امروہہ(سالار غازی )
سنیکت کسان مورچہ کی اپیل پربھارت بند کےدوران کسانوں نےضلع کی چاروں شاہراہوں پر قبضہ کرلیا۔ مرکزی سرکارکےذریعہ لائے گئے تین زرعی قوانین کےخلاف آج کسانوں نے بھارت بند کی اپیل کی تھی جس کےتحت ضلع میں کسانوں نے ضلع کی سبھی شاہراہوں پر قبضہ کر کے مرکزی سرکار کے خلاف نعرے بازی کی۔ صبح نو بجے سے شروع یہ بھارت بند شام تک جاری رہا۔ اس دوران سبھی شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ شاہراہوں پر پولیس فورس تعینات تھی۔ پولس انتظامیہ نےچوکیوں کےقریب بھاری پولیس فورس کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
بھارتیہ کسان یونین کےاراکین نے امروہہ ،کیلسہ، رجب پور، دھنورا ،حسن پور ، گنگیشوری ، نوگاواں سادات سمیت کئی مقامات پر کسانوں نےروڈ جام کرکے ہڑتال جاری رکھی ۔کچھ مقامات پر پولیس سے معمولی نوک جھونک بھی ہوئی، لیکن کسی بڑی جھڑپ کی خبر تا دم تحریر نہیں ملی ۔
اس بند کو کامیاب بنانے کے لیے کسان یونین نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ سنیکتکسان مورچہ نے حکومت کوگھیرنے اور اپنے مطالبات منوانے کےلیےپیر کو بھارت بند کااعلان کیا تھا،جس کی وجہ سے پولیس انتظامیہ نے پرامن بند کےلیے پوری قوت لگا دی۔
نوگاواں سادات میں بھارت بند کے دوران کسان یونین کے کارکن گنگا نہر کے بیلنا پل پر جمع ہوئے ۔صبح 11 بجے امروہہ نور پور روڈ بلاک کرکے اور حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔حکومت کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ کسانوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کسان مخالف ہے ،اگر حکومت ہماری نہیں سنتی تو وہ آئندہ2022کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کی اوقات بتا دیں گے۔
کسان رہنماؤں نے احتجاجی مقام سے خطاب کےبعد تحصیل نوگاوا ں سادات ایس ڈی ایم اشوک کمار شرما ، تحصیلدار مونالیسہ جوہری اور انسپکٹر راجیش کمار سنگھ کو میمورینڈم سونپنےکے بعد شام چار بجے جام کھول دیا گیا اورکسان اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ اس موقع پر سدھاکر سنگھ ، چندرپال سنگھ ، بھینکرسنگھ ، اجیت سنگھ ، چندرکرن ، ارجن یادو ، گج پال سنگھ ، مہندر سنگھ ، راج ویر سنگھ ، سریندر سنگھ ، سردار وجے پال سنگھ ، لوکندر سنگھ ، نرمل سنگھ ، نتن ، جین اندر سنگھ ، نرمل سنگھ ، جے وندر سنگھ ، نیپال سنگھ ، کلدیپ سنگھ ، لکھن سنگھ ، امرجیت سنگھ ، ہرپال سنگھ ، راجیو کمار ، علی ایاز سمیت سینکڑوں کسان موجود تھے ادھر رجب پور اور امروہہ کےکسانوں نے بھی کسان یونین کے بینر تلے اپنے میمورینڈم دے کر اپنے مطالبات پورے کرنے کی آواز اٹھائی۔










