بھوپال (ایجنسی)
مدھیہ پردیش میں عیسائیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صدر رام ناتھ کووند سے فوری مداخلت کی مانگ کرتے ہوئےایک بشپ نے کہا ہے کہ ریاست میں عیسائیوں کے خلاف تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور گورنر منگوبھائی سی پٹیل کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔
بشپ کے مطابق ویشو ہندو پریشد ( وی ایچ پی) کے ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے جھابوا ضلع میں چرچ مسمار کرنے کی دھمکی دینے کے بعد یہ اپیل کی گئی ہے ۔ دی وائر نے وی ایچ پی کے پروین توگڑیا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
جھابوا ضلع کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ ایل این گرگ نے ’دی وائر‘ کو بتایا کہ وی ایچ پی کے ممبران نے کچھ لوگوں کے ساتھ اس ماہ کے شروع میں انتظامیہ سے رابطہ کرکے یہ شکایت کی تھی کہ جھابوا ضلع میں چرچ ’ دھرم پریورتن ریکٹ‘ چلا رہے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ ہم نے انہیں بتایا کہ اگر ہمیں جبراً تبدیلی مذہب کے معاملے کی اطلاع ہوگئی تو ہم اس کی جانچ کریں گے ۔ حالانکہ ابھی تک ہمیں ایسا کوئی معاملہ نہیں ملا ہے ۔
جھابوا ضلع مغربی مدھیہ پردیش میں واقع ہے اور اس کی سرحد بڑودہ سے ملتی ہے۔ علاقہ میں اسی طرح کی بدامنی اس سال کی شروعات میں اس وقت بھی دیکھی گئی تھی ، جب وی ایچ پی کے ایک مقامی لیڈر آزاد پریم سنگھ نے علاقے کے تمام چرچوں کو بند کرنے کی مانگ کی تھی۔ بشپ کا کہنا ہے کہ جھابوا اور آس پاس کے آدیواسی اکثریتی اضلاع میں فرقہ وارانہ دھمکیاں بڑھنے کے غلط اثرات پورے ملک میں پڑ سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین نافذ کئے گئے ہیں ۔
فادر ماریا اسٹیفن نے کہا کہ ‘عیسائی امن پسند شہری ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کارروائی کی مانگ کررہے ہیں۔ ہمیں ہمارے کام اور ہمارے ملازمین کی سرکاری تفصیلات حکومت کے ساتھ شیئر کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ، بشرط کہ ارادہ صحیح ہو۔یو ایس ایف کے مائیکل ولیمس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے عیسائیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کی اپیل کی۔










