اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کلیان سنگھ،بی جے پی اور قومی پرچم

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کلیان سنگھ،بی جے پی اور قومی پرچم
68
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

پروفیسر اپوروانند

تصویروں کےاندرتصویریں ہوتی ہیں۔ دو دن سے دیکھ رہا ہوں کہ متعدد لوگ مشتعل ہیں کہ قومی پرچم کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے جھنڈے سے چھپا دیا گیا ہے۔ اس کوقومی پرچم کی توہین بتایا جا رہا ہے۔ لیکن جومشتعل ہیں کیا وہ یہ محسوس کر پا رہے ہیں کہ ان کے صدمے سے اکثر ہندوستان کے لوگ متاثر نہیں ہیں۔

شاید ہی لوگوں کو یہ منظر اتنا عجیب لگ رہا ہو کہ وہ مشتعل ہو اٹھیں۔ ایسا کیوں ہوا ہوگا؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو یہ سوال کر رہے ہیں، ان میں سے کسی نے نہیں پوچھا کہ اس تصویر میں قومی پرچم کا جو استعمال کیا گیا، وہی مناسب تھا یا نہیں یاقومی پرچم کا یہاں استعمال ہی اس کی توہین ہےیا نہیں۔جوہندوستانی آئین کے نام پر لیے گئےحلف کی خلاف ورزی کرتے وقت ذرا نہیں جھجکا اور جس نے بعد میں اس وعدہ خلافی کو فخریہ اپنی بہادری قراردیا،کیا اس کے جسد خاکی کو قومی پرچم کے لمس کےکا حق ہے؟ وہ اصل سوال تھا۔ لیکن وہی سوال پوچھا نہیں جا رہا ہے۔

آخر کس کویاد نہیں ہے کہ کلیان سنگھ نے عدالت سے کیے گئے وعدےکو توڑ دیا تھا کہ 6 دسمبر، 1992کو ایودھیا میں لاکھوں ‘کارسیوکوں’ کے اکٹھا ہونے کے باوجود بابری مسجد کی حفاظت کا پورا انتظام وہ کریں گے اور اس کی گارنٹی کریں گے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے اپنےآئینی وقار کو مجروح کر دیا اور ملک کےوسیع ترمفاد کے اوپرآر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی فائدے کو ترجیح دی اور اس کے لیے وزیر اعلیٰ کے اپنے آئینی عہدے کاغلط استعمال کیا۔ بابری مسجد کی حفاظت نہیں کی اور اسے مسمار کیے جانے کا پورا موقع ’کارسیوکوں‘کو دیا۔

عدالت سے انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ بابری مسجد کی زمین پر کوئی تعمیری کام نہیں ہوگا۔ اس کی خلاف ورزی بھی انہوں نے کی اور اس کے لیے انہیں عدالت نے سزا بھی دی۔ وہ علامتی سزا، ایک دن کی قید تھی۔ لیکن وہ سزایافتہ تو ہوئے ہی۔ اور یہ کوئی جدوجہد آزادی نہ تھی جس میں جیل جانافخرکی بات ہو۔ وہ وعدہ خلافی تھی ،یہ بات لوگ بھول جاتے ہیں۔

یہ بات الگ ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد نہدام کے معاملے میں عدالت کی ہتک کے معاملے کو آگے نہیں بڑھایا۔ عدالت کی اس ہچکچاہٹ کا نتیجہ کئی سال بعد نظرآیا جب بابری مسجد کی زمین پر اس کے وجود کو قبول کرنے کے باوجود وہ زمین پھر عدالت کے کی جانب سے ہی مسجد کو توڑنے کی مہم چلانےوالوں کے سپرد کر دی گئی۔

بابری مسجد کےانہدام کے جرم میں اپنےرول کے بارے میں کلیان سنگھ نے لال کرشن اڈوانی اور دوسرے بی جے پی کے رہنماؤں کی طرح ہی الگ الگ وقت پر الگ الگ بیان دیے۔ انہیں لگا کہ موقع ٹھیک نہیں ہے تو اس فعل میں کسی بھی شراکت داری سے انہوں نے انکار کیا۔ لیکن جب لگا کہ اپنے لوگ ہی کوتوال اور منصف ہیں، تو سینہ ٹھوک کر اس کا ’سہرا‘ لینے وہ آگے آ گئے۔ اس سے ان رہنماؤں کی چالاکی کی تو آپ تعریف کر سکتے ہیں لیکن کیا انہیں بہادراور ایماندار بھی کہہ پائیں گے؟

بابری مسجد انہدام کا جرم ایک مسجد کے انہدام کا جرم تو تھا ہی لیکن لوگوں نے ٹھیک ہی اسے آزاد ہندوستان کی بنیاد پر ہی حملے کا نام دیا۔ بابری مسجد کا ملبہ ہندوستانی سیکولرازم کا ملبہ بھی تھا۔ بابری مسجد کےانہدام کے جرم کےذمہ داروں کو اگر سزا دی گئی ہوتی تو ہندوستان آج اس حال میں نہ ہوتا۔

یہ ہندوستان کا شورش زدہ دور ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کاسنہری دور۔ اس میں خدمات کے لیے کلیان سنگھ کو وہ پارٹی اعزاز دے، یہ اس کے نظریے سےمناسب ہی ہوگا۔ لیکن ملک ، اگر وہ صرف ایک پارٹی کا نہیں ہے، ایسے شخص کے بارے میں کیا رخ اختیار کرےگا جس نے سماج کو منقسم کرنے کے لیے صوبے کےوسائل کا اور آئینی اختیار کا استعمال کیا؟ اور قومی پرچم تو ملک کا ہے!

جب یہ سوال نہیں کیا جائےگا، دوسرا بے معنی ہوگا۔ قومی پرچم کو جب اکثریتی جرائم کو جائز ٹھہرانے کے آلے کےطور پر کام میں لایا جانے لگےگاتو وہ اپنی علامتی اہمیت کھو بیٹھےگا۔ پھر ایک ترنگے پر دوسرا دو رنگا پڑا ہو، اس سے کسے فرق پڑتا ہے؟ویسےیہ تصویر ایسے ہی ٹھیک ہے۔مرحوم کا جو رشتہ ان جھنڈوں سے تھا، ویسا ہی یہ تصویر بتلاتی ہے۔ جس شخص نے اپنی پارٹی کے مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دیا، اس سے جڑی تصویر میں قومی پرچم کو پارٹی کے جھنڈے کے نیچے ہی دبا ہونا چاہیے۔

اس تصویر نے مجھے پریشان نہیں کیا۔ پریشان تب ہوا تھا جب دادری میں محمد اخلاق کےقتل کے ملزم کے جسدخاکی کو قومی پرچم سے لپیٹا گیا تھا۔ جب عید کے دن جامع مسجد پرغنڈوں کی بھیڑ قومی پرچم لےکر چڑھ گئی اور عبادت کرنے آئے مسلمانوں کو جھنڈا ہاتھ میں دینے کی زبردستی کرنے لگی، تب پریشان ہونے کاوقت تھا۔جب قومی پرچم کو کانوڑ بھگوا جھنڈےکے ساتھ لےکر چلنے لگے، تب سوال پوچھنے کا وقت تھا۔ جب قومی پرچم کو 207 فٹ کے کھمبے سے لہرانے کا حکم ساری یونیورسٹیوں کو دیا گیا، تب بھی سوال کرنے کاوقت تھا۔ اب ہم اس سےبہت آگے نکل آئے ہیں۔

ویسے جب کسی ملک میں قومی پرچم، قومی ترانہ،قومی نعرے وغیرہ پر ہی عوامی مباحثے زیادہ ہونے لگیں تو مان لینا چاہیے کہ اس کے ساتھ کچھ بھاری گڑبڑ ہو گئی ہے۔ پختہ اور مطمئن ممالک میں یہ بحث کاموضوع ہوں، یہ ان کے لیے شرم کی بات ہوگی۔ لیکن جب آپ دہلی کی ہر سڑک پر وزیر اعلیٰ کایہ فخریہ انداز دیکھیں کہ پہلی بار ان کی سرکار نے دہلی میں115 فٹ اونچا قومی پرچم لگایا ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ عوام کو یہ رہنمااحمق مان چکے ہیں۔

جب ترنگے کی’توہین‘کی اس تصویرپراشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی تھی اسی وقت مدھیہ پردیش کے اندورشہر میں ایک مسلمان چوڑی فروش کو سرعام مارتے ہوئے، اس کی چوڑیوں کو توڑتے ہوئے غنڈوں کی تصویر بھی گھوم رہی تھی۔ اس پٹتے ہوئے مسلمان کی بے بسی اور بابری مسجد کے انہدام کے ہیروزمیں سے ایک کے جسم پر ڈال دیے گئے ترنگے کی بے بسی مجھے ایک سی لگی۔

اندور کی تصویر کے پہلے کانپور کےمسلمان رکشہ والے پر حملے کی تصویر۔ اس کے پہلے جنتر منتر پر مسلمانوں کےقتل عام کے نعروں کے ساتھ کی تصویر!اس کے پہلے ہریانہ میں مسلمانوں کے قتل عام کے بیانات کی تصویر! اس کے بھی پہلے دہلی کے اتم نگر میں مسلمان پھل بیچنےوالوں پر حملے کی تصویر!اور اس کے بہت پہلے پھر اندور میں ہی آتش بازی کے سامان بیچنےوالے مسلمان دکاندار کو دھمکی کی تصویر!کیا ان تصویروں میں اور ترنگے کے ساتھ ’بدسلوکی ‘ کی تصویر میں کوئی رشتہ ہے؟ جب تک اس رشتہ کو ہم سمجھ نہیں لیتے، ترنگے کو لےکر ہمارا رونا صرف رونا گانا ہی ہوکر رہ جائےگا۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN