نئی دہلی : (ایجنسی)
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے جمعرات کو لکھیم پور کھیری واقعہ کی سماعت کی۔ عدالت نے جمعہ تک اس معاملے میں اترپردیش حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت اس معاملے میں کس طرح کی جوڈیشیل انکوائری قائم کی ہے اس کے بارے میں بھی جانکاری دے ۔
چارکسانوں سمیت 8 لوگوں کی موت والے واقعہ کو لے کر مرکز و اترپردیش کی حکومتیں سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ملزم کون ہے ، جن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ عدالت نے کہاکہ اسٹیٹس رپورٹ میں یہ بھی بتایا جائے کہ جو 8 لوگ اس واقعہ میں مارے گئے ہیں وہ کون ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ یہ بےحدافسوسناک واقعہ ہے ۔ عدالت نے اترپردیش سرکار سے پوچھا کہ آپ نے کتنے لوگوں کو گرفتار کیاہے ۔
سی جے آئی این وی رمن نے کہاکہ ہمیں معلوم ہوا کہ ایک مہلوک کی ماں اپنے بیٹے کی موت کی وجہ سے پہنچے صدمے کی وجہ سے بےحد سنگین حالت میں ہیں اور انہیں فوراً علاج کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اترپردیش سرکار سے کہاکہ انہیں تمام طبی خدمات مہیا کرائی جائیں۔
یہ سوال پوچھا جارہاہے کہ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی گرفتاری اب تک کیوں نہیں ہوئی ہے۔ آشیش مشرا کھلے عام ٹی وی چینلوں کو بائٹ دے رہے ہیں ۔ ان پر قتل کی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے لیکن اترپردیش کی پولیس انہیں گرفتار نہیں کررہی ہے ۔
اس کے علاوہ ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ اجے مشرا ٹینی کو مرکزی سرکار کب برخواست کرے گی؟ کیونکہ ٹینی کے رہتے ہوئے اس معاملے میں کیا انصاف ہو پائے گا۔؟ ٹینی مرکزی وزارت داخلہ میں مملکت وزیر کے اہم عہدہ پر ہیں، ایسے میں وہ اپنے عہدہ پر بنے رہے تو متاثرین کو انصاف کیسے ملے گا۔
لکھیم پور کھیری واقعہ میں مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا پر کسانوں کو مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے روندنے کا الزام ہے۔ اس واقعہ میں 8 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں 4 کسان بھی شامل ہیں۔ اس بارے میں مشرا کے خلاف قتل کی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ لیکن ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اتر پردیش حکومت نے لکھیم پور تشدد کیس کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج پردیپ کمار شریواستو کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دی ہے۔ اترپردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اونیش کمار اوستھی نے اس سلسلے میں ایک حکم جاری کیا ہے۔ کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے۔یوگی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ایک ریٹائرڈ جج معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے کسانوں کے لواحقین کو 45 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ حکومت نے یہ امداد اہل خانہ کے افراد کو دی ہے۔ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے کی مالی امداد اور مرنے والوں کے لواحقین کے ایک رکن کو سرکاری ملازمت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔










