کاس گنج : (ایجنسی)
یوپی کے کاس گنج ضلع میں لڑکی کے اغوا کے ایک معاملہ میں 9 نومبر کو پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے نگلہ سید محلے کے 22 سالہ الطاف کی تھانہ میں موت کے معاملہ میں اس کے والد نے پولیس کی کارروائی پر اطمینان کا اظہارکیا ہے ۔ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ بیٹے کا قتل ہوا ہے ، حالانکہ بیوی اور پریوار کے دیگر افراد کا الزام ہے کہ پولیس کے دباؤ میں والد نے اپنا بیان بدلا ہے ۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس نے پولیس لاک اپ کے باتھ روم میں اپنے جیکٹ کے ہڈ کی تار کا استعمال کرکے خود کا گلا گھونٹ لیا تھا۔
کاس گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پرمود بوترے کے مطابق معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس وقت پانچ پولیس اہلکاروں کو لاپروائی برتنے پر معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف نے تھانہ میں کالی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس نے ہڈ (جیکٹ کی) کی ڈوری سے اپنا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، جسے اس نے بیت الخلا کے نل سے باندھ دیا۔ جب وہ کچھ دیر تک واپس نہ آیا تو پولیس اہلکاروں نے اندر جا کر اسے بے ہوش پایا۔ اسے اشوک نگر کمیونٹی ہیلتھ سنٹر لے جایا گیا، جہاں کچھ دیر بعد اس کی موت ہو گئی۔
دوسری جانب الطاف کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے والد نے بھی اس پر قتل کا الزام لگایا تھا۔ اس دوران ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں ان کے والد نے کہا ہے کہ الطاف کی موت خودکشی ہے، جو ان کے پہلے بیان سے متضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کی کارروائی سے مطمئن ہیں۔
دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں پر لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے لاپروائی کے نام پر کچھ پولیس اہلکاروں کی معطلی کو بھی شرمناک کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں انصاف اور بی جے پی کے دور حکومت میں پولیس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔
پولیس حراست میں ایک اور نوجوان کی موت تکلیف دہ اور شرمناک: مایاوتی
دریں اثناء بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش کے کاس گنج میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی مشتبہ موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ’’کاس گنج میں پولیس کی حراست میں ایک اور نوجوان کی موت انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ حکومت واقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے اور متاثرہ خاندان کی مدد بھی کرے۔پولیس حراست میں موت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ یوپی حکومت دن بہ دن حراست میں موت کو روکنے اور پولیس کو عوام کا محافظ بنانے میں ناکام ہو رہی ہے۔
پولیس حراست میں الطاف کی موت پر ہنگامہ، حزب اختلاف یوگی حکومت پر حملہ آور
اتر پردیش کے کاس گنج میں الطاف احمد کی پولیس حراست میں موت کے معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ 21 سالہ الطاف کے والد نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے۔ الطاف کے والد چاہت میاں کے مطابق وہ خود اپنے بیٹے کو پولیس چوکی چھوڑ کر آئے تھے۔ پولیس نے یقین دہائی کرائی تھی کہ وہ پوچھ گچھ کرنے کے بعد چھوڑ دیں گے مگر اس کا قتل کر دیا گیا۔ اس معاملہ میں 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وہیں۔ حزب اختلاف کی جانب سے اس معاملہ پر یوگی حکومت کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔
کانگریس کی یوپی انچارج پرینکا گاندھی نے کاس گنج میں پولیس حراست میں نوجوان کی موت کے حوالہ سے یوگی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ پرینکا نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’کاس گنج میں الطاف، آگرہ میں ارون والمیکی اور سلطان پور میں راجیش کوری کی پولیس حراست میں موت جیسے واقعات سے واضح ہے کہ رہبر رہزن بن چکے ہیں۔ یوپی پولیس حراست میں موت کے معاملہ میں سر فہرست ہے۔ بی جے پی راج میں نظم و نسق ختم ہو چکا ہے۔ یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق پرینکا گاندھی آج کاس گنج کا دورہ کر سکتی ہیں۔
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اس معاملہ پر ٹوئٹر لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ’’کیا اتر پردیش میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز باقی رہی ہے؟‘‘ جبکہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی اس معاملہ پر یوگی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
خیال رہے کہ 21 سالہ الطاف کاس گنج کے کوتوالی علاقہ کے سید اہرولی گاؤں کا رہائشی تھا۔ اسے آئی پی سی کی دفعات 363، 366 کے تحت ایک نابالغ لڑکی کو شادی کے ارادے سے اغوا کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کے لئے کوتوالی لایا گیا تھا۔ وہیں کاس گنج کے ایس پی روہن بوترے نے بتایا کہ ملزم حوالات کے بیت الخلا میں گیا تھا، جب بہت دیر تک باہر نہیں نکلا تو دیکھا گیا کہ اس نے اپنی جیکٹ کی ہُڈ کی ڈوری سے نال میں پھانسی لے لی۔ آناً فاناً میں اسے کاس گنج کے ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں 20 منٹ کے بعد ہی اس نے دم توڑ دیا۔
ایس پی گاس گنج نے لاپروائی برتنے کے الزام میں انسپکٹر کوتوالی کاس گنج ویریندر سنگھ اندولیا، سب انسپکٹر چندریش گوتم، سب انسپکٹر وکاس کمار، ہیڈ محرر گھنیندر سنگھ، کانسٹیبل سوربھ سولنکی کو فوری اثر سے معطل کر دیا۔ وہیں الطاف کے اہل خانہ پولیس کی خود کشی کی کہانی کی تردید کر رہے ہیں۔









