چندی گڑھ : (ایجنسی)
پنجاب کانگریس کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کا استعفیٰ منظور کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہ رونیت بٹو نئے ریاستی صدر کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں ۔ سدھو نے 28 ستمبر کو ’داغدار‘ افسران اور وزراء کی تقرری پر اختلافات کے باعث کانگریس کی پنجاب یونٹ کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اگلے دن سدھو نے ایک ویڈیو جاری کرکے عوامی طور پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا ۔
در اصل چرنجیت سنگھ چننی حکومت میں ایک سینئر آئی پی ایس افسر اقبال پریت سنگھ سہوتا کو پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ سہوتا کو چارج دئے جانے سے ناراض سدھو نے کانگریس کی پنجاب یونٹ کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ سہوتا فرید کوٹ میں گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے اس وقت کی اکالی حکومت کی جانب سے 2015 میں قائم کی گئی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تھے ۔
30 ستمبر کو سدھو وزیر اعلیٰ چننی سے ملنے کیلئے پٹیالہ سے چندی گڑھ آئے تھے۔ چننی نے 29 ستمبر کو سدھو سے بات کی تھی اور بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی پیشکش کی تھی ۔ چننی سے ملاقات سے پہلے کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے گزشتہ جمعرات کو ریاست کے نئے ڈی جی پی پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ ڈی جی پی نے دو نوجوان سکھوں کو بے ادبی کے معاملہ میں پھنسا دیا اور بادل کنبہ کے لوگوں کو کلین چٹ دے دی ۔
سدھو نے نئے ریاستی ایڈووکیٹ جنرل اے ایس دیول کی تقرری پر بھی سوالات اٹھائے ، جو 2015 میں سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس سمیدھ سنگھ سینی کے وکیل تھے۔










