لکھنؤ ؍لکھیم پور کھیری : (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ کسانوں کو مارنے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی پھٹکار، کسانوں اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد اس معاملے کے اہم ملزم آشیش مشرا کو پولس نے گرفتار کر لیاتھا۔ لیکن کسان اور اپوزیشن مسلسل آشیش مشرا کے باپ اور مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کو مودی کابینہ سے برخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آواز اٹھا رہے ہیں۔
اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری سانحہ کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ کسانوں کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ ایس آئی ٹی نے اب ملزمان پر لگائی گئی دفعات بھی تبدیل کر دی ہیں۔ مرکزی مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 ملزمان پر اب غیر ارادتاً قتل کی جگہ قتل کا مقدمہ چلے گا۔ آج ملزمان کی عدالت میں پیشی ہونی ہے۔
لکھیم پور سانحہ کے اہم ملزم آشیش مشرا سمیت 14 لوگوں پر جانچ کے بعد دفعات تبدیل کی گئی ہیں۔ تمام ملزمان پر دانستہ طور پر منصوبہ بنا کر جرم کرنے کا الزام ہے۔ ایس آئی ٹی نے تعزیرات ہند کی دفعات 279، 338، 304 اے کو ہٹا کر 307، 326، 302، 354، 120بی، 147، 148، 149، 3/25/30 عائد کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ اسی سال تین اکتوبر کو یوپی میں لکھیم پور کھیری کے تکونیہ میں چار کسانوں کو ایک ایس یو وی نے اس وقت روند دیا تھا، جب وہ ایک تقریب میں زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔ تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی بھی موجود تھے۔
واقعہ کے بعد تشدد میں مقامی صحافی رمن کشیپ سمیت کچھ دیگر لوگوں نے بھی اپنی جان گنوائی تھی۔ کسانوں کا الزام تھا کہ ایس یو وی اجے مشرا ٹینی کی تھی اور اس میں ان کا بیٹا آشیش مشرا موجود تھا۔ سپریم کورٹ میں معاملہ کی پہلی سماعت 8 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ تشدد کے بعد کئی دنوں کے بعد آشیش مشرا عرف مونو کو 9 اکتوبر کو کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ایس آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹویٹ کیا ہے۔ پرینکا نے کہا ہے کہ ‘عدالت کی سرزنش اور ستیہ گرہ کی وجہ سے اب پولس کا بھی کہنا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے نے سازش رچ کر کسانوں کو کچل دیا تھا۔ انکوائری ہونی چاہیے کہ اس سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کیا کردار تھا؟ لیکن مودی جی نے کسان مخالف ذہنیت کی وجہ سے انہیں عہدے سے بھی نہیں ہٹایا۔ اس واقعہ پر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی کے خلاف آواز بلند کی تھیں اور یوگی حکومت کو بری طرح گھیر لیا تھا۔
عدالت کا سخت موقف
لکھیم پور کھیری کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا رویہ مسلسل سخت رہا۔ عدالت نے ہر سماعت میں اترپردیش حکومت اور ریاستی پولیس پر سخت نکتہ چینی کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے اتر پردیش حکومت کو مزید گواہوں کی تلاش، پوچھ گچھ اور سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اترپردیش پولیس بغیر سوچے سمجھے کام کر رہی ہے اور کارروائی نہیں کرنا چاہتی اور اس طرح سے ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی ایک ملزم کو بچایا جا سکے۔









