بنگلور : (ایجنسی)
کرناٹک میں ایک دلت نوجوان کے مندر میں داخل ہونے کے بعد ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اس پریوار پر نہ صرف جرمانہ عائد کیا گیا بلکہ اس پریوار کو اجتماعی بھوج کا اہتمام بھی کرنا پڑا۔ یہ معاملہ کوپل کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نوجوان کشتگی واقع ایک مندر میں داخل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جرمانہ عائد کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ تقریباً 11 دن پہلے کا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ نوجوان لکشمی دیوی مندر گیا تھا۔ اس کے بعد نوجوان کو جبراًبھوج کااہتمام کرنے کے لیے کہا گیا۔ جس میں 11,000روپے خرچ ہوئے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی سے بات چیت میں یہاں کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹی سری دھر نے کہا کہ ہاں ، یہ سچ ہے کہ مندر میں داخل ہونے پر نوجوان کو 11,000روپے بھوج پر خرچ کرنے پڑے۔
پولیس کے مطابق یہ معاملہ جمعہ کو سامنے آیا۔ مندر کے پجاری پر الزام ہے کہ اس نے اس نوجوان کو بھوج کا اہتمام کرنے کے لیے زبردستی دباؤ ڈالا۔ پولیس کے مطابق چند ماہ قبل گاؤں میں چوری ہوئی تھی، جس کے بعد گاؤں والوں نے فیصلہ کیا تھا کہ پجاری کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس مندر میں داخل نہیں ہوگا۔
پولیس کی جانب سے دلت نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 14 ستمبر کو یہ نوجوان مندر میں داخل ہوا تھا۔ یہ نوجوان پجا کرنا چاہتا تھا اور اس سے متعلق کچھ معلومات حاصل کرنے کے لیے مندر میں آیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس معاملے میں اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بتادیں کہ 4 ستمبر کو بھی ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا تھا ۔ دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پریوار کا 2 سال کا بچہ مندر میں گھس گیا تھا ۔ جس کےبعد اس پریوار کو ہراساں کیا گیا تھا ۔ یہ معاملہ کوپل ضلع کے ہی میاں پور گاؤں کا تھا۔ اس معاملے میں 5 لوگوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا ۔









