اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگلہ دیش تشدد: جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، اس کومہذب کیسے کہا جا سکتا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
بنگلہ دیش تشدد: جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، اس کومہذب کیسے کہا جا سکتا ہے؟
44
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: | اپوروانند

بنگلہ دیش میں ہندوؤں پرمسلسل حملے۔حکومت کے سخت موقف کے باوجود دنگائیوں پر گولی چلانے کے بعد بھی حملے پھیل گئے۔ عوامی لیگ کی سرکار کےوزیروں اور وزیر اعظم نےباربار کہاکہ مجرموں کو کھوج نکالا جائےگا اور کڑی سزا دی جائےگی۔ لیکن تشددبندنہیں ہوا۔تشدد کے لیےبنگلہ دیش کی جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم کے علاوہ خلافت تحریک کےایک دھڑے اور بنگلہ دیش کی اہم اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور دوسری‘اسلامی’تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ یہ تشدد پوری طرح سے منصوبہ بندسازش کے تحت کیا گیا اور ارادہ ملک کے امن اور اس کے سماجی تانےبانے کومجروح کرنے کا ہے۔

ادھر بی این پی نے حکمراں جماعت پر ہی الزام لگایا کہ آئندہ انتخاب میں عوام کی توجہ اس کی آمریت سے بھٹکانے کے لیے اسی نے اس تشدد کوبھڑکایا ہے یا ہونے دیاہے۔بنگلہ دیش دوسرا ملک ہے لیکن وہاں بھی اس تشدد کو فرقہ وارانہ تشدد کہا جا رہا ہے۔ وہاں بھی اخبار اور انسانی حقوق کے کارکن اور طلبا اور اساتذہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر اس ملک میں اقلیتوں پر اس طرح کا ظلم کب تک جاری رہےگا۔

’ڈھاکہ ٹربیون‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا‘یہ سب کچھ طویل عرصے سے جاری ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کو قابو کرنے میں ہم نے کتنی ہی کامیابی کیوں نہ حاصل کی ہو، یہ بدشکل تشدد باربار، سال در سال سر اٹھا ہی لیتا ہے۔’اس طرح کے تشدد کے لیے ہر بار کوئی ایک وجہ دی جاتی ہے، جس سے آپ تشدد سے زیادہ وجہ پر چرچہ کرنے لگیں اور تشددجائز نہیں تو اس وجہ کی ایک فطری ردعمل جان پڑنے لگے اور اس طرح اس کی ذمہ داری تشدد کو منظم کرنے والوں اور اس میں شامل لوگوں کے ساتھ، یا ان سے زیادہ اس وجہ کی وجہ پر بھی ڈال دی جا سکے۔ سو، اس بار تشدد کا اکساوا بتلایا جا رہا ہے کو ملا میں ایک پوجا کے پنڈال میں مقدس قرآن کا رکھ دیا جانا۔ اس کی خبر پھیلنے میں دیر نہیں لگی اورتشدد بھڑکنےمیں اس سے بھی کم دیر۔

پھرسوشل میڈیا پر خانہ کعبہ کی توہین کرنے والے کسی نوجوان کے مبینہ تبصرے کے بہانے ایک دوسری جگہ، رنگ پور میں تشددبرپاہوا۔ ایک کے بعد ایک شہروں اور علاقوں میں یہ تشدد کیا گیا۔ پوجا کے پنڈال توڑ دیے گئے، مجسموں کو توڑا گیا، گھروں اور دکانوں میں آگ زنی کی گئی، ہندوؤں پر حملہ کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ہر جگہ تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے، پولیس کے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ہندوؤں پر تشدد کرنے والوں میں کچھ مارے بھی گئے ہیں۔پولیس نے ہزاروں دنگائیوں کے خلاف رپورٹ درج کی ہے اور کئی کو گرفتار کیا ہے۔لیکن اب تک ہندوؤں کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔ پوچھا جا رہا ہے کہ جب اس کا خدشہ تھا تو پہلے ہی اسے روکنے کے لیے سرکار نے قدم کیوں نہیں اٹھائے۔

بنگلہ دیش میں کوئی پہلی باراقلیتوں میں سے کسی ایک کمیونٹی پرتشدد ہوا ہو،ایسا نہیں۔ہندوؤں، بودھوں، عیسائیوں کے خلاف الگ الگ وقت پرتشدد ہوتا رہا ہے۔بنگلہ دیش کےبننے کےوقت جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ اب تک خواب ہی رہا۔ وہ یہ کہ ایک زبان پر مبنی سیکولرملک بناہے۔ یہ تجربہ شروع سے ہی مشکل میں ہے۔ بننےکے 4 سال کے اندر ہی اس آئیڈیالوجی پر بڑا حملہ کیا گیا جب بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا تختہ پلٹ دیا گیا اور ان کو، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں وہ عناصر جو اس طرح کے ملک کےآئیڈیا کے خلاف تھے دھیرے دھیرے مضبوط ہوتے چلے گئے۔

سچ تو یہ بھی ہے کہ اس ملک کی پیدائش میں رول نبھانے والے ہندوستان میں بنگلہ دیش کے بننے کو لےکر جو جشن تھا، وہ ایک سیکولر ملک کے بننے کا جتنا نہ تھا، اتنا پاکستان کو توڑ دینے کا تھا۔ یہ بےایمانی بعد میں ڈھٹائی سے بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے میں بدل گئی۔بنگلہ دیش بھی بنگلہ بھاشی لیکن مسلمان ملک ہی بنتا چلا گیا جس میں باقی اقلیت اکثریتی مسلمانوں کی مہربانی پر رہیں۔ابھی جب یہ سطور لکھے جا رہے ہیں، ڈھاکہ میں طلباہندوؤں پر حملوں کے خلاف سڑک پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔آئندہ 23 اکتوبر سے ہندو بودھ عیسائی یونٹی کاؤنسل نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ نے اس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بنگلہ دیش کےقیام کی گولڈن جوبلی کاسال ہے۔ صرف 50سال میں ایک بڑے عزم کوفرقہ وارانہ ذہنیت نے ہرا دیا ہے، ایساخوف محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیلنج بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ اس ہارکو قبول کر لیں گے یا اپنی کمزوریوں کو پہچان کر 1971 میں شروع کیے گئے جرأت مندسفرکے راہوں کی رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔بنگلہ دیش کا استعمال ہندوستان کے لیےیہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس تشدد کے مناظر دکھلاکر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کواور بھڑکایا جائے۔مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

تاریخی اور جغرافیائی وجوہات سے ایک ملک میں جو کچھ ہوگا اس کا اثر دوسرے پر پڑتا رہا ہے اسی لیے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نےحکومت ہند کو کہا ہے کہ وہ اپنے یہاں فرقہ وارانہ عناصر پر لگام لگائے۔ لیکن جس سرکار کا وزیر داخلہ اورباقی وزیربنگلہ دیشیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی زبان کے علاوہ کچھ نہ جانتے ہوں، اس سے یہ امید کچھ زیادہ ہے۔پھر بھی، ہمیں دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم بنگلہ دیش کے ہندوؤں کی مدد اسی طرح کر سکتے ہیں کہ اپنے ملک میں اقلیت،بالخصوص مسلمان اور عیسائی مخالف تشدد کو قابو کریں۔

بنگلہ دیش میں تشدد کے اس نئے چکر سے شاید ہم ایک جنوب ایشیائی پہل کے بارے میں سوچ سکیں جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی برابری کے حق کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل کرے۔ جس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں، وہ مہذب ہی کیسے کہلا سکتا ہے؟ خود کو قاضی نذرالاسلام کا ملک کہنے والا ملک کیا ان کے لائق بھی رہ گیا ہے؟

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN