لداخ؍ نئی دہلی:(ایجنسی)
لداخ تنازع اور ایل اے سی پر فوجی دستوں کے تحلیل پر بھارت کو اگلے ہفتہ چین کے ساتھ 13 ویں دور کی بات چیت کی امید ہے ۔ اسی درمیان آرمی چیت جنرل منوج مکندناروانے نےآج صبح کہا کہ چینی فوجوں کی تعیناتی میں اضافہ ہواہے ، جو باعث تشویش ہے ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ گزشتہ چھ مہینوں سے صورت حال کافی نارمل ہے ۔
خبررساں ایجنسی اےاین آئی سے انہوں نے کہاکہ چینی (فوجیوں) نے ہمارے مشرقی کمان تک پورے مشرقی لداخ اور شمالی محاذ پر کافی تعداد میں تعیناتی کی ہے ، یقینی طور پر آگے کے علاقوں میں ان کی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ہمارے لیے تشویش کاباعث ہے ۔
انہوں نے کہا کہلیکن ہم ان کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہمیں جو بھی ان پٹ ملتے ہیں اس کی بنیاد پر ہم انفراسٹرکچر کے لحاظ سے اسی طرح کی ترقی کر رہے ہیں۔ اس وقت ہم کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ انہیں شک ہے کہ کسی بھی علاقے میں کسی بھی چینی جارحیت کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔
آرمی چیف نے بھارت – چین تنازع پر کہاکہ گزشتہ 6 مہینوں میں صورت حال کافی نارمل رہی ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ اکتوبر کےدوسرے ہفتہ میں 13 ویں دور کا مذاکرات ہوگا اور ہم اس پر عام اتفاق پرپہنچیں گے کہ ایل اے سی پر الگ کیسے ہو ۔‘
آرمی چیف نے کہا کہ آہستہ آہستہ تمام رکاوٹوں کو حل کیا جائے گا۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ جمعہ کو جنرل ناراوانے مشرقی لداخ میں فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
فوج نے لداخ سیکٹر میں پہلی K9-Vajaraسے چلنے والی ہوٹزر رجمنٹ کو ایل اے سی کے ساتھ چینی کی حقیقی لائن آف کنٹرول پر تعینات کیا ہے ۔ وہیں سے 50 کلومیٹر دور تک دشمن پر نشانہ سادھاجا سکتا ہے۔ بتادیں کہ بھارت اور چین کے درمیان ایک سال سے زیادہ وقت سے سرحد پر تعطل کا شکار ہے ۔










