دیوبند،(سمیر چودھری)
جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ علاقہ کے موضع کیندکی میں بنائے جارہے بھارت اسکاؤٹ گائیڈ ٹریننگ سینٹر کے خلاف ہندو تنظیموں کی جانب مخالفت کا سلسلہ جاری ہے،اس مناسبت سے آج گاؤں میں پہنچ کر ڈاسنا مندر کے سوامی نرسمہا نند گری نے اس سینٹر اور عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف خوب زہر اگلا اور کہاکہ اس طرح کا سینٹر دیوبند میں تو کیا پورے ملک میںکہیں نہیں بننے دیاجائیگا۔انہوں نے مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے ہندو سماج سے آباد بڑھانے پر زوور دیا اور کہاکہ اگر اس پر توجہ نہیں دی گئی اس ملک سے ہندو سماج کو ختم کردیا جائےگا۔
کیندکی گاؤں میں منعقدہ پنچایت میں خطاب کرتے ہوئے سوامی نرسمہانند گری جمعیۃ اور دارالعلوم دیوبند کونشانہ بنایا اور کہاکہ ملک اور ہندوؤں کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح کے تربیتی مراکز تیار کیے جا رہے ہیں،انہوںنے مزید کہاکہ اگرگاؤں میں بنائے جانے والے اس’ دہشت گردی‘ کے ٹریننگ سینٹر کو نہ روکا گیا تو یہ ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ دارالعلوم دیوبند پر انتہائی گھٹیا اور سنگین الزام عائد کرتے ہوئے سوامی نرسمہانند نے کہا کہ آج دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اسلامی جہادیوں نے پورے ملک کو خانہ جنگی میں جھونکنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ بھی کہا کہ سیکولرزم اور جمہوریت کا رونا رونے والوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ملک صرف ہندوؤں کی وجہ سے ہی سیکولر اور جمہوری ہے۔ اگر یہاں ہندو ختم ہو گئے تو اس ملک میں نہ جمہوریت رہے گی اور نہ ہی سیکولرزم باقی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کو اپنے وجود اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے خود آگے آنا ہو گا ورنہ عراق، شام، افغانستان، پاکستان کی طرح اسلامی جہادی ہندوؤں کی اس آخری پناہ گاہ کو بھی تباہ کر دیں گے۔
سوامی نرسمہانند نے کہا کہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے ہندوؤں کو اپنی آبادی میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سنیاسی ضرور ہیں لیکن لڑنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ایسے میں جہاں ہندو سماج کو ان کی ضرورت ہے، وہ ان کے ساتھ کھڑے نظر آئینگے۔آج سوامی نرسمہانند گری کے کیندکی میں اعلان شدہ پروگرام کو لیکر انتظامیہ بھی چوکس نظر آئی،گاؤں میں کئی تھانوں کی فورسز کو تعینات کی گئی تھی اتنا ہی نہیں بلکہ آر آر ایف کے جوانوں کو یہاں بھی تعینات کیا گیا تھا۔
اس دوران اے ڈی ایم ایف راجیش مشرا، ایس پی دیہات اتل شرما، ایس ڈی ایم دیپک کمار، سی او نیرج سنگھ وغیرہ خود بھی موجودرہے۔پنچایت کی صدارت وشمبر شاستری اور نظامت دھرمیندر کٹاریہ نے کی۔ اس دوران انوج تیاگی، ابھیشیک تیاگی، راہل بالمیکی، امت تیاگی، تیج پال، رچیت، ناتھیرام، سنی بالمیکی، پردھان مونٹی تیاگی، دشینت تیاگی، دیپک کوری، آکاش کشیپ اور راجیو دھیمان سمیت کثیر تعداد میں لوگ شامل تھے۔واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے علاقہ کے موضع کیندکی میں جمعیۃ یوتھ کلب کے تحت گاؤں میں 25 ایکڑ زمین خرید کر اس پرا سکاؤٹ گائیڈ ٹریننگ سینٹر بنایا جا رہا ہے۔ جس کی ہندو تنظیموں کے جڑے لوگ مخالفت کررہے ہیں۔









