تحریر :پرتبھا جیوتی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے ایک بار وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئےکہا تھاکہ ’ہی از موسٹ کرٹیسائزڈ مین ان انڈین پولیٹکس ‘(یہ ہندوستانی سیاست میں سب سے زیادہ تنقید جھیلنے والے آدمی ہیں)یہ بات سچ بھی ہے۔ جب مودی ملک کے ایک طاقتور لیڈر کے طور پر ابھر رہے تھے ، تب نہ تو کوئی ایسی سیاسی پارٹی تھی اورنہ میڈیا جس نے مودی پر حملہ نہیں کیاہو ۔ لیکن مودی ان حملوں سے اور طاقتور ہوتے چلے گئے۔ مودی کے ناقدین اور حمایتی دونوں متفق ہیں کہ بی جےپی میں مودی کا قد اب اتنا اونچا ہو گیا ہے کہ اب اکثر یہ کہا جانے لگا ہے کہ مودی بی جے پی اوربی جے پی مودی ہو گئے ہیں ۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی طاقت سیاسی مارکیٹنگ ہیں اور اس کی وجہ سے وہ انتخابات جیتنے کے لیے ’مودی برانڈ‘ ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے سات سال مکمل کر لیے ہیں اور مودی حکومت کے دوسرے دور کا دوسرا سال بھی 30 مئی کو مکمل ہو چکا ہے۔ مودی جیسے ہی مرکز کی اقتدار پر قابض ہوئے بی جے پی کے اچھے دن آگئے۔
مودی کا چہرہ آگے کرکے بی جے پی ایک ایک کرکے کئی ریاستوں میں الیکشن جیتی گئی اور اس کا سیاسی گراف بڑھتا گیا۔ 2014 میں مودی کے آنے کے بعد 2018 تک ملک کی 12ریاستوں میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی سرکار تھی۔ اس وقت بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کی سرکار والی ریاستوں کی تعداد 18 ہے۔ اس سے پہلے اندرا گاندھی کے وقت میں کانگریس کی 17 ریاستوں میں سرکار تھی۔
سنگھ کے پرچارک رہے گووند اچاریہ نے ایک بیان میں کہاتھا کہ مودی سنگھ کے دوسرے پرچارکوںکی طرح خاموشی سے کام کرنے والے نہیں رہے۔ وہ کام بھی پوری طاقت کے ساتھ کرتے ہیں اور اس کی مارکیٹنگ بھی۔ ان کے مطابق ایک لیڈر کو بڑا بننے کے لیے تین ضروری باتیں ہیں ، ناساز گار حالات میں خود کو مضبوطی سے کھڑا کرنے کے لیے پوری تیاری، تکنیک اور وسائل ۔ ناساز گار حالات میں کھڑا رکھنے کے لیے سنگھ کی تنظیم ان کی پوری مدد کرتی ہے اور اب ان کے پاس سوشل میڈیا کی بھی طاقت ہے اور مودی کے پاس اقتدار تک پہنچنے کے لیے بہتر سیاسی سمجھ ہے ۔
ان کا مانناہے کہ مودی الیکشن جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگادیتے ہیں ۔ مودی سیاست کا مطلب صرف طاقت سمجھتے ہیں اور پاور کے لیے ضروری ہے انتخابات میں جیت اور جیت بہتر امیج سے بنتی ہے ۔ مودی نے یہ امیج بنا لی ہے اس لئے وہ اکثر بی جے پی کو جیت دلادیتے ہیں ۔
(بشکریہ :امراجالا)










