اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مشترکہ جدو جہد یا آزاد ،الگ نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ساورکر پر راج ناتھ سنگھ کا بیان من گھڑت کہانی کو تاریخ بنانے کی کوشش:مولانا عبد الحمید نعمانی
109
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

قومی ملی سیاست میں با عزت زندگی کے لیے راستے طے کرنے اور مختلف امور میں انتخاب بڑا مسئلہ اور فیصلہ کن گھڑی ہوتی ہے ۔ تاریخ زہر کا پیالہ اور امرت دونوں کا مجموعہ ہوتی ہے ، غلطیوں سے سبق لیتے اور ان سے بچتے ہوئے بہتر حال اور اچھے مستقبل کے پیش نظر طریقہ کار طے کرنا دانش مندی کا تقاضا اور وقت کی ضرورت ہے ۔ یہ تو طے ہے کہ اب بھارت میں مسلم لیگ کے طرز پر صرف مسلمانوں اور ملت کے نام پر جداگانہ سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں رہ گئی ہے ، اگر ایسا نہیں ہے تو اس کے حوالے سے زیادہ باتوں کا کوئی معنی و مطلب بھی نہیں ہے ، گزرتے دنوں کے ساتھ سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے مسلمانوں (اور آدی واسیوں،دلتوںوغیرہ)کی ان دیکھی کر کے ملک کی اکثریت کی نظروں میں منظور و محبوب بننے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، ان کے پیش نظر اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ قیادت و نمائندگی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے، گزشتہ دنوں 12 سے 14نومبر2021 تک بہار کی راجدھانی پٹنہ اور پھلواری شریف میں آل انڈیا ملی کونسل کے سالانہ اجلاس میں ملک و ملت کے جو مختلف مسائل وامور پر تفصیلی اظہار خیالات کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے اہم تجاویز پیش ہو کر منظور ہوئیں،ان سے کئی موجودہ مسائل پر غور وفکر کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔8 اگست 2021 کو دہلی میں ، جس طور سے ملک کی تمام معروف تنظیموں اور موقر شخصیات کی طرف سے ملی اتحاد کی ضرورتوں اور وقت کے تقاضوں کے تناظر میں متفقہ موقف سامنے آیا تھا،اس کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے دیگرمشترکہ مقاصد و مسائل زیر جدو جہد لانے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے اس پر ملی کونسل کے سالانہ اجلاس میں بھی توجہ و زور دیکھنے میں آیا۔ ہمیں وقتی کام کے بجائے کچھ امور پر تسلسل کے ساتھ کام کرنے اور جدو جہد کرنی ہوگی،ماہ دسمبر2021 میں ہی مشاورت کی ورکنگ کمیٹی کے دہلی اجلاس اور جمعیة علما ہند کے کلکتہ اجلاس کی تجاویز اور فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے کے لیے متحدہ قدم اٹھانا ملک وملت کے حق میں بہتراور مفید ہی ہوگا ۔

مولانا خلیل الرحمنٰ سجا دنعمانی بھی اگست 2021 سے ملی اتحاد پروگرام کا حصہ رہے ہیں ، انھوں نے دیگر مواقع کے علاوہ ماہنامہ الفرقان بابت ماہ دسمبر2021 کے اداریے میں جس آزاد اور اصولی سوچ والی سیاسی پارٹی کی تشکیل کی بات کہی ہے ۔ اس کی بھی متحدہ کوشش و عمل ہی سے تشکیل ہو سکتی ہے۔اتنا بڑا فیصلہ ،کچھ لوگوں کی انفرادی رائے وکوشش سے نتیجہ خیز اورثمر آور نہیں ہو سکتا ہے ۔ کچھ برسوں پہلے ،جمعیة علما ہند نے مولانا اسعد مدنیؒ کی سربراہی میں حالات کو دیکھتے ہوئے سیکولر اقدار و روایات اور مشترکہ مقاصد و مسائل کو لے کر ایک سیاسی پارٹی کی تشکیل کی ضرورت پر توجہ مبذول کرائی تھی، لیکن کچھ وجوہ سے بات آگے نہیں بڑھ سکی، جس کام میں انصاف اور مسئلے کا حل نظر نہ آنے اس سے دوسروں کو جوڑنے اور سمجھانے کا عمل انتہائی مشکل ہوجاتا ہے ۔ مبینہ سیکولر پارٹیوں کی طرف سے کام اور باتوں کی باتیں بہت ہوئیں لیکن ان میں انصاف ،باعزت نمائندگی اور مسئلے کا حل نظر نہ آنے کے سبب کئی طرح کے مسائل پیدا بھی ہوئے اور مشکلات کا سامنا بھی، جمہوری نظام حکومت اور انتخابی سسٹم میں کسی بھی قابل ذکر اور موثر کمیونٹی اور اکائی کو نظر انداز کر کے جمہوری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا ہے آزادی اور تقسیم وطن کے ساتھ ہی آزاد بھارت کا منظر نامہ پوری طرح بدل جا چکا ہے ۔ ایسی حالت میں کیا طریقہ کار اقلیتوں اور محروم و پس ماندہ طبقات کے لیے ہونا چاہیے ،اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، اس سلسلے میں تذبذب،مبہم اورذو معنی باتیں کرنے سے کام نہیں چلے گا،اس سے مخاطب کو راستہ اور رائے قائم کرنے میں کئی طرح کی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بسا اوقات وہ انتشار و تذبذب میں مبتلا ہوکر مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں دو طرح کی تحریریں اور باتیں سامنے آرہی ہیں ، جن میں ملک کے نظام حکومت اور انتخابی طریق کار اور ان کے نتیجے میں پیدا شدہ حالات زیر بحث ہوتے ہیں ، اس کی بڑی حد تک نمائندگی ماہنامہ زندگی نو اور الفرقان میں شائع امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی اورمولانا خلیل الرحمن سجا د کی تحریریں کرتی ہیں ، جناب حسینی کی تحریر میں نقطہ نظر اور تنقید و تبصرہ کے ساتھ راستے ،منزل اور ضروری نکات کی متعین و واضح نشاندہی کی گئی ہے ، لیکن مولانا سجاد نعمانی کی تحریر میں راہ عمل کا واضح تعین اور ملک کے جمہوری نظام اور تکثیری سماج میں ایسی متناسب نمائندگی کی رہ نمائی نہیں ملتی ہے ۔ جس کی موجودگی میں ایک آزاد جمہوری ملک میں کسی گروہ، چاہے وہ اکثریت میں ہی کیوں نہ ہو کو دوسرے طبقات و گروہوں پر بالادستی قائم کرنے کا موقع نہ ملے ، اس سمت میں ایک نقشہ کار بناکر، متحدہ قومیت کے تصور کے تحت مولانا انور شاہ کشمیریؒ، مولانا آزادؒ، مولانا مدنی ؒ اور ان کے ہم خیال اکابر نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی ،لیکن بد قسمتی سے ملک کی تقسیم کے بعد بنایا نقشہ کار باقی نہیں رہ سکا،سابقہ نقشہ کار میں ابو المحاسن ،مولانا محمد سجاد بہاریؒ کے اس فارمولے کی پوری گنجائش تھی کہ کسی غیر مسلم پارٹی کے ٹکٹ پر مکمل سمجھوتا اور اطمینان کے بغیر مسلمان امیدوار الیکشن نہ لڑے ،کیوں کہ ایسی حالت میں امیدوار عموماً اپنے قومی و مذہبی مسائل کے لیے پارٹی مفادات کے سامنے مجبور رہے گا۔

مولانا سید محمد سجاد بہاریؒ کا سیاسی و وطنی نظریہ اور مسلمانوں کے سلسلے میں دینی و سماجی موقف کے تعلق سے پوری نہیں تو بڑی حد تک ضرورت بھر باتیں ہمارے سامنے مختلف شکلوں میں آچکی ہیں۔

