لکھنؤ: (ایجنسی)
اترپردیش میں چند ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے میونسپل کارپوریشن پر بھی انتخابی رنگ چڑھتا نظر آرہا ہے۔ جمعہ کو لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کی میٹنگ ہوئی۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کی اس میٹنگ پر انتخابی رنگ صاف نظر آیا۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کی میٹنگ میں کئی وارڈز کے نام تبدیل کرنے سے لے کر پاکستان سے آئےمہاجرین کو دکانیں الاٹ کرنے تک ،کئی فیصلے لئے گئے ۔
لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے آٹھ وارڈوں کے نام تبدیل کردیئے ہیں۔ ان وارڈوں کے نام بدل کر بھگوان پرشورام ، مہارشی اور کیشو نگر جیسے نام رکھ دیئے گئے ہیں۔ اس تجویز کو میونسپل ایگزیکٹو کمیٹی کے عام اجلاس میں منظور کی گئی۔ معلومات کے مطابق لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جنرل میٹنگ یکم اکتوبر کو منعقد ہوئی۔ میئر سنیکت بھاٹیہ کے ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن کے تمام ملازمین اس میٹنگ میں موجود تھے۔
لکھنؤ میونسپل کارپوریشن ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں حیدر گنج II وارڈ کا نام بدھیشور وارڈ ، فیض اللہ گنج اول کو مہارشی نگر ، فیض اللہ گنج III کا نام ڈاکٹر کیشو نگر اور فیض اللہ گنج چہارم کانام پنڈت دینی دیال اپادھیائے وارڈ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اسی طرح ودیاوتی دوم کا نام پرشورام وارڈ ، ودیاوتی اول کا نام مادھو نگر ، ایودھیاداس دوم کا نام پنڈت رام پرساد بسمل اور جانکی پورم اول کا نام بھاؤ راؤ دیوراس وارڈ رکھنے کے تعلق سے قرار داد منظورکی گئی۔
لکھنؤ میونسپل کارپوریشن جنرل ایگزیکٹو کے اس فیصلے کو اسمبلی انتخابات سے پہلے نام کی تبدیلی کی سیاست قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف میئر سنیکت بھاٹیہ نے اس حوالے سے کہا کہ نام تبدیل کرنے کی تجویز ممبر کی طرف سے آئی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ پرانا نام بدلنے سے متعلق تجویز منظور ہوگئی ہے ۔ میئر نے کہاکہ اب نام بدلنے کو لے کر آگے کی کارروائی شروع کی جائے گی ۔
لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں آٹھ وارڈز کے نام تبدیل کرنے کی تجویز منظور کی گئی ،وہیں پاکستان سے آنے والے مہاجرین اور مذہبی مقامات کے ارد گرد گوشت کی دکانوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے پاکستان سے آئے مہاجرین کو معاش زندگی کے لیے دکانیں مستقل طور پر الا ٹ کرنے کا فیصلہ لیا ہے جو انہیں کرائے پر الاٹ کی گئی تھیں۔
پاکستان سے آئے مہاجرین کو الاٹ کی گئی یہ دکانیں موہن روڈ پر ہے۔ ملک کی آزادی کے وقت ہی پاکستان سے آئے لوگوں میں میونسپل کارپوریشن کے اس فیصلے کو لے کر کافی خوشی دیکھنے کو ملی۔ اس کے علاوہ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے دھارمک استھلوں (مذہبی مقامات ) سے 100 میٹر کے دائرے میں گوشت کی دکان ، گوشت سرو کرنے والے ریستورانوں پر پابندی عائد کرنے کی تجویز منظور کردی ہے۔ لکھنؤ کی میئر نے متعلقہ تجویزڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیج دی ہے ۔










