لکھنؤ:(ایجنسی)
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا کسانوں سے ملنے کے لیے پیر صبح لکھیم پور کھیری پہنچنے والی تھیں، لیکن انہیں ہرگاؤں کےپاس حراست میں لے لیا گیا۔ لکھیم پور کھیری میں اتوار کو ہوئے تشدد میں 9 لوگ مارے گئے تھے ۔ وہ رات ایک بجے روانہ ہوئی تھیں۔ یوپی کانگریس نے ٹویٹ کر بتایاکہ پرینکا گاندھی کو ہرگاؤں سے حراست میں لے کر سیتا پور پولیس لائن لے جایا جا رہاہے ۔ یوپی کانگریس نے الزام لگایا کہ پرینکا گاندھی سے پولیس اہلکاروں نے زور زبردستی بھی کی، جس کی مخالفت کی گئی۔ پرینکا گاندھی نے یوپی پولیس کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہاکہ وہ ایسے انہیں ساتھ نہیں لے جاسکتے ،پہلے وہ آریسٹ وارنٹ دکھائیں اور پھر گرفتار کرکے لے جائیں۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی اسے لے کر ٹویٹ کیاہے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ پرینکا میں جانتا ہوں تم پیچھے نہیں ہٹوگی۔ تمہاری ہمت سے وہ ڈر گئےہیں ۔ انصاف کی اس عدم تشدد کی لڑائی میں ہم ملک کے کسانوں کو جیتاکر رہیں گے ۔
پی ٹی آئی کے مطابق پرینکا صبح 6 بجے کے قریب لکھیم پور کھیری کی سرحد پر پہنچی تھیں۔ حالانکہ اس سے پہلے پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پرینکا کو لکھیم پور کھیری جانے سے روکنے کے لیے انہیں اترپردیش پولیس نظر بند کر سکتی ہے ۔ اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے اتوار کے لکھیم پور کھیری دورہ کی مخالفت کرنے کے لئے ہوئے تشدد میں زخمی کسانوں سے ملنے کے لئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وہاں جارہی ہیں۔
کانگریس کارکنوں نے سیتا پور پولیس لائنس کی سیکنڈبٹالین کے گیٹ کے باہر احتجاج کیا۔ کارکنوں نے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ کانگریس کارکن سکینڈ بٹالین گیٹ کے باہر پولیس مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔










