نئی دہلی : ( ایجنسی)
لکھیم پور کھیری تشدد معاملے پر آج جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس میں کورٹ نے یوپی سرکار کو جم کر پھٹکا ر لگائی۔ اب معاملے کی سماعت 20 اکتوبر کوہوگی۔ کورٹ میں یوپی سرکار نے آج اسٹیٹس رپورٹ داخل کر دی ہے۔ دوسری طرف آشیش مشرا آج پوچھ گچھ کے لیے کرائم برانچ کے سامنے پیش نہیں ہوا ہے ، اس لئے اس کے گھر پر دوسرا نوٹس چسپاں کردیا گیا ہے ۔
یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامہ میں کہا کہ مہلوک کسان لوپریت کی ماں کی صحت کے لیے لکھیم پور سی ایم او کے ذریعہ میڈیکل ٹیم ان کے گھر بھیجی گئی ہے اور ان کی صحت پر مسلسل نگرانی کی جارہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہلوکین کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا، ساتھ ہی ایس آئی ٹی جانچ کے احکامات دئے گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ لکھیم پور معاملے پر اب دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد سماعت ہو گی۔ کورٹ میں سماعت کے دوران آج یوپی سرکار کو جم کر پھٹکار لگائی اور پوچھا گیا کہ معاملہ جب 302 کاہے تو گرفتاری اب تک کیوں نہیں ہوئی۔ بتا دیں کہ اہم ملزم آشیش مشرا کو آج کرائم برانچ نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا لیکن وہ نہیں پہنچا ۔ ہریش سالوے نے کہاکہ آشیش کل 11 بجے تک پیش ہو جائے گا۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کی طرف سے لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی تحقیقات میں اٹھائے گئے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔ مزید کہا گیا کہ اترپردیش حکومت کو اپنے ڈی جی پی سے یہ یقینی بنانے کے لیے کہا ہے کہ جب تک کوئی دیگر ایجنسی اسے سنبھالتی ہے تب تک معاملے کے ثبوت محفوظ رہیں۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ 302 کے معاملے میں پولیس عام طور پر کیا کرتی ہے؟ سیدھا گرفتار ہی کرتے ہیں نا! ملزم جو بھی ہو قانون کو اپنا کام کرنا چاہئے ۔
سپریم کورٹ میں ہریش سالوے نے کہا کہ کسانوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی لگنے کی بات سامنے آئی ہے ، حالانکہ کورٹ میں یوپی سرکار نے یہ بتایا کہ جائے وقوع سے دو خالی کارتوس ملے تھے ۔
سالوے نے کہا کہ ملزم آشیش مشرا کو نوٹس بھیجا گیا ہے ، وہ آج آنے والا تھا، لیکن اس نے کل صبح تک کا وقت مانگا ہے۔ ہم نے اسے کل ہفتہ 11 بجے تک کی مہلت دی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ اتنے سنگین الزامات پر الگ برتاؤ کیوں کیا جا رہاہے ؟










