن کی ذمہ داری نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹینڈرز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) کو سونپی گئی تھی۔ اس میں یہ پتا لگانے کی کوشش کی گئی کہ جڑواں ٹاورز آخر گِرے کیسے۔ اس سلسلے میں آخری تحقیق 2008 میں شائع ہوئی۔

ایم آئی ٹی اور این آئی ایس ٹی کے جائزوں کے مطابق جڑواں ٹاورز ان دو وجوہات کی بنا پر گِرے:کوسیل کہتے ہیں کہ ’اگر آگ نہ لگتی تو عمارتیں کبھی نہ گرتیں اور اگر ساختی نقصان کے بغیر صرف آگ لگی ہوتی تب بھی دونوں ٹاور زمین بوس نہ ہوتے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ان ٹاورز میں کافی مضبوطی تھی۔‘

این آئی ایس ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق ان ٹاورز کے ڈائزائن میں انھیں بوئنگ 707 طیارے کی ٹکر جھیلنے کی صلاحیت دی گئی تھی۔ اپنے ڈیزائن کے وقت یہ سب سے بڑا کمرشل طیارہ تھا۔‘

تاہم این آئی ایس ٹی کے محقق کہتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں کہ وہ کن طریقوں کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچے تھے۔ یہ واضح ہے کہ طیارے کی ٹکر سے ہونے والے نقصان اور اس سے پیدا ہونے والی آگ نے تباہ کن اثرات مرتب کیے جس سے دونوں ٹاور زمین بوس ہو گئے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور کیسے بنائے گئے تھے؟

جڑواں ٹاورز کا ڈیزائن 1960 کی دہائی میں عام معیار کے مطابق تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کی تعمیر شروع ہوئی۔ دونوں عمارتوں میں اسٹیل کے ستون استعمال کیے گئے اور بیچ میں کنکریٹ تھا۔ ان میں لفٹ اور سیڑھیاں بھی تھیں۔

ہر منزل میں اسٹیل کے افقی ڈھانچے تھے جو بنیاد بنتے اور انھیں اسٹیل کے ستون سے جوڑا جاتا۔ ان سے عمارت کی باہری دیواریں تشکیل پاتیں۔ اس فن تعمیر کی مدد سے ہر منزل کا وزن ستون اٹھاتے تھے جبکہ ہر منزل ستون کے مُڑنے کو روکتی تھی۔ سول انجینئرنگ میں اسے ’بکلنگ‘ بھی کہتے ہیں۔ اس تمام اسٹیل کے ڈھانچے کو کنکریٹ سے ڈھکا گیا تھا جو آگ کی صورت میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اسٹیل کے بعد فائر پروف تہہ تھی تاکہ آگ کی صورت میں یہ بچ سکیں۔

جہاز کی ٹکر، آگ اور ہوا

دونوں ٹاورز سے بوئنگ 767 طیارے کے مختلف ماڈل ٹکرائے تھے۔ یہ بوئنگ 707 سے بڑے ہوتے ہیں۔ این آئی ایس ٹی کی رپورٹ کے مطابق طیارے کی ٹکر سے ستونوں کو ’شدید نقصان‘ پہنچا اور اس کی فائر پروف تہہ بھی ہٹ گئی۔ کوسیل کہتے ہیں کہ تھرتھراہٹ سے سٹیل کے ڈھانچے سے فائر پروف تہہ الگ ہو گئی تھی جس سے پھر اسے آگ سے نقصان پہنچا۔

یعنی ساختی نقصان سے آتشزدگی بڑھتی گئی اور اسی طرح آتشزدگی سے ساختی نقصان وسیع ہوتا گیا۔ اس سب کے دوران اندر درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سیلسیئس ہو گیا جس سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے۔ اس سے ہوا عمارت کے اندر داخل ہوئی اور آگ مزید پھیلنے لگی۔ کوسیل کہتے ہیں کہ ہوا نے آگ کے لیے خوراک کا کام کیا جس سے یہ پھیلنا شروع ہو گئی۔

اڑتے بم دھماکے

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں طیاروں میں قریب 10 ہزار گیلن ایندھن تھا یعنی 37 ہزار لیٹر سے زیادہ۔ کوسیل کہتے ہیں کہ یہ ’اڑتے بم دھماکوں‘ جیسا تھا۔ آتشزدگی کے دوران ایندھن کی اکثر مقدار جل گئی لیکن کافی زیادہ ایندھن ٹاور کی نچلی منزلوں تک پھیلنے لگا۔ اس سے آگ نیچے تک پھیل گئی اور اس نے کئی آتش گیر اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے اس کی وسعت بڑھتی گئی۔

ایم آئی ٹی انجینئرمزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس آگ کے دو بڑے نقصانات ہوئے:

پہلا یہ کہ شدید گرمی نے ہر فلور پر اسٹیل کے ڈھانچے کو پھیلنے پر مجبور کیا۔ اس سے فرش ستون سے الگ ہونا شروع ہو گیا۔ ستون پھیلنے سے عمارت کے کالم باہر کی طرف جانے لگے۔ دوسرا یہ کہ آگ نے سٹیل کے ستونوں کو نرم کر دیا جس سے یہ کمزور ہو گیا۔ اس سے مضبوط عمارت رسی کی طرف دکھنے لگی اور اس نے گِرنا شروع کیا تو یہ اندر کی طرف مڑ گئی۔ کوسیل کہتے ہیں کہ ’ٹاورز کے لیے یہ تباہ کن ثابت ہوا۔‘

جب ٹاور گِرا

ٹاورز گرنے سے قبل اس کے زمین بوس ہونے کے تمام اجزا پورے ہو چکے تھے۔ عمارت کے ستون اب سیدھے کھڑے نہیں تھے۔ یہ باہر اور اندر کی طرف مڑ رہے تھے اور اس طرح عمارت نے تھرتھرانا شروع کر دیا۔

این آئی ایس ٹی رپورٹ کے مطابق ستون مڑی ہوئی شکل میں گِرنے لگے جبکہ اس ڈھانچے نے انھیں اندر کی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ کوسیل کے جائزہ میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک موقع پر ڈھانچے نے ستون کو اتنا زور سے کھینچا کہ اس میں لگے بولٹ ٹوٹ گئے جنھوں نے کالم کو جوڑا ہوا تھا۔ اس سے منزلیں تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہونے لگیں اور نچلی منزلوں کے لیے یہ وزن قابل برداشت نہیں تھا۔

اس تناؤ سے پہلے سے کمزور شدہ کالم پر مزید بوجھ آنے لگا۔ اس کا نتیجہ ایک خوفناک منظر تھا۔ کوسیل کہتے ہیں کہ جب یہ عمارت فری فال کی طرف بڑھی تو ہوا کے دباؤ سے منزلوں کے بیچ ہوا تیزی سے باہر کی طرف خارج ہوئی۔ اس کے گرنے سے دھواں بادل کی شکل میں ابھرنے لگا۔ دونوں عمارتیں کچھ ہی سینکڈ میں غائب ہو گئیں لیکن ملبے میں آگ 100 روز تک بھڑکتی رہی۔ مگر اب بیس سال بعد بھی ان حملوں کا خوف ختم نہیں ہوا۔

(بشکریہ : بی سی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN