نئی دہلی : (ایجنسی)
کنگنا رنوت کے بھیک میں آزادی ملنے کےبیان پر اب اس چینل نے احتجاج کیا ، جس کے پروگرام میں انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ چینل نے یہ مخالفت کنگنا کے بیان کے دو دن بعد کی ہے، جس کے بعد سے لوگ اس کی شدید تنقید کررہے ہیں۔
درحقیقت کنگنا کے نیوز چینل ٹائمس ناؤ کو دئے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ جو آزادی ہمیں ملی، وہ تو بھیک تھی۔ اصلی آزادی تو سال 2014 میں ملی ہے۔ کنگنا کے اس بیان کے بعد سے ہنگامہ مچ گیا اور لوگ اس کی شدید تنقید کرنے لگے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے اس بیان کے لیے کنگنا اور چینل دونوں کی تنقید کی تھی۔ بی جے پی کے کچھ لیڈر بھی اس بیان کی مخالفت میں اتر آئے تھے اور اسے مجاہد ین آزادی کی توہین بتایا تھا۔ اب جا کر چینل نے اس بیان سے دوری بنا لی ہے۔
چینل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کنگنا رنوت یہ سوچ سکتی ہیں کہ بھارت کو 2014 میں آزادی ملی، لیکن اس کی حمایت کوئی بھی سچا ہندوستانی نہیں کر سکتا۔ یہ ان لاکھوں مجاہدین آزادی کی توہین ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی نذارانہ پیش کیا تاکہ موجودہ نسل جمہوریت کے آزاد شہری کےطور پر عزت نفس اور وقار کی زندگی کزار سکے۔
دودن پر چینل کے احتجاج کرنے پر عام لوگ کے ساتھ – ساتھ صحافی اور لیڈر بھی اس کی تنقید کررہے ہیں۔ ٹوئٹر یوزر ساریکا نے لکھا :’ بہت چھوٹی! بہت دیر ہو گئی۔‘
صحافی دیپک شرما نے کہا: ’’بڑی دیر لگا دی آپ کے ادارتی بورڈ نے صفائی دینے میں۔ سچ یہ ہے کہ آپ کے اینکر ، آپ کے چینل ہیڈ، کنگنا جیسوں کے ساتھ اس ٹیم کاحصہ ہیں ، جو پچھلے سات سال سے یہ تشہیر کررہے ہیں کہ ملک کو آزادی 2014 کےبعد ملی۔ سچ یہ بھی ہے کہ آپ کو صفائی دینے کا بھی اب اخلاقی حق نہیں ہے۔
کانگریس لیڈر سپریا شرینیٹ نے لکھا:’اس سے ملک کو مشتعل ہونے دیا اور اس اسٹنٹ کے لیے 48 گھنٹے کا وقت لیا ۔ انٹرویو کےدوران ان کے ایڈیٹر نے اس توہین پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔ یہ ان کے معیار کے لحاظ سے بھی ایک نیا نچلا پن تھا۔‘
متھالی مکھرجی نے کہا:’مجھے لگتا ہے کہ اینکر کے ہاتھ سے مائیک گر گیاتھا ( بالکل حیدر آباد میں اس سیل فون کی کہانی کی طرح) اس لئے وہ اسے چیک یا ٹھیک نہیں کر سکی۔ پورے شو کے دوران ۔‘
گورو گوگوئی نے لکھا:’’ہندوستان کی جد وجہد آزادی کے بیان کی توہین ٹائمس ناؤ کے پلیٹ فارم کے ذریعہ بڑھایا گیا تھا۔ چینل کے لیڈ اینکر کے ذریعہ اس کی تعریف کی گئی۔ دونوں کو اپنی حمایت پر معافی مانگنی چاہیے۔ نیز وزیر داخلہ کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ ہندوستانی ٹیکس دہندگان اس اداکارہ کی زیڈ سیکورٹی کے لئے کیوں ادائیگی کر رہے ہیں۔
ساتھ ہی صحافی ابھیسار شرما نے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کنگنا کے خلاف اس بیان کے کئی کیس بھی درج ہیں۔ اداکارہ کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔









