نئی دہلی: (پریس ریلیز)
گیارہ نومبر ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابو الکلام آزاد کا یوم پیدائش ہے جو بھارت میں یوم تعلیم سے منسوب ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ’یوم تعلیم‘ کے اہتمام میں اب وہ جوش و خروش نہیں رہا۔ بلکہ متعصب ذہنیت ان کی تذلیل کو حب الوطنی سمجھنے لگی ہے،ایسی ذہنیت کا کہنا ہے کہ ایک مولوی جو تعلیم میں پختہ تھا نہ عصریات سے آشنا تھا، آزاد بھارت کا پہلا وزیر تعلیم بنادیا گیا۔ یہ ملک کی بد نصیبی ہے کہ جو قائدین ملک کی سا لمیت کے ستون ہیں انہیں بس ان کے طبقے کا ہی نمائندہ بنا دیا گیا۔ معمار دستور ہند ڈاکٹر امبیڈکر دلتوں کے لیڈر بنا دئیے گئے اور متحدہ ہندوستان کے خواہاں مولانا آزاد مسلمانان ہند کے نمائندے بنا دئے گئے ۔
یہ باتیں مرکزی تعلیمی بورڈ جماعت اسلامی ہند کے چیئرمین جناب مجتبیٰ فاروق نے پریس کو جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ” مولانا آزاد نے 1900ء میں 12 سال کی عمر میں ’المصباح ‘کی ادارت کی، 1903ء میں ماہنامہ ’لسان صدق‘ جاری کیا۔ 20 سال کی عمر میں اخبار ’الہلال‘ کا اجرا کیا۔ اس کی مقبولیت بھارت کی آزادی کی تحریک میں بنیاد کی حیثیت حاصل کرنے لگی تو انگریز حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کردی۔ تحریک آزادی میں حصہ لینے کے پاداش میں کئی بار جیل گئے۔ ایسی شخصیت پر اعتراض کو جہالت و تنگ نظری نہیں تو اور کیا کہا جا سکتا ہے؟۔
مجتبیٰ فاروق نے مزید کہا کہ”آج ملک کے لئے جوسب سے بڑا چیلنج ہے وہ تعلیم کا مسئلہ ہے۔آزادی کے 75 سال گزرجانے کے باوجود بھی ہم تعلیم کے میدان میں عدل و مساوات کو قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ اس موقع پر مولانا ابو الکلام آزاد کے تعلیمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس یوم کو ایک اہم ترین دن کے طور پر منائے اور ایک تعلیمی مشن کا آغاز کرے۔مولانا نے آزاد ہندوستان کی وزارت تعلیم کو اپنی بیش بہا کارکردگی سے مضبوط بنیادیں فراہم کی تھیں۔ مولانا کے تعلیمی خدمات اور نظریات پر ہماری یونیورسٹیوں میں ریسرچ کی ضرورت ہے۔آج کے دن ہمیں مولانا کے ان نظریات کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے جو طلباء کو بااخلاق اور سماج کے لئے صالح افراد فراہم کرنے کا کام کرے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ”بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج تعلیم کو بھی فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ ملک کے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ آج بڑی تیزی کے ساتھ تعلیم کو تجارت کی شکل دی جارہی ہے۔ اس سے ملک میں غریب لیکن ذہین طلباء کو مواقع مل نہیں پا رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسیاں اور اسکیمات وضع کرے جس کے ذریعہ غریب اور دیہی علاقوں کے طلباء کو بھی مساوی تعلیمی مواقع فراہم ہوں۔’یوم تعلیم‘ کے موقع پر بڑے پیمانے پر مولانا ابو الکلام آزاد کی خدمات کو سماج کے سامنے پیش کیا جائے۔ یوم تعلیم کے موقع پر ملت کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ تعلیم کے میدان میں انفرادی اور اجتماعی طور پر کس قسم کی کارکردگی کو انجام دے رہے ہیں؟ اس کا بھی احتساب کریں۔ ملت کا ہروہ تعلیم یافتہ فرد جو بڑے عہدوں پر فائز اور پیشوں سے منسلک ہیں انہیں چاہئے کہ ایک یا دو غریب طلباء کے تعلیمی اخراجات اپنے ذمہ لیں۔









