گوہاٹی : (ایجنسی)
افغانستان پر طالباان کے قبضے کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کو لے کر آسام میں اگست میں گرفتار کئے گئے 16 میں سے کم سے کم 14 لوگوں کو مقامی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے ۔ ایک کو چھوڑ کر تمام کے خلاف سخت یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا، جس میں ضمانت ملنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ کورٹ نے کہاکہ انہیں جیل میں رکھنے کے لیے کافی بنیاد نہیں تھے ۔
آسام کے اسپیشل ڈی جی پی (لاء اینڈ آرڈر) جی پی سنگھ نے 21 اگست کو پہلے 14 گرفتاریوں کا اعلان کیا تھا، جبکہ اگلے دن مزید دو اور گرفتار کئے گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے پولیس کو بغیر کسی ڈر اور جانبداری کے کام کرنے کی ہدایت دی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ضمانت حاصل کرنے والوں میں درنگ ضلع کے سپاجھار کے رہنے والے اے آئی یو ڈی ایف کے سابق جنرل سکریٹری اور جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی سکریٹری 49 سالہ مولانا فضل الکریمی بھی ہیں ۔ 6 اکتوبر کو انہیں ضمانت دیتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہاکہ ان کے ذاتی اکاؤنٹ کی فیس بک پوسٹ کو چھوڑ کر ان کے خلاف کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا۔ بھلےہی یہ مان لیا جائے کہ شخص فیس بک پوسٹ کے آتھر ہے ، دیگر قابل اعتراض تبصرے تنہا سنگین جرم بنے گا ۔ اس معاملے میں عرضی گزار کو اور حراست میں رکھنا نامناسب ہوگا ۔
21 ویں آسام پولیس (آئی آر ) بٹالین کے ایک کانسٹیبل سید الحق، جاوید حسین مجمدار ، فاروق حسین خان، معیدالاسلام ، ارمان حسین، میڈیکل اسٹوڈنٹ ندیم اختر لشکر، ریٹائرڈ مولانا بشیرالدین لشکر اور مقبول عالم کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے ۔ کورٹ نے کہاکہ اس سے ایسا کچھ بھی نہیں ملا جس کے لیے اور حراست میں رکھنے کی ضرورت ہو ۔
معاملے کو قریب سے جاننے والے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے کہاکہ زیادہ تر پوسٹ نادانستہ طور پر لگ رہے تھے اور یو اے پی اے جیسی سخت کارروائی کے مستحق نہیں تھے ، کورٹ نے اسے سمجھااور اس لئے کئی کو ضمانت مل گئی ۔ دو لوگوں کو دھوبری سیشن کورٹ سے ضمانت نہیں ملی ہے۔ 22 اکتوبر کو ضمانت عرضی پر سماعت ہوسکتی ہے ۔










