دیوبند(سمیر چودھری)
حکومت سعودیہ عربیہ کی طرف سے تبلیغی جماعت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی اور تبلیغی جماعت کو زہر آلود، مشرکانہ نظریات کا حامل، قبر پرست اور شدت پسند جماعت قرار دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ امام و خطیبوں کو نماز جمعہ میں لوگوں کو تلقین کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ مملکت سعودی عربیہ کے اس اقدام پرعظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند اور علماء دیوبند نے شدید تشویش، فکرمندی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور سعودی حکومت کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت امن اور خیرسگالی کا پیغام دیتی ہے۔ حکومت سعودی عرب کی اس قسم کی مذموم کارروائی سے دیگر ممالک میں بھی اس قسم کے اقدامات کی جرآت بڑھ سکتی ہے جو کسی بھی طور سے ٹھیک نہیں ہوگا،مملکت سعودیہ عربیہ کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
اس سلسلہ میںعالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے پریس کو جاری اپنے بیان میں مملکت سعود عربیہ کے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کامطالبہ کیاہے۔ جاری بیان میں مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مملکت سعودی عربیہ کے ذریعہ تبلیغی جماعت کے خلاف مہم جوئی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا محمد الیاسؒ دارالعلوم کے صدر المدرسین شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے تلامذہ میں سے تھے،انہوں نے تبلیغی جماعت قائم کی جس کے تحت اکابر کی مخلصانہ جد وجہد دینی وعملی اعتبار سے مفید رہی ہے،جزوی اختلافات کے باوجود جماعت اپنے مشن پر کام کر رہی ہے کم وبیش تمام عالم میں اس کا کام پھیلا ہوا ہے اس سے وابستہ افراد اور جماعت کے مجموعی مزاج پر شرک وبدعت اور دہشت گردی کا الزام قطعی بے معنی اور بے بنیاد ہے ۔دارالعلوم دیوبند اس کی مذمت کرتا ہے اور حکومت سعودی عربیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور تبلیغی جماعت کے خلاف اس قسم کی مہم سے اجتناب کرے۔
فاضل دارالعلوم دیوبند اور نامور قلم کار مولانا و ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے بارے میں جو موقف سعودی حکومت نے اختیار کیا ہے، وہ قابل مذمت ہے۔ تبلیغی جماعت پوری دنیا میں امن اور خیر سگالی کے ساتھ اپنادینی فریضہ انجام دیتی ہے۔ دین اور مسجدوں سے دور افراد کو نماز کے قریب لانے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سعودی عرب سے قبل تبلیغی جماعت کے منہج و مسلک پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا اسلئے ایسا معلوم ہوتاہے کہ سعوی حکوت کا یہ فیصلہ اسلام کے خلاف کسی بڑی سازش کا شاخسانہ ہے ملت اسلامیہ کے ذمہ داران کو اس کے سد باب کے لئے موثر کوشش کرنی چاہئے۔
ممتاز عالم دین اور نامور صاحب قلم مولانا ندیم الواجدی نے حکومت سعودی عرب کے اس فیصلے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت سے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کی امید نہیں تھی۔ تبلیغی جماعت کے سلسلہ میں سعودی حکومت کو کوئی موقف اختیار کرنا تھا تو برصغیر ہند و پاک او دیگر ممالک کے علماء سے پہلے اس کی تحقیق کر لینی چاہئے تھی۔سعودی حکومت کو دنیا کے اسلام مخالف معاملات پر بھی نظر رکھنی چاہئے، وہاں کے حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ تبلیغی جماعت جیسی حق پرست جماعت کے خلاف اس کی اس مہم کے عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی حکومت کے اس اقدام کا اثر دنیا کے دیگر ممالک میں بھی نظرآئے گا، وہاں بھی تبلیغی جماعت جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی محمد شریف خان قاسمی نے کہا کہ سعودی حکومت پوری دنیا کے مسلمانوں کی خیر خو اہ تھی اور عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت و ترویج میں کلیدی کردار ادا کرتی تھی لیکن آج اس کا رویہ افسوس ناک حد تک بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ تبلیغی جماعت کی حمایت میں تحریک چلائیں اور سعودی حکمرانوں کو اس پر کوئی غلط فہمی ہے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔









