اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا مخلوط نظام تعلیم کا متبادل بسہولت ممکن ہے ؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا مخلوط نظام تعلیم کا متبادل بسہولت ممکن ہے ؟
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر : مسعود جاوید

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ کرنٹ افیئرز ہمارے لئے معنی نہیں رکھتے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر محترم شہاب الدین یعقوب قریشی اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں لنچنگ کے حالیہ واقعات اور نفرتی سیاست کی سنگین صورت حال پر بے باکی سے مسئلہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ وہ ملی قائد یا کسی ملی تنظیم کے ترجمان نہیں ہیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس افسر ہیں۔

ہمارے ملی قائدین کے لئے یہ مسائل اہم کیوں نہیں ہیں!

ملک میں ہندو مسلم منافرت کو ہوا دینے میں مخصوص عناصر سرگرم ہیں. فرقہ پرستی پر مشتمل بیانیے انتخابات میں مذہب کی بنیاد پر لام بندی( پولرائزیشن) کے لئے اہم جزء ترکیبی ingredient کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، بے روزگاری اور مہنگائی عام لوگوں کا جینا محال کر رہی ہے ان مسائل پر بیان کی بجائے آپ مخلوط نظام تعلیم، پردہ اور بے حیائی کو موضوع سخن بناتے ہیں تو کہنے والے اپنی بات میں برحق ہیں کہ مسلمانوں کو ملک کے مسائل کی کوئی فکر نہیں ہے۔

کیا معاشرہ میں مخلوط نظام تعلیم co-education کے منفی اثرات کا ذکر اس وقت ضروری تھا؟ یہ ذکر اتنی بڑی شخصیت نے ایسے وقت میں کیوں کیا ہے یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر کوئی اور کرتا تو میں کہتا کہ میڈیا کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے یہ موضوع اچھالا گیا ہے۔

دستور ہند نے ہر شخص کو اظہار رائے کا حق دیا ہے،لیکن قائدین سے ہم توقع کرتے ہیں کہ ترجیحات کے مطابق بیان دیں۔

مرد و زن کا اختلاط نہ صرف تعلیمی اداروں اسکول، کالج یونیورسٹی میں عام ہے بلکہ تجارتی مراکز اور دیگر شعبہ جات میں زندگی کی ضرورت بن چکی ہے۔

اس ضرورت کی نفی کرنے کی بجائے اس کے لئے مناسب حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور وہ حل ہے صالح معاشرے کا قیام جس میں اخلاقیات کا درس صرف لڑکیوں کو نہیں لڑکوں کے لئے بھی لازمی بنایا جائے، بے راہ روی کا خطرہ صرف لڑکیوں اور خواتین کو ہی نہیں لڑکوں اور مردوں کو بھی ہے۔

جہاں تک دونوں جنس کے لئے علیحدہ اسکول کا تعلق ہے اس کا ایک حل دہلی کے بعض اسکولوں میں دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ یہ کہ طلباء کی کثرت اور عمارتوں کی قلت کے پیش نظر لڑکیوں کے لئے صبح کا شفٹ اور لڑکوں کے لئے شام کا شفٹ۔ میٹرو اور سٹی بسوں میں لیڈیز اسپیشل بس اور میٹرو میں لیڈیز کوچ اسی طرح متعدد محکمہ جات میں خواتین کے لئے علیحدہ قطار Queo کا مقصد بھی خواتین کو ممکنہ ہراسانی سے محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن مسئلہ کی حساسیت کے مدنظر اسے مذہبی اینگل اور عنوان دینا قطعاً مناسب نہیں ہے۔ پیش نظر کام ہو نام نہیں۔

مذکورہ بالا صنفی تفریق سے مرد و زن کے اختلاط کے ممکنہ خطرات سے بچنے کا مقصد حاصل ہو رہا ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دینے سے مقصد فوت ہو سکتا ہے اور ’اسلامی کرن‘ کا عنوان لگا کر طالبانی فرمان کہہ کر خواہ مخواہ ایک نئی بات کو بحث کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔

ملک میں بے شمار گرلز اسکول کالج اور بوائز اسکول کالج ہیں وہ کبھی موضوع بحث نہیں بنے اس لئے کہ مذہبی تصور کو سامنے رکھ کر ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

آج کے معاشرے میں دنیا کے کسی بھی ملک میں دونوں صنف کی مکمل علیحدگی ممکن نہیں ہے۔ بہت سی خواتین کا غیر محرم مردوں سے معاملات ایک ضرورت ہے اور ضرورت کے تحت ایسا کرنا قابل قبول عذر ہے لیکن اس کے لئے اسلامی ضابطہ یہ ہے کہ خواتین کا لباس ہیجان انگیز نہ ہو اس کی اداجنس مخالف کو مائل کرنے والی نہ ہو وہ آئ کنٹیکٹ کے بغیر سپاٹ لہجے میں ضرورت کی بات کریں۔ اس لئے کہ بعض مرد بہت جلد اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ خاتون کے دل میں ان کے لئے نرم گوشہ ہے اور اسی خوش گمانی کے تحت وہ پیش قدمی کرنے لگتے ہیں۔

تاہم اسلامی ضابطے صرف خواتین کے لئے نہیں ہیں، لڑکوں اور مردوں کو بھی حکم ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔‌جس طرح انہیں اپنی بہن بیٹیوں کی عزت و عفت عزیز ہیں غیروں کی بہن بیٹیوں کے لئے بھی ایسا ہی احساس اور فکر ہو۔

اسی ضمن میں اس کا ذکر بھی بے محل نہیں ہوگا کہ جس طرح ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ صالح معاشرہ میں ناقابل قبول ہے اسی طرح یہ بیان بھی قابل مذمت ہے کہ ’’ لڑکے جوش جوانی میں لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کر بیٹھتے ہیں ‘‘۔ جب تک اس طرح کی ذہنیت باقی رہے گی معاشرہ میں اخلاقی گراوٹ اور جنسی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN