اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تریپورہ :’جب فسادی مسجد جلاکر چلے جاتے ہیں تب دفعہ 144 لگ جاتی ہے‘

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تریپورہ :’جب فسادی مسجد جلاکر چلے جاتے ہیں تب دفعہ 144 لگ جاتی ہے‘
207
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: نیاز فاروقی

ریاست تریپورہ کے اناکوٹی ضلع کے سرحدی قصبے کیل شہر میں رہنے والے عبدالمنان نامی تاجر بتاتے ہیں کہ منگل کی رات ساڑھے بارہ بجے ایک ہجوم نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں ان کی فیملی کو گھر سے بھاگنا پڑا۔ وہ خود اس وقت گھر پر نہیں تھے اور ریاستی دارالحکومت اگرتلہ میں تھے۔

بنگلہ دیش کے مشرقی حصے سے متصل بھارت کی ریاست تریپورہ ایک ہفتے سے تشدد کی لپیٹ میں ہے جہاں بسنے والے مسلمانوں کے گھروں، کاروباروں اور مساجد پر حملے اور توڑ پھوڑ کے متعدد شواہد سامنے آرہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس اور مقامی لوگوں کے مطابق کم از کم ایک درجن مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے یا انھیں جلایا گیا ہے اور متعدد مقامات پر مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار پر حملے کیے گئے ہیں۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی کوئی خبر نہیں آئی ہے۔

تریپورہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، جن میں سے ایک قابل ذکر تعداد بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے ہندوؤں کی ہے۔ مقامی لوگ تریپورہ میں حالیہ تشدد کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات کے ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا میں ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی اطلاعات کے بعد ملک بھر میں ہندوؤں کے خلاف کئی پرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

واضح کر دیں کہ بنگلہ دیش نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سختی سے کارروائی کی ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے تشدد کے واقعات کے فوراً بعد ملک کی ہندو برادری سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کئی گرفتاریاں کیں اور وزرا نے متاثرہ ہندوؤں سے ملاقات بھی کی۔

عبدالمنان نے تفتیش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کے حوالے کر دی ہے لیکن انھیں اپنی حفاظت سے متعلق تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں 44 سال کا ہوں لیکن میں نے یہاں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب تو رہنا مشکل ہو گیا ہے، اور کوئی کام کیا کرے گا آدمی۔‘

اس حملے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ایک رات میں مبینہ طور’پر ‘وشو ہندو پریشد‘ (وی ایچ پی) کے ارکان نے ان کے گھر پر بھگوا جھنڈا لگا دیا تھا۔

عبدالمنان ایک معروف تاجر ہیں اور ریاستی اسمبلی کے ایک ممبر کے خاص رشتہ دار ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کے گھر پر حملے روکنے کے لیے ناکافی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم جہاں رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کے صرف پانچ سے 10 گھر ہیں۔ اگر ایسے ہی رہا پھر تو یہاں سے وہاں جانا پڑے گا جہاں مسلمان زیادہ آبادی میں ہیں۔‘

ریاست میں مسلمانوں کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے اور وہ کسی ایک جگہ نہیں بلکہ ان کی آبادی پوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہے۔ اگرچہ ریاست گزشتہ کئی برسوں سے پرامن ہے لیکن ماضی میں مقامی آبادی اور ہندو مہاجرین کے درمیان تشدد کی تاریخ رہی ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں سے قائم امن و امان سے ریاست کو اپنی معیشت کی تعمیر نو میں مدد ملی ہے اور بھارت کی ‘ایکٹ ایسٹ پالیسی میں اس کا ایک اہم کردار ہے کیوں کہ اس سے میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

تریپورہ ریاست میں جمعیۃ علما ء(ہند) کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو دی گئی ایک درخواست کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ریاست کے دارالحکومت اگرتلہ اور دیگر قصبوں میں ہندو قدامت پسند جماعت ’وشو ہندو پریشد‘ (وی ایچ پی) اور ہندو جاگرن منچ کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، جو کہ مبینہ طور پر مقامی مسلمانوں کے خلاف مظاہروں میں بدل گئے۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مظاہرین نے مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاحال ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم متعدد مقامات پر حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ ریاست کے شمالی حصے میں تشدد کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘صورتحال قابو میں ہے۔ انتظامیہ نے کچھ علاقوں میں انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کو ایک جگہ پر جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

تریپورہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا(ایس آئی او) کے صدر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بنگلہ دیش میں تشدد کے علاوہ اگلے ماہ ہونے والے میونسپلٹی کے انتخابات بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ‘میونسپلٹی کے انتخابات اس وقت ہونے والے تھے جب کورونا وبا اپنے عروج پر تھی۔ لیکن حکومت وبائی امراض کی بدانتظامی کے بعد فوری طور پر انتخابات کرانے کے خواہشمند نہیں تھی۔ لیکن تشدد کی شروعات ہوتے ہی انہوں نے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے پوری ہندو آبادی اس طرح سے ایک طرف آگئی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی تشدد کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر مسجدوں اور مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں۔ ان میں ایک ویڈیو میں، جس کی مقامی لوگوں نے بی بی سی سے فون پر تصدیق کی ہے، ایک خاتون پولیس افسر مسلمانوں سے احتجاج نہ کرنے اور امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’پولیس سب کی حفاظت کرے گی۔‘ لیکن ویڈیو میں مقامی مسلمانوں کی بھیڑ، جو کہ نظر نہیں آرہی ہے، یہ الزام لگا رہی ہے کہ پولیس اس کے برعکس وی ایچ پی کو ریلیوں کی اجازت دے رہی ہے۔

تریپورہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے صدر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے چند مساجد کا دورہ کیا لیکن حالات نازک ہونے کی وجہ سے ہندو اکثریتی علاقوں کی مساجد تک نہیں جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘پورے تریپورہ کا مسلمان ڈرا ہوا ہے۔ انھوں نے سبھی ہندو نوجوانوں کو ‘ریڈیکلائز کر دیا ہے۔‘

شمالی تریپورہ کی رہائشی تانیہ خانم بتاتی ہیں کہ ہندو قدامت پسند جماعتیں مسلسل پوری ریاست میں ریلیاں نکال رہی ہیں اور مسلم مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ حالات ایسے ہوں گے۔ تریپورہ میں ایسے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘

مقامی لوگ تشدد کے خلاف انتطامیہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ تانیہ خانم کہتی ہیں کہ ’تشدد کئی دنوں سے جاری تھا لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے تشدد کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو پولیس نے فوراً دفعہ 144 کا اعلان کر دیا۔‘ شفیق الرحمان ان سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’جب یہ لوگ مساجد جلا کر چلے جاتے ہیں، تب یہ لوگ 144 لگاتے ہیں۔‘

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN