نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی کی ایک عدالت میں دہلی فساد معاملے پر سماعت کے دوران جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کے وکیل نے کہا کہ اس چارج شیٹ میں جس طرح سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے، یہ دکھاتا ہے کہ رپورٹ بنانے والے افسران کے دماغ میں ’ فرقہ واریت ‘ بھری ہوئی تھی۔ خالد کے وکیل تردیپ پائس نے یہ بھی کہاکہ چارج شیٹ ’ فیملی مین‘ یا کسی ٹی وی پروگرام کی اسکرپٹ جیسی ہے ۔
یہ سماعت ٹرائل کورٹ میں چل رہی تھی۔ کورٹ اب پیر کو پھر خالد کی ضمانت عرضی پر سماعت کرے گی۔ آج کی سماعت کے دوران عمر خالد کےوکیل نے کہاکہ ان کے مؤکل پر بغیر کسی حقائق کے اتنے سارے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چارج شیٹ کو پڑ ھ کر لگتا ہے کہ یہ رات 9 بجے والے ٹی وی شو کی اسکرپٹ ہے۔ یہ خالص تخیل پر مبنی ہے۔
پائس نے گواہوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہاکہ ان سے جھوٹے بیان دلائے جارہے ہیں۔ یہ خالد کےخلاف سازش ہے۔ چارج شیٹ کا ایک حصہ پڑھتے ہوئے وہ بولے ، ’بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ‘یہ کہاں سے ملا، ایسا لگا رہاہے کہ ٹی وی پروگرام کی اسکرپٹ لکھی گئی ہے ۔ 2016 میں خالد پر جو کیس درج کیا گیا تھا اس کی چارج شیٹ میں کہیں بھی بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے کہ نعرے لگانے کی بات نہیں تھی۔‘
وکیل نے کہا کہ سی اے اے مخالف احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ دہلی پولیس نے یہ کام کیا ہے ۔ بتادیں کہ دہلی فساد کے معاملے میں عمر خالد کے خلاف یو اے پی اے ،آرمس ایکٹ اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے بچاؤ ایکٹ 1984کے تحت چارج شیٹ فائل کی گئی ہے ۔
دہلی فساد ات کو لے کر پولیس کے ذریعہ کی گئی جانچ پر ہی کورٹ نے سوال کھڑے کردئے ہیں ۔ کورٹنے پولیس کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہاکہ تاریخ اس فساد کو پولیس کی ناکامی کے طور پر یاد رکھے گی ۔ پولیس نے کورٹ کی آنکھ میں پٹی باندھنے کا کام کیا ہے ۔ کورٹ نے اس معاملے میں سابق آپ کونسلر طاہر حسین کے بھائی کو بری کردیا۔ ان کے ساتھ تین دیگر ملزمین کو بھی کورٹ نے بری کردیا۔











