نئی دہلی:(آر کے بیورو)
آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم وشو ہندو پریشد نے مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر زہر اگلا ہے جو ان کی سوچ اور خطرناک حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ وی ایچ پی نے 200 ملین سے زیادہ ہندوستانی مسلمانوں کو ’’کینسر‘‘ کے طور پر حوالہ دیا جو ’چوتھے مرحلے‘ تک پہنچ گیا ، اوراب ’کیمو تھراپی‘ کی ضرورت ہے۔
اتوار کو ناگپور میں وی ایچ پی کی ایک نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد جہاں اس کی مدر آرگنائزیشن آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر بھی ہے، تنظیم کے صدر رویندر نارائن سنگھ نے کہا کہ کینسر آزاد ہندوستان میں زندہ رہا اور’چوتھے اسٹیج‘تک پہنچ گیا، جسے اب ’کیموتھراپی‘ کی ضرورت ہے۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق وی ایچ پی کے رہنما مسٹرسنگھ نے جو پیشے سے ڈاکٹر ہیں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کا موازنہ’کینسر‘ کو ہٹانے کی سرجری سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو ہم نے مسلمانوں کے لیے الگ زمین دی تھی۔ یہ سمجھئے کے ہم اپنے دیش سے کینسر کو نکلنا چاہتے تھے (یہ ہمارے ملک سے اس کینسر کو ختم کرنے کے مترادف تھا)۔ لیکن، بدقسمتی سے، یہ کامیاب نہیں ہوا۔ کچھ مسلمان بھائی ہندوستان میں رہ گئے۔ ہم نے انہیں ‘’واسدھائیو کٹمبکم‘ (پوری دنیا خاندان ہے) اور ‘’اتتھی دیو بھا‘ (مہمان خدا ہے) کی ہندو روایت کے مطابق بڑے احترام کے ساتھ قبول کیا۔‘
لیکن ہم بھول گئے کہ کینسر دھیرے دھیرے بڑھتا ہے۔ آج 70 سال میں وہ چوتھے اسٹیج میں آ کر ہمارے پورے جسم میں پھیل چکا ہے۔ اس کینسر کو ہٹانے کے لیے اب ہمارے پاس بہت زیادہ متبادل نہیں ہیں ،اسے ہٹانے کے لیے کیموتھراپی کا انتظام کرنا ہے۔ ایسا علاج کرنا ہے کہ جسم بھی بچا رہے اور بیماری بھی ختم ہو،لیکن ہم بھول گئے کہ یہ کینسر آہستہ آہستہ بڑھتا ہےجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ہندوستان میں مسلمانوں کو کینسر کے طور پر بیان کر رہے ہیں، سنگھ نے کہا، ’میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ تو میں آپ کو صرف ایک مثال دے رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے انہیں کینسر کہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’مسلمانوں کے پاس امت کا تصور ہے، ان کے پاس قوم کا تصور نہیں ہے اور اس لیے ان کے پاس قوم پرستی کا تصور نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پوری دنیا کو ایک مذہب ہونا چاہیے۔
تاہم انہوں نے کہا: ’’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم 20 کروڑ مسلمانوں سے جان چھڑا لیں۔ آپ انہیں ملک چھوڑنے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کو ہمارے ساتھ رہنا چاہیے، جیسے کئی دریا گنگا میں مل جاتے ہیں اور پھر ایک ساتھ صرف گنگا بن کر بہتے ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم سے جو ٹکرا ئےگاوہ چورچور ہو جائے گا ۔ میں کہوں گا کہ ہم سے ٹکرانے والے ہم میں گھل جائیں گے، ہم میں ضم ہو جائیں گے۔









