لکھنؤ : (ایجنسی)
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو انتہائی ناقص منتظم بتاتے ہوئے سابق آئی ایس ایس سوریہ پرتاپ سنگھ نےاپنے ایک ٹویٹ میں انہیںجھوٹے اعداد وشمار دینے والا کہاہے ۔سابق آئی اے ایس نے لکھا ہے کہ ’’ یوگی جی ایک انتہائی ناقص منتظم ثابت ہوئے‘‘ ان کا نہ تو محکموں پر کنٹرول ہے اور نہ ہی ریاست کی پولیس پر کوئی کنٹرول ہے ۔
سوریہ پرتاپ سنگھ نے بلندشہر میں مڈ ڈے میل دودھ میں زیادہ پانی ملائے جانے کی خبر کو لے کر بھی لکھا ہے کہ ’’ 2.5لیٹر دودھ میں ایک بالٹی پانی،یہ ہے یوپی میں ’ مڈ ڈے میل ‘ کی کہانی ۔ یوگی جی ایک انتہائی ناقص منتظم ثابت ہوئے، نہ محکموں پر کنٹرول اور نہ پولیس پر۔ صرف فرقہ وارانہ باتیں ، جھوٹے اعدادو شمار و دھمکی دلوا لیجئے ، ان سے ۔ بات بات پر دھمکی دینے والے کی باتوں کو لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے ۔ ‘‘
اس ٹویٹ پر ایک یوزر اندر بھوشن تیاگی نے لکھا ہے کہ شکر ہے کہ دودھ میں پانی ملایا ہے ۔ ورنہ یہ تو پانی میں دو بوند دودھ ڈال کر بھی پلا سکتے ۔ وہیں منگل نام کے ایک یوزر نے لکھا ہے کہ سارے پیسے اشتہارات میں خرچ کردئے ہوں گے ۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ ،ویسے بھی کہاوت ہے ،گرجنے والا برستے نہیں۔ ایسا ہی حال ہے ان کا بھی ۔
واضح رہے کہ بلند شہر ضلع کے لکھاوتی تھانہ علاقہ کے بھاسی گاؤں سے ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے ، جس میں بھاگوتی کمپوزٹ اسکول و پرائمری اسکولمیں مڈ ڈے میل کے ڈھائی لیٹر دودھ میں ایک بالٹی پانی ملائے جانے کا الزام ہے ۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد افسران نے اس کی جانچ کے احکامات دئےہیں ۔
بتادیں کہ پرائمری اسکولوں میں چل رہی مڈ ڈے میل اسکیم کا نام اب ’ پی ایم پوشن ‘ ہوگا ۔ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اسکیم کے ذریعہ پری پرائمری ایجوکیشن کے تحت سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کے 24 لاکھ دیگر بچوں کو فائدہ ملےگا ۔ اس اسکیم میں ابھی کلاس ایک سے کلاس 8 تک کے 11.8کروڑ اسٹوڈنٹس کو کھانا دیا جاتا ہے ۔
غور طلب ہے کہ ریٹائرڈ آئی اےایس سوریہ پرتاپ سنگھ اس سے پہلے بھی سرکار پر سوال کھڑے کرتے رہے ہیں ۔ بے روزگاری کو لے کر انہوں نے اسی مہینے کی شروعات میں ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’ ایم اے، بی اے کی ڈگری کٹورے میں رکھ کر بھیک مانگو۔ جولائی اگست 2021 کے درمیان بے روزگاری شرح 6.95فیصد سے بڑھ کر 8.32 فیصد ہو گئی ہے ۔ یعنی ایک مہینہ میں 15 لاکھ لوگوں کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ دراصل بزنس انفارمیشن کمپنی سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای)کے مطابق ،کام کرنے والوں کی تعداد 399.38ملین سے گر کر اگست میں 397.78ملین رہ گئی ہے۔