ان کے حوالے سے یہ کہنا حقیقت پر مبنی نہیں ہے کہ پوری مسلم قوم کا کانگریس میں ضم کر دینے کے جمعیة علما ہند کے موقف سے مولانا محمد سجاد ؒ شدید اختلاف رکھتے تھے ، وہ جمعیة علما ہند کے بنیادی ارکان و رہ نماؤں میں سے ہونے کے ساتھ اس کی پالیسی سازی میں ان کا اہم کردار رہا ہے ، اولاً تو یہی بات خلاف حقیقت ہے کہ جمعیة علما ہند کا موقف پوری مسلم قوم کو کانگریس میں ضم کردینے کا تھا ، اس تناظر میں یہ دعوی مبنی پر دلیل نہیں رہ جاتا ہے کہ مولانا سجاد،ؒ جمعیة علما ہند کے موقف سے شدید اختلاف رکھتے تھے ، جمعیة علماءہند کی تاریخ اور اس کے مطبوعہ ،غیر مطبوعہ ریکارڈ میں اس طرح کی باتوں کا کوئی ذکر و حوالہ نہیں ہے ، اختلاف و اتفاق کو جمعیة علماہند اور اس کے دیگر رہ نماؤں ،سمیت مولانا مدنی ؒ ،امارت شرعیہ اور اس کے دیگر کلیدی عہدے داروں سمیت ابو المحاسن محمد سجادؒ کے درمیان اشتراک و اتحاد تھا ،اس تناظر میں تنظیم اور اس کے اکابر کو ایک دوسرے سے الگ دکھانے کی کوشش کوئی راست رویہ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔

البتہ مولانا محمد منظور نعمانی ؒ لیگ اور کانگریس ،جمعیة علما ہند میں سے کسی کے موقف و نقطہ نظر کے ساتھ پوری طرح کھڑے اور متفق نہیں تھے ۔ اس کی تصویب و تائید کے لیے مولانا محمد سجاد ؒ کے حوالے سے بحث زیادہ مفید و نتیجہ خیز نہیں ہوگی،خود مولانا سجاد نعمانی بھی تذبذب کے ساتھ بیچ بیچ میں چل رہے ہیں ، جہاں وہ ایک آزاد،اصولی سوچ والی اپنی سیاسی پارٹی کی تشکیل اور اسی کو طاقتور بنانا لازم بتارہے ہیں تووہیں دوسری طرف لکھ رہے ہیں کہ موجودہ نازک ترین اور پیچیدہ مرحلے سے گزرتے ہوئے فی الحال مسلمانوں کے لیے اپنی الگ سیاسی پارٹی کا ملک کے اکثر مقامات پر نقصان فائدے سے بہت زیادہ ہوگا،فی ا لحال اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم نہایت سمجھ داری کے ساتھ اس پارٹی کی حمایت کریں جو ہمارے لیے بہت زیادہ مفید نہیں تو بہت زیادہ نقصان دہ بھی نہیں ، سوال یہ ہے کہ1940ءمیں مولانا محمد سجادؒ کے انتقال کے بعد، ملک کی آزادی سے اب تک ملک و ملت کے اکابر اور مسلم جماعتوں اورتنظیموں کے ذمے داران اور کیا کچھ کرتے آرہے ہیں؟

ملت کا اصل مسئلہ کسی مزید الگ آزاد،اصولی سوچ والی اپنی پارٹی کی تشکیل کا نہیں ہے بلکہ موجود پارٹیوں ، تنظیموں اور وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے اور باہمی تعاون و اشتراک سے موثر جدو جہد کا ہے ۔ اس کے بغیر کسی آزاد اصول سو چ والی اپنی سیاسی پارٹی کی تشکیل اور موجودہ وفاق کا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوگا ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN