نئی دہلی : (ایجنسی)
اپنے اپنے کارناموں کے لیے اعزازات سے نوازا جانا عام سی بات ہے، مگر اسی معاشرہ میں سماجی برابری کی جد وجہد کے نام پر کبھی اپنے سروں پر ’میلا‘ ڈھونے والی کوئی مہترانی فخر سے اپنے نجات دہندہ کے ساتھ سراونچا کرکے کسی تقریب میں اسٹیج پر دکھائی پڑتی ہے تو کسی کا بھی چونکنا فطری بات ہے ۔ کچھ ایسا ہی منظر 9 اکتوبر کو دیکھنے کو ملا جب سماج برابری تحریک کے مجاہد اور بانئی سولبھ انٹرنیشنل بند یشور پاٹھک مشہور تعلیم گاہ شوبھت یونیورسٹی کی پروفیسر شپ سے نوازے گئےاور ان کی کوششوں سے الور (راجستھان ) کی ’میلا‘ ڈھونے والی اوشا چوریا سولبھ انٹرنیشنل تحریک کی کارکن بن گئیں اور اوشا شرما کہلانے لگیں۔ نتیجتاً ان کی بیٹی آج ’ میلا‘ ڈھونے کے بجائے پوسٹ گریجویشن کی طالبہ ہے۔
اتنا ہی نہیں ،دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آج جہاں ’ کال آف نیچر‘ کو سہولت فراہم کرانے والے سولبھ انٹرنیشنل کے بانی ’ پدم بھوشن ‘ ہیں تو ان کی تحریک کی بدولت اپنے سر پر دوسروں کا ’میلا‘ ڈھونے والی اوشا شرما ’پدم شری‘ بنی ہوئی ہیں ۔

ظاہر سی بات ہے کہ اس انوکھے منظر نامہ کا کریڈیٹ چانسلر شوبھت یونیورسٹی کنور شیکھر وجیندر کو جاتا ہے ،جنہوں نے یونیورسٹی کے مرکزی دفتر میں یہ خوبصورت محفل سجائی۔ اہم شخصیات بشمول ماہرین تعلیم و سماجی کارکنان اور صحافیوں سے اظہار خیال کرتے ہوئےبانی سولبھ انٹرنیشنل نے کہاکہ 1970 سے اس سمت میں کام کرتے ہوئے انہوں نے معاشرہ کے عام انسانوں کو ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کی ہے اور اس سے انہیں بے حد خوشی ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ’ میلا‘ ڈھونے کے رواج سے سماج کو بڑی حد تک نجات دلائی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ مرکزی حکومت کی وجہ سے اس کا ز میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کااپنی تحریک کی عزت افزائی کے لیے شکریہ ادا کیا۔
چانسلر شوبھت یونیورسٹی کنور شیکھر وجیندر نے کہاکہ دراصل یہ پاٹھک جی کی عزت افزائی نہیں ہے بلکہ شوبھت یونیورسٹی کی عزت افزائی ہے کہ انہوں نے گنگوہ میں واقع شوبھت یونیورسٹی کے ایک ونگ کی جانب سے پروفیسر شپ کے آفر کو قبول کیا جس سے نئی نسل میں ان کے لکچرز کے ذریعہ سماجی بیداری پیدا ہوگی۔
دیگر اہم شخصیات نے بھی اس موقع پر اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ عام احساس تھا کہ بابائے قوم گاندھی جی نے سماجی برابری کا جو خواب دیکھا تھا بندیشور پاٹھک کی تحریک اس کی شرمندہ تعبیر ہے ۔
اس موقع پر بانئی سولبھ انٹرنیشنل کو مومنٹو ودیگر اسناد پیش کئے گئے۔ قابل ذکر ہے کہ شوبھت یونیورسٹی انجینئرنگ ،سائنس اور مینجمنٹ ودیگر موضوعات کے لیے اپنی شناخت رکھتے ہوئے ’ روحانیت‘ اور ’سماجی برابری اور ہم آہنگی وتکثیریت ‘ کا بھی علیحدہ شعبوں کے ذریعہ اپنے طلباء اور طالبات کو سبق پڑھاتی ہے ۔ نیز صحافیوں کی دنیا میں سب سے بڑی انجمن پریس کلب آف انڈیا بھی ہمت افزائی کرتی ہے۔










