پٹنہ : (ایجنسی)
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ پارٹی میں اندرونی لڑائی زوروں پر ہے ، اسی درمیان پارٹی کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے دعویٰ کیا ہے کہ تیج پرتاپ یادو آر جے ڈی میں نہیں ہیں۔ وہ تو پارٹی سے برخواست ہیں ۔ انہوں نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ تیج پرتاپ یادو کو پارٹی کا انتخابی نشان لالٹین استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
شیوانند تیواری نے پارٹی کے اندر تیجسوی اور تیج پرتاپ کے درمیان مچے گھمسان کے سوال پر ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ دونوں بھائیوں کے درمیان تنازع کے سوال پر شیوانند تیواری نے کہا کہ تیج پرتاپ یادو کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تیج پرتاپ یادو کو پارٹی کا آفیشیل نشان لالٹین استعمال کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے ، یعنی لالو یادو کے بعد آر جے ڈی میں پارٹی کی وراثت تیجسوی کو مکمل طور پر منتقل کر دی گئی ہے۔
پارٹی کے نائب صدر شیوانند تیواری نے کہا کہ تیج پرتاپ پارٹی میں کہاں ہیں؟ انہوں نے ایک نئی تنظیم بھی بنائی ہے۔ وہ پارٹی میں نہیں ہے۔ برخواست کرنے کا کیا سوال ہے۔ وہ تو خو د ہی برخواست ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے جو تنظیم بنائی ہے اس میں تو انہوںنے لالٹین کا نشان لگایا تھا، تو پارٹی نے ان کو کہہ دیا کہ لالٹین نہیں لگاسکتے ہیں۔ انہوں نے خود قبول کیا کہ ہمیں منع کردیا گیاہے ۔ یہ تو میسیج کلیئر ہے ۔
دریں اثنا ء بہار میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے مہاگٹھ بندھن کے درمیان بڑھتی دور ی ،دونوں سیٹوں پر امیدوار اتارنے کے آر جے ڈی کے اعلان سے کانگریس ناریاض ہے تو اب آر جے ڈی ایک قدم آگے بڑھ کر کانگریس کو نیچا دکھارہی ہے ۔
ایسی صورتحال میں قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ آر جے ڈی ضمنی انتخابات میں کسی بھی قیمت پر کانگریس کے لیے سیٹ خالی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر جے ڈی نے کانگریس کو آنے والے انتخابات میں اپنے فارمولیشن کے مطابق اپنے کردار میں فٹ کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔










