اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آرین خان کی رہائی کا سبق، سیاسی مفادات کے لیےبے قصوروں کی بلی چڑھا دی جاتی ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
آرین خان کی رہائی کا سبق، سیاسی مفادات کے لیےبے قصوروں کی بلی چڑھا دی جاتی ہے
43
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp


تحریر : شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )

شاہ رخ خان کے ،جنہیں کنگ خان بھی کہا جاتا ہے ،23 سالہ بیٹے نے پورے چار ہفتے یا باالفاظ دیگر پورا ایک مہینہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ۔ اگر آرین خان، شاہ رخ خان کا بیٹا نہ ہوتا ، اگر اس کی حیثیت مکل روہتگی ، امت دیسائی اور ستیش مانے شندے جیسے ،ملک کے اعلیٰ ترین وکلاء کی، خدمات حاصل کرنے کی نہ ہوتی، اگر اس کے لیے بڑے پیمانے پر میڈیا میں آوازیں نہ اٹھتیں ،اور اس کے گھر ’ منت‘ کے باہر چاہنے والوں کی بھیڑ نہ امڈ پڑی ہوتی ،تو کیا ہوتا ؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے ،اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا جو اس ملک کے اکژمسلم اور دلت نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ،وہ بھی جیل کی سلا خوں کے پیچھے سڑتا،اور کسی تنظیم ،جماعت یا کسی حقوق انسانی کے ادارے کی قانونی امداد کا منتظر رہتا۔ سارا منظر نامہ تیار تھا ، تمام مہرے مستعد تھے اور منصوبہ بندی مکمل تھی کہ اسے اس طرح سے ’فٹ ‘ کرو کہ یہ لمبے عرصے تک باہر نہ آنے پائے ۔

میںآرین خان کے معاملہ پر نظر ڈالتا ہوں تو وہ نوجوان یادآنے لگتے ہیں جنہیں اس طرح سےجھوٹے معاملات میں ’فٹ ‘ کیا گیا ،یا ’ ملوث ‘ کیا گیا کہ جب وہ ’باعزت بری ‘ ہوئے ،یا ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر انہیں قید و بند کی زندگی سے چھٹکارہ ملا تو ان کی زندگیوں کے دس سے پندرہ اور بیس قیمتی سال اُن سے چھن چکے تھے ۔یہ ’ آزادی ‘ کے حق کو چھیننے کا کس قدر بے رحمانہ طریقہ ہے! کیا لوگوں کو محمد عامر خان کا نام یاد نہیں ہے !جب دہلی کی پولیس نے اسے ،ایک نہیں دہشت گردی کے اٹھارہ معاملات میں ’ فٹ‘ یا ’ ملوث ‘ کیا تھا ،تب وہ 18 ،سال کا تھا ،اسے پورے ۱۴ ، سالوں کے بعد بری کیا گیا ،اور اس پر جو بیتی اس کا معاوضہ اسے 5لاکھ روہیے ملا۔اس نے اپنے ایک بیان میں بالکل درست کہا ہے کہ ’’ کیا یہ 5 لاکھ روپیے میری زندگی کے ۱۴ برس مجھے لوٹا سکتے ہیں ؟‘‘ ۔صرف ایک محمد عامر نہیں ہے ،کتنے ہی محمد عامر پولیس ، ایجنسیوں اور فرقہ پرست انتظامیہ و انتہائی متعصب ذہنیت رکھنے والے سیاست دانوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھےہیں ۔ مفتی عبدالقیوم کی مثال لے لیں : 2002ء میں گجرات کے اکثردھام مندر پر ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا ( یہ حملہ آج تک مشکوک ہے) اس حملے کی منصوبہ بندی کے لیے مفتی عبدالقیوم اور چند دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ،پورے گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد مفتی صاحب کو عدالت نے بری کیا تھا ،ان کے خلاف کوئی ایک ثبوت نہیں مل سکا تھا ۔

معاملہ وزیراعظم نریندر مودی کے گجرات کا تھا ، اس میں گجرات کا ایک ایسا پولیس افسرڈی جی ونجارا ملوث تھا ،جس پر کئی فرضی مڈبھیڑوں کے الزامات لگے ہیں ،اس کا نام ممبرا کی ایک مسلم طالبہ عشرت جہاں کے ’ فرضی مڈبھیڑ ‘ میں بھی شامل ہے( اس معاملہ میں ونجارا گرفتار ہوا تھا ، مگر کہا جاتا ہے کہ سیاسی آقاؤں نے اسے بچا لیا) ۔اکژدھام مندر حملہ ،سیاست دانوں کے لیے، سیاسی مفادات کے حصول کا اور پولیس والوں کے لیے ،ترقی کی منزلیں طے کرنے کا،ایک ذریعہ بن گیا تھا ،یا شاید اسی مقصد کے لیے یہ حملہ ہوا تھا ۔مزید نظر ڈالیں :بات دسبمبر ۲۰۰۱ء کی ہے ،جب گجرات کے سورت شہر میں ایک سمینار میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ۔گرفتارشدگان کی تعداد ۱۲۷ تھی ، ان پر ممنوع تنظیم ’ اسٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ‘ ( سیمی ) سے تعلق کا الزام تھا ،ان کی زندگیاں گرفتاری کے بعد جہنم بنا دی گئیں ۔ سورت کی ایک عدالت نے ۱۹ سال کے طویل عرصے کےبعد، مارچ 2021 ء میں سب کو بری کردیا ،جج نے اپنے فیصلے میں کہا ’’ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں قطعی ناکام رہا ہے کہ ان سب کا کوئی تعلق سیمی سے ہے لہذٰا ان سب کو بری کیا جاتا ہے ۔‘‘ بری ہونے تک ۱۲۷ ’ ملزمین ‘ میں سے پانچ کا انتقال ہوچکا تھا ۔ اس معاملہ میں پھنسائے جانے والے محمد عبدالحی کی عمر آج 66 سال ہے ،وہ ایک اسوسی ایٹ پروفیسر تھے لیکن اس طویل مقدمے کی وجہ سے انہیں ترقی نہیں ملی ۔55سالہ آصف اقبال سورت میونسپل کارپوریشن میں پرائمری ہیلتھ کیئر ورکر تھے ،انہیں پہلے معطل کیا گیا پھر برخاست کر دیا گیا ،ان کا کہنا ہے کہ ’’ میری زندگی برباد کر دی گئی ۔‘‘

فہرست بہت طویل ہے ۔جمعیۃ علما ءمہاراشٹرا ( ارشد مدنی) کی لیگل کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ ہیں جو ’ ملوث ‘ کیے گئے ،پھنسائے گئے اور ان کی زندگیاں برباد کر دی گئیں ،اگر انہیں ہماری قانونی امداد نہ ملتی تو شاید وہ جیل ہی کے اندر آخری سانس لیتے ۔‘‘ اگر کوئی ان بے بسوں کے پیچھے قانونی امداد کے لیے نہ ہو تو اندازہ کر لیں کہ ان کی زندگیاں کس قدر تاریک بن سکتی ہیں ۔ جمعیتہ لیگل کمیٹی کے ایک نوجوان وکیل شاہد ندیم نے ، شاہ رخ خان کے بیٹے آرین کو ملی ضمانت کے تناظر میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ’’ اتر پردیش کے بستی ضلع کا ایک نوجوان رضوان داعش سے مبینہ تعلق کےلیے گرفتار کیا گیاتھا ،اس کی ضمانت کی درخواست پر ہائی کورٹ میں بحث ختم ہو چکی ہے اور جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ،اسے بھی ایک مہینہ گزر چکا ہے ، اب تک وہ فیصلہ سنایا نہیں گیا ہے ۔‘‘ انہوں نے ایک اور افسوس ناک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کو طول دیا جاتا ہے ،’’ داعش سے مبینہ تعلق کے الزام میں اقبال احمد کبیر احمد ساڑھے پانچ سال تک جیل میں رہا ،ابھی کوئی دو مہینے قبل اسے ضمانت پر رہائی ملی ہے ۔اس کی درخواست ضمانت پر سات آٹھ مہینے تک سماعت چلتی رہی ،اسی طرح ایک اور نوجوان رئیس احمد داعش سے مبینہ تعلق کے الزام میں ڈھائی سال سے سلاخوں کے پیچھے ہے ،اس کی درخواست ضمانت پر ڈھائی سال سے سماعت ہو رہی ہے ، کبھی سرکاری وکیل نہیں آتا تو کبھی کوئی اور اڑچن سامنے کھڑی کر دی جاتی ہے ۔‘‘ یہ حال ہے ہماری عدلیہ کا ! کہا جاتا ہے کہ عدالتوں پر بڑا بوجھ ہے ،جج صاحبان بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ عدالتیں کتنا کام کرتی ہیں ، جج صاحبان مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے کتنی جد و جہد کرتے ہیں ! اب یہی دیکھ لیں کہ اس ’ ڈیجیٹل انڈیا ‘ میں ضمانت دے دی گئی ہے ،یہ اطلاع تک ہاتھ سے دی جاتی ہے ۔اگر ای میل کے ذریعے آرین خان کو ملنے والی ضمانت کی دستاویز جیل حکام کو بھیج دی جاتی تو اسے مزید ایک رات جیل میں نہ گزارنا پڑتی۔کیا اس طرح سے مقدمات کا بوجھ کم ہو سکتا ہے! نہیں ۔ ہم لاکھ ’ ڈیجیٹل انڈیا ‘ کا نعرہ لگائیں اس کا کوئی اطلاق عدالتی مسائل کے حل کے لیے نظر نہیں آ رہا ہے ۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی ،ذکر آرین خان کا تھا،جسے پورے ایک مہینے کے بعد ضمانت پر رہائی ملی ہے۔یہ کیس ایک مثال بن گیا ہے ،یہ بتاتا ہے کہ ایجنسیاں اور پولیس افسران اگر کسی کو ’ سبق ‘ سکھانے پر آئیں تو کس کس طرح سے اُسے مقدمہ میں الجھا سکتے ہیں،بلی چڑھا سکتے ہیں ۔نارکوٹکس کنٹرول بیورو( این سی بی ) کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے پر ، جنہیں مہاراشٹرا کے اقلیتی امور کے وزیر اور این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک ،سمیر ’ داؤد‘ وانکھیڈے کہتے ہیں ،لگے الزامات سنگین ہیں ۔بات صرف اس الزام کی نہیں ہے کہ انہوں نے سرکاری نوکری پانے کے لیے اپنے ’ برتھ سرٹیفیکیٹ ‘ سے چھیڑ چھاڑ کی ،مسلمان ہوتے ہوئے خود کو ’ دلت ‘ لکھوایا اور ایک دلت کا حق مار کر ملازمت حاصل کی ،بلکہ افسوس ناک یہ الزامات ہیں کہ انہوں نے فرضی کیس بنائے اور ہفتہ وصولی کے لیے بڑے بڑے لوگوں کو ،بالخصوص فلمی دنیا کے لوگوں کو ہراساں کیا ۔ آرین خان کے معاملہ میں کئی انکشافات ہوئے ہیں ۔پتہ چلا ہے کہ آرین خان کو پکڑ کر جو شخص کرن گوساوی این سی بی کے آفس لے جا رہا تھا وہ ’ پنچ گواہ ‘ تھا! بھلا پنچ گواہ کب سے پولیس اہلکاروں کا کردار نبھانے لگے ہیں ؟ یہی نہیں این سی بی کے دفتر میں اس نے آرین کے ساتھ سیلفی لی اور موبائل پر اس کی کسی سے بات کرائی! کیا این سی بی کسی گواہ کو اس قدر اختیارات دیتی ہے؟ مزید یہ کہ اس پر پہلے سے دھوکہ دھڑی کے معاملات تھے ، نیز وہ پہلے بھی این سی بی کا گواہ بن چکا تھا ! تو کیا این سی بی کو اور گواہ نہیں مل رہے تھے؟ کرن گوساوی کو وانکھیڈے نے جو چھوٹ دے رکھی تھی اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، خاص کر اس لیے کہ نواب ملک نے صاف صاف وانکھیڈے پر ’ ہفتہ وصولی ‘ کا الزام لگایا ہے۔ اور اس وصولی معاملہ میں شک ہے کہ گوساوی ’ بیچ کا آدمی ‘ یا ’ دلال ‘ تھا۔ اب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایک ہیکر کی خدامات حاصل کرنے اور آرین خان کے واٹس ایپ چیٹس کو اس کے ذریعے مسخ کرانے یا کہیں کہیں الفاظ تبدیل کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔ وانکھیڈے پر ایک سنگین الزام یہ بھی ہے کہ ان کے عالمی ڈرگس مافیا سے تعلقات ہیں ۔ معاملہ سنگین ہے ،اور غور کریں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بےقصوروں کو پھنسانے کے لیے ایجنسیاں اور پولیس اہلکار ہر حد کو پار کر سکتے ہیں ۔اس معاملے کا ایک پہلو سیاسی ہے ،کہا جا رہا ہے کہ زوفرانی ٹولہ شاہ رخ خان کو ’ سبق ‘ سکھانا چاہتا تھا اور اس نے وانکھیڈے کو استعمال کیا۔ نواب ملک کے مطالبے کی ہر ایک کو حمایت کرنی چاہیے کہ اس معاملہ کی پوری سنجیدگی سے تفتیش ہو تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔اور بے قصور کسی بھی حال میں پھنسائے نہ جا سکیں ،کیونکہ ان کے پیچھے نہ کوئی شاہ رخ خان ہوتا ہے ، اور نہ ہی مکل روہتگی جیسے بڑے وکیل ،اور نہ ہی عدلیہ کو ان سے کوئی ہمدردی ہوتی ہے ،بالخصوص نچلی عدالتوں میں ۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN