نئی دہلی : (آر کےبیورو)
معروف نوجوان لیڈر اورویلفیئر آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ملک میں ان دنوں مسلم کمیونٹی جن چیلنجوں اور آزمائشوں سے دو چار ہے ان کا سامنا کرنے اور فاشی قوتوں کو جواب دینے میں مبینہ سیکرلر پارٹیوں نے منافقت اوربزدلی کا مظاہرہ کیا، جبکہ مسلم جماعتوں نے بھی اپنی کمیونٹی کو مایوس کیا ہے۔ این آر سی کے ایشو سے لے کر تبدیلی مذہب قانون تک سیکولر پارٹیاں مجرمانہ حد تک خاموش رہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ بی جے پی کے ایجنڈے میں پھنس گئی ہیں۔
’’ روز نامہ خبریں‘‘ کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے مشورہ دیاکہ مسلمان حوصلہ نہ ہاریں، مشتعل نہ ہوں،گیڈر بھبھکیوں میں نہ آئیں جو لوگ پلواما کرسکتے ہیں وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ رہے کہ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہائی سیکورٹی کے درمیان ایک گاڑی کیسے آر ڈی ایکس کا اتنا بڑا ذخیرہ لے کر آگئی اور وہ سانحہ ہوا جس کا پورے ملک کو دکھ ہے۔ پورا حزب اختلاف خاموش رہا۔ اس سوال پر انتقامی دھمکیوں کے لیے بیانیہ میں کرنا کیا چاہئے ؟مسلمانوں تو ہے ہی صابر وشاکر وہ کہاں رد عمل کررہا ہے ۔ ڈبلیو پی آئی کے صدر نے کہاکہ دو تین سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلم لیڈر شپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو متنبہ کرے، حکمراں جماعت پر آئینی حدوں کو پھلانگ کر ایک کمیونٹی کے خلاف انتقامی زبان کا استعمال کررہے ہیں۔ دوسرے ایسے بیانات کو عدالت میں چیلنج کیا جائے، اشتعال کا جواب اشتعال سے نہ دیں، ان کی پچ پر جا کر نہ کھیلیں۔یہ کام مسلم تنظیموں کو کرنا چاہئے ۔ انہیں ڈائیلاگ کرنا چاہئے۔ اپوزیشن سے بھی اور حکمراں پارٹی سے بھی۔ انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیاجائے تبھی حالات کا مقابلہ کرنا ممکن ہے ۔
کیا کرنا چاہئے:
مسلم لیڈر شپ حکومت کو متنبہ کرے
اشتعال انگیز بیانات کو عدالت میں چیلنج کیاجائے
بی جے پی کی پچ پر جاکر نہ کھیلیں، اشتعال کاجواب اشتعال نہیں
مسلم تنظیمیں ہر سیاسی پارٹی سے ڈائیلاگ کریں،اپنا موقف واضح کریں
اکثریتی کمیونٹی کی غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت
انہوں نے کہاکہ پہلے کوئی مسئلہ ہوتا تھا غیرمسلم اکثریت باہر نکلتی ، اب ایسا نہیں ہے، مثلاًبابری مسجد پر فیصلہ آیا سپریم کورٹ کا فیصلہ اور آبزرویشن الگ ہے پھر ہندوؤں کی صفوں سے کوئی آواز نہیں ابھری یہ المیہ ہے ۔ کرکٹ ٹیم کے محمد شامی کو ٹارگٹ کیا گیا تو وراٹ سامنے آئے یہ سکون دینے والی بات ہے، مگر اتنا کافی نہیں ہے ۔ حالات واقعی نازک ہوتے جارہے ہیں ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔









