لکھنؤ (ایجنسی)
ہندی کے قومی اخبار دینک جاگرن کے پیرمیں شائع مضمون کی سوشل میڈیا پر جم کر مخالفت کی جارہی ہے ۔ جہاں لکھیم پور کھیری میں اتوار کو ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ لکھیم پور تشدد کی رپورٹنگ کو لے کر یوزر کے نشانہ پر آیا ہے ۔ ’دینک جاگرن ‘ اخبار کی کاپیاں جلاکر لوگ اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کررہے ہیں ۔ وہیں ٹوئٹر پر پیر صبح سے ہی دینک جاگرن دلال ہے اور اتنی بے شرمی لاتے کہاں سے ہو ٹرینڈ کررہاہے ۔
لکھیم پور کھیری میں اتوار کو ہونے والے تشدد پر’ دینک جاگرن‘ نے اپنے اخبار میں ایک مضمون لکھا ، جس کا عنوان تھا:’’ ترپردیش میں شرپسند کسانوں کی ہنگامہ آرائی ، 6کی گئی جان‘‘ دینک جاگرن کے اس ہیڈ لائن کو دیکھ کر سوشل میڈیا یوزر مشتعل ہوگئے اور انہں نے اخبار کا بائیکاٹ کرنا شروع کردیا۔
سوشل میڈیا پر لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ دینک جاگرن اخبار کسان کی مخالفت میں خبر چلا رہا ہے اور اس نیوزپیپر نے تو اقتدار کی چاپلوسی کی حد پار کردی ۔ لوگ دینک جاگرن کے پروگرام میں جانے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی مانگ کررہے ہیں ۔
صحافی شیام میرا سنگھ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا :’ اگلے کچھ گھنٹوں میں کے ہر حصہ میں دینک جاگرن اخبار کی کاپیاں جلنی چاہئے۔ میں اس اخبار پر تھوکتا بھی نہیں، لیکن ابھی بازار جاکرخرید وں گا اور اسے جلاکر بتاؤں گا کہ ’ دینک جاگرن دلال ہے۔ سب لکھیم پور کھیری نہیں جاسکتے، مگر کسانوں کی حمایت میں یہ کام تو کرسکتےہیں ۔ ‘
صحافی نوین کمار نے لکھا :’ آج سے دینک جاگرن میں شائع ہونے والے مضمون شاعر کا بائیکاٹ کیجئے ۔ اس کے پروگرام میں جانے والوں کا بائیکاٹ کیجئے۔ وہ ان قاتلوں کی ٹولی میں شامل ہیں جنہوں نے کسانوں کو روندا ہے۔ جو دینک جاگرن کے عدم اطمینان کی مخالفت نہیں کرتے وہ ہندی سماج کے لئے شرم ہیں۔ رنگا سیار کے لکھاریوں کو پہچانیے۔
اشوک کمار پانڈے نے اپنے ٹویٹ میں لکھا:’یہ قاتلوں کااہم اخبار ہے ۔ ہمارے ادیب اس کے پروگراموںمیں ہندی کا بھلا کرنے جاتے ہیں ۔ میں اپنی پوری طاقت سے تھوکتا ہوں اس پر۔
کرن تھاپر دیشی نامی یوزر نے لکھا:1947 کے بعد پہلی بار کوئی اخبار اتنا گرا ہے ۔‘ بتادیں کہ اسی طرح تمام یوزر دینک جاگرن کی مخالفت کرتے ہوئے جم کر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کررہے ہیں ۔










