اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

این آئی اے مقدمات۔ سوالات و اشکالات

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
این آئی اے مقدمات۔ سوالات و اشکالات
49
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے)، مرکز و دہلی حکومت سے این آئی اے مقدمات میں ہونے والی غیرمعمولی تاخیر پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے، پٹیشن میں پیش کئے گئے حقائق حیرت انگیز ہیں،  یہ پورے نظام عدلیہ اور این آئی اے کے کام کرنے کے طریقوں پر سے پردہ اٹھانے والے حقائق ہیں، این آئی اے کے ذریعے درج مقدمات، عدلیہ سے ملنے والی لگاتار فتوحات کی سچائی، اور پورے کرمنل جسٹس سسٹم پر ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں، ان حقائق پر غور کرنا ہر شہری کی دستوری ذمہ داری ہے کیونکہ ہم ایک عوامی جمہوری نظام حکومت کا حصہ ہیں، پٹیشن منظر امام کی جانب سے داخل کی گئی ہے، منظر امام کو این آئی اے نے 2013 میں ملک کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا جب کہ وہ پہلے سے ان الزامات میں جیل میں قید تھا، چارج شیٹ 2014 میں داخل ہوجانے کے باوجود ابھی تک منظر امام کے اوپر مقدمہ کے سماعت کے ابتدائی مرحلہ فریمنگ آف چارج، یعنی الزامات کا تعین نہیں ہوسکا ہے، 2014 میں ہی الزامات کے تعین پر بحث شروع ہوچکی تھی، آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر جیل میں قید ملزمین کے مقدمات عدلیہ کی تساہلی و سست رفتاری کا شکار ہیں، اس مقدمہ کی ایف آئی آر  این آئی اے ہیڈکوارٹر میں مرکزی وزارت داخلہ کے آرڈر پر 2012 میں درج کی گئی تھی جس میں این آئی اے نے مبینہ طور پر ملک کے خلاف سرگرمیوں کی سازش میں شامل انڈین مجاہدین کے رول اور ملک کے خلاف اس پوری مبینہ سازش کو ناکام کرنے کی غرض سے این آئی اے نے یہ مقدمہ درج کیا، مختلف مقدمات میں جیلوں میں بند ملزمین کو اس مقدمہ میں بھی ملزم بنا دیا گیا اور این آئی اے ان تمام ملزمین کو دہلی تہاڑ جیل میں منتقل کرتی گئی، پھر ان ملزمین کی متعلقہ مقدمات کی چارج شیٹ میں سے ان کے الزامات جمع کئے گئے نیز دہلی میں این آئی اے کی چارج شیٹ تیار ہوگئی، این آئی اے نے اس مقدمے میں اب تک 24 ملزمین کے خلاف 4 چارج شیٹ داخل کی ہیں، ان چارج شیٹ میں کل 369 گواہ ہیں، 283 دستاویز اور دیگر ثبوت اور شواہد کی فہرست چارج شیٹ کے ساتھ داخل کی گئی ہیں، انڈین پینل کوڈ اور یو اے پی اے قانون کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں ان الزامات کے تحت گناہ ثابت ہونے کی صورت میں سزا عمومی طور پر پانچ سال سے سات سال تک کی بتائی گئی ہے۔

اس مقدمہ اور اس سے متعلق پیش کئے گئے حقائق کی روشنی میں پست پشت کارفرما ایک بڑے منظرنامے پر نظر ڈالنا آسان ہوجاتی ہے، این آئی اے کا قیام 2008 میں ممبئی حملے کے بعد پارلیمنٹ سے پاس کئے گئے اسپیشل قانون “دی نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی ایکٹ 2008” کے تحت عمل میں آیا، این آئی اے کو ملک کی سب سے پریمیئر ایجنسی کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ مخصوص مراعات سے نوازا گیا۔ این آئی اے کا مقصد ایک ایسی ماہر اور قابل ایجنسی کا قیام تھا جو ایمانداری اور ماہرانہ صلاحیت کی بنیاد پر مقدمات کی تفتیش کرے، تمام شواہد و ثبوت کو باریک بینی کے ساتھ اگزامن کرے، سچ کو سامنے لائے، شروعاتی دور میں تو این آئی اے نے عوام کا بھروسہ جیتا لیکن اپنے طریقہ کار کو لے کر سوالات کے گھیرے میں گھرتی ہوئی ملک کی اہم ترین ایجنسی اپنا بھروسہ قائم کرنے میں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے، وہ مقدمات جن میں شکایت کنندہ سے لے کر تفتیشی افسران تک یو اے پی اے کی دفعات کا مطلب و مقصد عدالت کو بتانے میں ناکام رہے لیکن این آئی اے صوبائی ایجنسیوں کی ان کمزور چارج شیٹ کو صحیح ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے، تفتیش میں شفافیت ہی انصاف کا پہلا اور سب سے بنیادی تقاضا ہے۔

این آئی اے قانون کی دفعہ 11 کے تحت این آئی اے کے ذریعے تفتیش کئے گئے مقدمات کی سماعت کے لئے این آئی اے اسپیشل عدالت کا قیام عمل میں آئے گا، جب کہ صوبائی ایجنسیوں کے تحت اگر تفتیش ہوئی ہے تو این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت صوبائی حکومت اسپیشل کورٹ قائم کریں گی، اس اسپیشل عدالت کے ذریعے ہی ان مقدمات کی سنوائی ہوگی، اسپیشل کورٹ کا پہلا مقصد ہوتا ہے کہ سماعت تیز رفتار ہوگی، ٹرائل جلد سے جلد مکمل ہوگا، یہی وجہ ہے کہ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 19 کے تحت این آئی اے کے مقدمات کی سنوائی روز بروز ہوگی، دیگر مقدمات پر این آئی اے کے مقدمات کو فوقیت بخشی جائے گی، تاکہ مقدمات کے تصفیہ میں تاخیر نا ہو اور ملک کے خلاف ہونے والی مبینہ سرگرمیوں اور سازشوں کے اوپر سر پردہ اٹھایا جاسکے، گنہگاروں و ملک دشمن عناصر کی بروقت نشاندہی ہوسکے نیز ان کو سزا دی جاسکے لیکن ہم اگر ملک کی راجدھانی دہلی میں این آئی اے کے مقدمات پر نظر ڈالیں نیز این آئی اے اسپیشل عدالت میں زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لیں تو ایک ذہن میں بہت سے شکوک و شبہات جنم لینے شروع ہوجاتے ہیں۔

2008 میں این آئی اے قانون پارلیمنٹ پاس کرتی ہے، 17 دسمبر 2008 کو لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ “ان الزامات میں مقدمات برسہابرس تک زیر التوا رہتے ہیں، این آئی اے کے مقدمات کی سماعت روزانہ کی جائے گی تاکہ مقدمات کو متعینہ وقت میں ختم کیا جاسکے”۔ 18 دسمبر 2008 کو راجیہ سبھا میں بحث کے دوران وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ “ این آئی اے ایکٹ میں اسپیشل عدالت کی تجویز ہے جو کہ ایک فاسٹ ٹریک کورٹ ہوگی اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔” 2019 میں این آئی اے ایکٹ ترمیم کو لے کر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کے دوران وزارت داخلہ نے 15جولائی 2019 کو کہا کہ “پروسیجر کو آسان کیا جارہا ہے کیونکہ ہماری سرکار چاہتی ہے دہشت گردوں کو قانون کے مطابق جلد از جلد سزا دی جاسکے” مزید یہ کہ “این آئی اے کے مقدمات آتے ہی دیگر تمام مقدمات اسپیشل کورٹ سے ہٹ جائیں گے اور دیگر عدالتوں میں منتقل کردیے جائیں گے”۔

2009 میں این آئی اے کا قیام عمل میں آتا ہے اور این آئی اے کے قیام کے ساتھ ہی این آئی اے اسپیشل عدالت کا قیام بھی عمل میں آجاتا ہے، دہلی میں این آئی اے ہیڈکوارٹر واقع ہونے کی وجہ سے ملک بھر کے اہم واقعات اور حادثات پر دہلی ہیڈکوارٹر میں قائم این آئی اے پولیس اسٹیشن (تھانے) میں ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور دہلی پٹیالیہ ہاوس کورٹ کمپلیکس میں موجود نوٹیفائڈ این آئی اے اسپیشل عدالت میں ٹرائل چلتا ہے، گزشتہ 13 برسوں میں این آئی اے ایک بھی کیس کا ٹرائل مکمل کرانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے، 2011 کے ایک اہم مقدمے میں سپریم کورٹ کے تیز رفتار کاروائی کے حکم کے باوجود تقریبا 12 سالوں کے بعد بھی چارج فریم نہیں ہوسکے، یہ سست رفتار سماعت دستور ہند کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی تو کرتا ہی ہے لیکن اس کے نتائج پر اگر غور کریں تو یہ ملک میں مروجہ نظام قانون کی بنیادیں کھوکھلی کررہاہے۔

 این آئی اے مقدمات میں شرح سزا بہت زیادہ ہے، اب تک دہلی میں کل 231 مقدمات این آئی اے نے درج کئے ہیں، جس میں سے 143 مقدمات کی ابھی تفتیش جاری ہے، 38 مقدمات میں مزید تفتیش جاری ہے، 9 مقدمات میں تفتیش مکمل ہوچکی ہے، 6 مقدمات میں کلوزر رپورٹ داخل ہوئی ہے، 12 مقدمے ٹرائل کے مرحلے میں ہیں، 6 مقدمات میں جزوی فیصلہ ہوچکا ہے جبکہ 14 مقدمات میں فیصلے سنائے جاچکے ہیں، یعنی جزوی اور کلی فیصلے کے زمرے میں آنے والے کل 20 مقدمات میں ملزمین سماعت میں ہونے والی تاخیر اور دیگر مجبوریوں یا دباو میں گناہ قبول کرچکے ہیں، ان اعداد و شمار کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ این آئی اے نے کرمنل جسٹس سسٹم میں ایک ایسا نیا ٹرینڈ رائج کردیا ہے جس میں الزامات سخت ترین دفعات کے تحت درج ہوتے ہیں، ضمانت دینے سے قانون منع کردیتا ہے، پانچ سے سات برس کی ممکنہ سزا والی دفعات میں دسیوں سال گزرنے کے بعد بھی چارج فریم نہیں ہوتے، ملزمین کو گناہ قبول کرنے کو مجبور کردیا جاتا ہے اور انصاف کا خون ہوجاتا ہے، 2015 کے ایک مقدمے میں کل 16 ملزمین تھے اور تمام ملزمین عدلیہ کی سست رفتاری اور کالے قانون کے غلط استعمال سے ہار کر گناہ قبول کرنے کو مجبور ہوگئے، یہ ایک نازک لمحہ فکریہ ہے پورے سماج کے لئے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN