اردو
हिन्दी
جولائی 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مولانا کلیم صدیقی مقدمہ۔ سرکاری سیاست کا شکار

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مولانا کلیم صدیقی مقدمہ۔ سرکاری سیاست کا شکار
106
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

تقریبا تین ماہ قبل جون 2021 میں اترپردیش پولیس کی اے ٹی ایس (اینٹی ٹیررزم اسکواڈ) نے اسلامک دعوہ سینٹر سے منسلک دو افراد مولاناعمرگوتم اور جہانگیر قاسمی کو ہزاروں ہندووں کا غیر قانونی طریقے سے اسلام مذہب قبول کروانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا،الزامات میں دھوکہ دھڑی، سازش، دومذہبی فرقوں کے درمیان نفرت و دنگہ بھڑکانے کی کوشش اور لالچ و ڈرا دھمکاکر غیرقانونی طریقے اپنا کر مذہب تبدیل کرانے کی دفعات شامل کی تھیں، بعد میں ملک مخالف و ملک کی سالمیت و اتحاد کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات بھی شامل کردیے گئے تھے،اب اسی ایف آئی آر اور ان دفعات کے تحت ملک کے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی کو بھی اے ٹی ایس اترپردیش پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، عدالت نے پوچھ تاچھ کے لئے مولانا کو پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے، اب تک اس مقدمے میں کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق کل اگیارہ افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں، جب کہ تین دیگر افراد مبینہ طور پر اے ٹی ایس کی غیرقانونی حراست میں ہیں جن کے سلسلے میں ابھی تک اے ٹی ایس نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری جس پراسرار انداز میں کی گئی ہے وہ پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے، یوپی پولیس و اے ٹی ایس کے اعلی افسران نے مولانا کی گرفتاری کا اعلان اگلے روز تین صفحات پر مبنی پریس نوٹ جاری کرکے کیا، اس پریس نوٹ کے آنے تک مولانا کے اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی، یہ پریس نوٹ میڈیا کو دیا گیا جس کا واحد مقصد میڈیا ٹرائل کے ذریعے مولانا کلیم صدیقی کی شخصیت و خدمات کومشکوک و مجروح کرتے ہوئے، ملک میں ہندومسلم باہمی تعلقات کو نفرت کی آگ میں جھونکنا ہی حکومت و حکومتی اداروں کا مقصد محسوس ہوتا ہے، اے ٹی ایس کے ذریعہ جاری کردہ پریس نوٹ کو ایک سنسنی خیز و نفرت آمیز انداز میں پیش کرتے ہوئے جلے حروف میں اوپرلکھا گیا : “ غیرقانونی طور پر تبدیلی مذہب کا ملکی پیمانے پر چلانے والے سنڈیکیٹ اور تبدیلی مذہب کے لئے غیر ممالک سے بذریعہ حوالہ فنڈنگ کرانے کا ملزم اترپردیش اے ٹی ایس کے ذریعے گرفتار، شریعت کے مطابق نظام قائم کرنے کے مقصد سے آبادی کا تناسب بدلنے کے مقاصد کے ساتھ کرواتا تھا تبدیلی مذہب، دیش بھر میں کئی مدرسوں کی فنڈنگ کرکے تبدیلی مذہب کا ایک غیر قانونی نیٹ ورک تیار کیا ہے۔” 

اے ٹی ایس کی پریس ریلیز کا انداز اور استعمال کئے گئے جملوں اور الفاظ کو تقریبا اسی انداز میں استعمال کرتے ہوئے میڈیا نے ایک ساتھ پورے ملک کی فضا کو مسلم مخالف ماحول میں تبدیل کردیا، ایک بے لگام میڈیا ٹرائل شروع کرکے ہندو سماج کو یہ  ڈراونا پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمان علما اور ان کے ذریعے چلائے جانے والے مدارس اس ملک میں ہندو آبادی و نظام حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اس پورے ڈرامے میں میڈیا اور پولیس کا کردار بہت حد تک یکساں رہا ہے۔ تبدیلی مذہب کے نام پر یہ پورا سیاسی کھیل اس وقت شروع ہوا ہے جب اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہوچکی ہیں، یقینا یہ پورا ڈرامہ ووٹوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں پوری طرح کامیاب ہوگا، فرقہ وارانہ سیاست کے اس پورے کھیل میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو دی گئی پریس ریلیز کے مقابلے میں عدالت میں داخل کی گئی درخواست برائے پولیس ریمانڈ نصف حصہ ہی تھی، کیونکہ عدالت میں پیش حقائق پر سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس مقدمے کی شروعات میں ہی جب کہ پولیس اپنی تفتیش کے ابتدائی مراحل میں تھی، اسی وقت سے نیشنل میڈیا خصوصا ہندی میڈیا کے مقاصد کوسمجھنے کے لئے  ہندی روزنامہ دینک جاگرن کی رپورٹ بتاریخ 23 جون 2021 کافی ہے جس نے مولانا عمر گوتم کی گرفتاری کی رپورٹ بنائی تھی کہ “بہرے گونگے بچوں کو انسانی بم بناکر ملک میں دھماکوں کی تھی سازش” نیز پاکستان اور سعودی عرب سے اس کے لئے فنڈنگ ہورہی تھی، آئی ایس آئی سے مل کر ہورہی تھی سازش وغیرہ، اسی قسم کی سنسی خیز اور فرقہ وارانہ خبریں کئی روز تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں چلتی رہی تھیں جو ایک بار پھر سے شروع ہوگئی ہیں، جس نے پورے سماج میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھولنے کی کوشش کی تھی، بیشک گرفتاری عمل میں آتے ہی میڈیا و سوشل میڈیا میں ایک ہنگامہ برپا کردیا جاتا ہے، اس پورےڈرامے کی اسکرپٹ کہاں اور کس کے اشارے پر تیار کی جاتی ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن اس اسکرپٹ کو ریلیز ہماری پولیس ایجنسیاں کرتی ہیں جن پر میڈیا ٹرائل شروع کردیتی ہیں۔

ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست اور ان مقاصد کی تکمیل کے لئے بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا گھناونا کھیل گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، لیکن پہلے یہ بے گناہ مدارس کے معصوم طالب علم ہوا کرتے تھے، پھر معمولی استاد اور امام ہونے لگے، لیکن اب ایجنسیوں کے نشانے پر قوم کی مذہبی قیادت ہے، کرونا مہاماری کے دوران تبلیغی جماعت کے روح رواں مولانا سعد صاحب جیسی عظیم شخصیت کو جس آسانی سے سیاسی کھیل کا نشانہ بنایا گیا، مرکز پر لگا سرکاری تالا ابھی کھلا بھی نہیں تھا کہ تبدیلی مذہب کے نام پر مذہبی رہنماوں کا سیاسی شکار شروع ہوگیا، مذہبی و سماجی اداروں کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی تشویشناک رہی ہے، دستوری حقوق کا تحفظ ہماری کوششوں سے ہی ممکن ہوسکتا ہے،  بیشک ہمارے ملک میں نظام عدلیہ موجود ہے، اگر میڈیا ٹرائل کے ذریعے سماج میں نفرت کا بیج بونے کی کوشش ہورہی ہے یا پولیس ایجنسیوںکا میڈیا ٹرائل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں تو ایسے حالات میں سماجی و مذہبی اداروں کی کیا دستوری اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہیں؟ ہم نے ایسے بہت سے مقدمات دیکھے ہیں جب عدلیہ نے پولیس اور میڈیا کی سرزنش بھی کیں لیکن افسوس کہ ہم نے ان تمام ہی مقدمات اور فیصلوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، آج بھی ہمارے اکثر وبیشتر سماجی و مذہبی اداروں کے پاس پریس ریلیز اور پریس کانفرنس کے علاوہ مستقبل کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔

مولانا کلیم صدیقی اور اس مقدمے کے دیگر تمام دس ملزمین کے خلاف اے ٹی ایس کے پاس کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں ہیں، مذہبی ادارے قائم کرنا اور اپنے مذہب کی تعلیمات کو پھیلانا، تبلیغ و اشاعت کرنا، اپنی مرضی سے مذہب قبول کرنے والے افراد کے قانونی کاغذات تیار کروانا، شرعی قوانین پر عمل کرنا نیز اس پر عمل کرنے کی تاکید کرنا، مذہبی اداروں یا سرگرمیوں کے لئے غیرممالک سے فنڈنگ حاصل کرنا ہمارے ملک میں جرم نہیں ہے بلکہ یہ دستور ہند میں تحریر بنیادی حقوق میں شامل ہیں، البتہ شرط یہ ہے کہ یہ فنڈنگ اور اس فنڈنگ کا استعمال غیرقانونی طریقوں سے حاصل نا کی گئی ہوں نیز غیر قانونی سرگرمیوں میں اس کا استعمال نا کیا گیا ہو، مولانا کے پاس ایف سی آر اے کے تحت غیر ممالک سے فنڈنگ لینے کی اجازت تھی، جو بھی فنڈ آئے اور جہاں بھی استعمال ہوئے اس کی مکمل تفصیلات نیز آڈٹ رپورٹ موجود ہیں، کسی بھی طرح سے دستور و مروجہ قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔ 

نظام عدلیہ کی سست رفتاری انصاف حاصل کرنے کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے، سپریم کورٹ نے بارہا اپنے فیصلوں میں تیزرفتار عدالتی کاروائی کو قیدیوں کا بنیادی حق قرار دیا ہے، انصاف کا بنیادی تقاضہ ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے تک جیل میں نہیں رکھا جانا چاہیے، لیکن ہماری جیلوں میں چار لاکھ سے زائد قیدی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جن میں اکثریت زیرسماعت ملزمین کی ہے، آج تک ہمارے ملک میں فرائض سے کوتاہی برتنے پر پولیس کی جوابدہی طے نہیں ہوسکی ہے، سالہا سال تک مقدمات کے تصفیہ میں ناکام رہنے والی عدلیہ آخر جوابدہی سے آزادہے، طویل عرصے کے بعد بے گناہ ثابت ہونے کے بعد بھی ہمارے ملک میں معاوضے یا بازآبادکاری کی کوئی پالیسی نافذ نہیں ہوسکی ہے۔ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں پولیس، میڈیا اور عدلیہ  کی جواب دہی طے ہو، قانون کا غلط استعمال یوں ہی فرقہ وارانہ سیاست کا ذریعہ بنا رہا تو ہمارے ملک اور سماج میں ہندو مسلم سیاست کا سرکاری کھیلیوں ہی جاری رہے گا۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN